درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس میں نقصان نئی انکوائری کمیٹی قائم
ملوث کسٹمز افسران کیخلاف شواہد کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے نئی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت
پشاور وکراچی میں ایک ماڈل کی گاڑی پرالگ ڈیوٹی لے کرخزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا تھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 1900درآمدی گاڑیوں کی کسٹمزکلیئرنس میں 45کروڑروپے مالیت کے ریونیو نقصان کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ 3 رکنی کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کوغیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کوبتایاکہ کمیٹی کی جانب سے تیارکی جانے والی رپورٹ میں اعلیٰ افسران کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے جس پر ایف بی آرنے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کے احکام جاری کیے ہیں تاہم کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ کسٹمزافسران کے خلاف شواہد کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے نئی رپورٹ مرتب کرے۔ ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آرنے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین کی تعداد 3 سے 8کردی ہے جس میں کلکٹرکسٹمزایکسپورٹ واصف میمن، ایڈیشنل ڈائریکٹر کسٹمزانٹیلی جنس خلیل یوسفانی، ایڈیشنل ڈائریکٹرانٹرنل آڈٹ خالد جمالی کے علاوہ ڈپٹی کلکٹرعمرشفیع،اسسٹنٹ ڈائریکٹرآڈٹ عبدالمجید، اپریزر طارق عزیز، اپریزر زاہد عزیز اور سپرنٹنڈنٹ آڈٹ عبدالباری کوشامل کیاگیاہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آرنے تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کواحکام جاری کیے ہیںکہ وہ جون2012 تانومبر 2013کے دوران تعینات 2 کلکٹر اپریزمنٹ، 1 ڈپٹی کلکٹر، 1اسسٹنٹ کلکٹر، 4 پرنسپل اپریزراور 4اپریزنگ آفیسرکے خلاف شواہد کی جانچ پڑتال کرکے ازسرنو رپورٹ تشکیل دے۔ ذرائع نے بتایاکہ تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کی جانب سے بھی درست انداز میں شواہد کی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی تاہم اعلی افسران اور گریڈ 16کے افسران میں بھی ایک جنگ چل رہی ہے کیونکہ اعلیٰ افسران 45 کروڑروپے کے نقصان کی تمام ترذمے داری گریڈ16کے افسران پر ڈال رہے ہیں جس سے افسران کے درمیان ایک تنائوپیدا ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ درآمدکنندگان کی جانب سے وفاقی ٹیکس محتسب میں شکایت دائرکی گئی تھی کہ کراچی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس ایس آراو 1440(I)/2012 کے مطابق نہیںہوئی جس کے باعث کراچی اورپشاورمیں ایک ہی ماڈل کی گاڑیوںکی کلیئرنس پر الگ الگ ڈیوٹی کی ادائیگی کی گئی تاہم تحقیقات کرنے پر اس امرکی تصدیق ہوئی کہ پشاوراورکراچی میں ایک ماڈل کی گاڑی کی الگ الگ ڈیوٹی وصول کرکے قومی خزانہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا ہے جس پر وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آرکو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ معاملے کو ختم کرے لیکن محکمہ کسٹمزنے پٹیشن دائرکردی جو حقائق نہ ہونے کے باعث مستردکردی گئی جس پر ممبرکسٹمزنے محکمے کو مذکورہ معاملے پر رپورٹ تیارکرنے کی ہدایت کردی تھی۔
ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ویسٹ کی رپورٹ میں کہاگیاتھاکہ بے جاتبادلوں کے وجہ سے جون2012 تا نومبر 2013 کے دوران 1900گاڑیوں کی کلیئرنس پرمحکمہ کسٹمز کو 45کروڑمالیت کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میںکہاگیاتھا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ویسٹ میں گاڑیوںکلیئرنس کے متعلقہ گروپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہرکیس کا آڈٹ کرے اورکم ڈیوٹی کی وصولی پر کلیئرہونے والی گاڑیوں کے مالکان کو نوٹس جاری کرے۔رپورٹ کے مطابق 1397 گاڑیوںکے مالکان کو 32کروڑ80لاکھ مالیت کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ مالیت کے ڈیمانڈ نوٹس جلدہی جاری کردیے جائیں گے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کوبتایاکہ کمیٹی کی جانب سے تیارکی جانے والی رپورٹ میں اعلیٰ افسران کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے جس پر ایف بی آرنے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کے احکام جاری کیے ہیں تاہم کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ کسٹمزافسران کے خلاف شواہد کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے نئی رپورٹ مرتب کرے۔ ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آرنے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین کی تعداد 3 سے 8کردی ہے جس میں کلکٹرکسٹمزایکسپورٹ واصف میمن، ایڈیشنل ڈائریکٹر کسٹمزانٹیلی جنس خلیل یوسفانی، ایڈیشنل ڈائریکٹرانٹرنل آڈٹ خالد جمالی کے علاوہ ڈپٹی کلکٹرعمرشفیع،اسسٹنٹ ڈائریکٹرآڈٹ عبدالمجید، اپریزر طارق عزیز، اپریزر زاہد عزیز اور سپرنٹنڈنٹ آڈٹ عبدالباری کوشامل کیاگیاہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آرنے تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کواحکام جاری کیے ہیںکہ وہ جون2012 تانومبر 2013کے دوران تعینات 2 کلکٹر اپریزمنٹ، 1 ڈپٹی کلکٹر، 1اسسٹنٹ کلکٹر، 4 پرنسپل اپریزراور 4اپریزنگ آفیسرکے خلاف شواہد کی جانچ پڑتال کرکے ازسرنو رپورٹ تشکیل دے۔ ذرائع نے بتایاکہ تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کی جانب سے بھی درست انداز میں شواہد کی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی تاہم اعلی افسران اور گریڈ 16کے افسران میں بھی ایک جنگ چل رہی ہے کیونکہ اعلیٰ افسران 45 کروڑروپے کے نقصان کی تمام ترذمے داری گریڈ16کے افسران پر ڈال رہے ہیں جس سے افسران کے درمیان ایک تنائوپیدا ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ درآمدکنندگان کی جانب سے وفاقی ٹیکس محتسب میں شکایت دائرکی گئی تھی کہ کراچی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس ایس آراو 1440(I)/2012 کے مطابق نہیںہوئی جس کے باعث کراچی اورپشاورمیں ایک ہی ماڈل کی گاڑیوںکی کلیئرنس پر الگ الگ ڈیوٹی کی ادائیگی کی گئی تاہم تحقیقات کرنے پر اس امرکی تصدیق ہوئی کہ پشاوراورکراچی میں ایک ماڈل کی گاڑی کی الگ الگ ڈیوٹی وصول کرکے قومی خزانہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا ہے جس پر وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آرکو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ معاملے کو ختم کرے لیکن محکمہ کسٹمزنے پٹیشن دائرکردی جو حقائق نہ ہونے کے باعث مستردکردی گئی جس پر ممبرکسٹمزنے محکمے کو مذکورہ معاملے پر رپورٹ تیارکرنے کی ہدایت کردی تھی۔
ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ویسٹ کی رپورٹ میں کہاگیاتھاکہ بے جاتبادلوں کے وجہ سے جون2012 تا نومبر 2013 کے دوران 1900گاڑیوں کی کلیئرنس پرمحکمہ کسٹمز کو 45کروڑمالیت کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میںکہاگیاتھا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ویسٹ میں گاڑیوںکلیئرنس کے متعلقہ گروپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہرکیس کا آڈٹ کرے اورکم ڈیوٹی کی وصولی پر کلیئرہونے والی گاڑیوں کے مالکان کو نوٹس جاری کرے۔رپورٹ کے مطابق 1397 گاڑیوںکے مالکان کو 32کروڑ80لاکھ مالیت کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ مالیت کے ڈیمانڈ نوٹس جلدہی جاری کردیے جائیں گے۔