برازیل نے ورلڈ کپ کے دوران پولیس کو تنخواہیں بڑھانے کی پیشکش کردی
ہڑتال نہ کرنے کی شرط، ورلڈکپ میں شریک افراد کوسلامتی کی حکومتی ضمانت
ہڑتال نہ کرنے کی شرط، ورلڈکپ میں شریک افراد کوسلامتی کی حکومتی ضمانت۔ فوٹو: گیٹی
برازیل نے ورلڈ کپ کے دوران ہڑتال نہ کرنے پر پولیس کو تنخواہوں میں اضافے کی پیشکش کر دی، دوسری جانب صدر دلما روسیف نے ایک مرتبہ پھر میگا ایونٹ میں حصہ لینے والے افراد کو سلامتی کی ضمانت دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق برازیل میں ہڑتالوں کا موسم چھایا ہوا ہے، حکومت نے ورلڈ کپ کے دوران ایسا نہ کرنے کے بدلے وفاقی پولیس فورس کی تنخواہوں میں 15.8 فیصد اضافے کی پیشکش کر دی ہے، فیڈرل پولیس یونین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت براسیلیا کی پولیس اس پر رضامند ہے،آئندہ دنوں میں اسے منظوری کیلیے برازیل کی 26 ریاستوں میں پیش کرنے کاکہا گیا ہے۔ حکومت نے رواں برس کے اوائل میں ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے سیکیورٹی آپریشن پر 800 ملین ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، توقع ہے کہ 1 لاکھ 70 ہزار فوجی، پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز 12 میزبان شہروں میں تعینات ہوں گے ۔
دریں اثنا صدر فیفا سیپ بلاٹر کی طرف سے ورلڈ کپ ٹرافی پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر دلما روسیف نے کہاکہ میں تمام برازیلین عوام اور آنیوالے افراد کو یقین دہانی کراتی ہوں کہ ہمارا سیکیورٹی اسٹرکچر ہر شخص کو اطمینان فراہم کرنے کے ساتھ ایک کامیاب ٹورنامنٹ کے انعقاد پر پورا اترتا ہے ۔ انھوں نے12 جون سے 13 جولائی تک ہونے والے ایونٹ میں نسل پرستی کیخلاف پیغام کو موضوع بنانے کیلیے اپنی خواہش کا دوبارہ اظہار کیا ہے،روسیف نے کہا کہ میں تمام برازیلین عوام اور شریک ہونے والے بین الاقوامی شائقین کو بلا امتیاز نسل پرستی کیخلاف، امن کیلیے اس ورلڈ کپ میں پارٹنرز بننے کیلیے مدعو کرتی ہوں۔ اس موقع پر صدر فیفا سیپ بلاٹر نے کہا کہ برازیل فٹبال کی ایک عالمی طاقت لیکن اب ایک معاشی قوت بھی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق برازیل میں ہڑتالوں کا موسم چھایا ہوا ہے، حکومت نے ورلڈ کپ کے دوران ایسا نہ کرنے کے بدلے وفاقی پولیس فورس کی تنخواہوں میں 15.8 فیصد اضافے کی پیشکش کر دی ہے، فیڈرل پولیس یونین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت براسیلیا کی پولیس اس پر رضامند ہے،آئندہ دنوں میں اسے منظوری کیلیے برازیل کی 26 ریاستوں میں پیش کرنے کاکہا گیا ہے۔ حکومت نے رواں برس کے اوائل میں ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے سیکیورٹی آپریشن پر 800 ملین ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، توقع ہے کہ 1 لاکھ 70 ہزار فوجی، پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز 12 میزبان شہروں میں تعینات ہوں گے ۔
دریں اثنا صدر فیفا سیپ بلاٹر کی طرف سے ورلڈ کپ ٹرافی پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر دلما روسیف نے کہاکہ میں تمام برازیلین عوام اور آنیوالے افراد کو یقین دہانی کراتی ہوں کہ ہمارا سیکیورٹی اسٹرکچر ہر شخص کو اطمینان فراہم کرنے کے ساتھ ایک کامیاب ٹورنامنٹ کے انعقاد پر پورا اترتا ہے ۔ انھوں نے12 جون سے 13 جولائی تک ہونے والے ایونٹ میں نسل پرستی کیخلاف پیغام کو موضوع بنانے کیلیے اپنی خواہش کا دوبارہ اظہار کیا ہے،روسیف نے کہا کہ میں تمام برازیلین عوام اور شریک ہونے والے بین الاقوامی شائقین کو بلا امتیاز نسل پرستی کیخلاف، امن کیلیے اس ورلڈ کپ میں پارٹنرز بننے کیلیے مدعو کرتی ہوں۔ اس موقع پر صدر فیفا سیپ بلاٹر نے کہا کہ برازیل فٹبال کی ایک عالمی طاقت لیکن اب ایک معاشی قوت بھی ہے ۔