پروین رحمن قتل کیس میں عدم پیش رفت پرسپریم کورٹ برہم انکوائری افسر طلب
جے آئی ٹی بنانے کی استدعا مسترد،کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں کی سرزنش
پولیس کی نااہلی اور غیر ذمے داری نے کراچی شہرکا بیڑہ غرق کردیا ہے، سپریم کورٹ۔ فوٹو: فائل
KHAIRPUR:
سپریم کورٹ نے سماجی کارکن پروین رحمن قتل کیس میں پیش رفت نہ ہو نے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری افسر ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان علی خواجہ کوتمام تفصیلات سمیت طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے حقوق انسان کمیشن کے وکیل راحیل کامران کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کردی ہے اور کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں کی سخت سرزنش کی ہے ،عدالت نے آبزرویشن دی کہ انکوائری افسر موجود نہ ہو توتفتیش ہی رک جاتی ہے پولیس کی نااہلی اور غیر ذمے داری نے کراچی شہر کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔منگل کو پروین رحمن قتل کیس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی،اورنگی پولیس کے ایس پی احسن نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی دوبارہ انکوائری کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں ٹیم بناد ی گئی ہے۔
عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایاکہ پہلی تفتیش کے بعد نامعلوم افرادکے خلاف چالان جمع کیاجاچکاہے۔جسٹس چوہدری اعجاز نے کہا ابھی تک یہ پتہ نہیں چلایا جا سکاکہ قاتل کون ہے،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا پولیس جوکام نہیں کرنا چاہتی ہواسے اے کلاز میں شامل کردیا جاتا ہے،کراچی شہر میں قتل کے اسی فیصد مقدمے اے کلاز میں شامل کردیے جاتے ہیں جس نے شہرکوتباہ کرکے رکھ دیا ہے۔جب عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ آخری ڈائری کب درج کی گئی توجواب میں انھوں نے بتایا کہ انکوائری کے نگران افسر ڈی آئی جی خواجہ سلطان عمرہ پرگئے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے سماجی کارکن پروین رحمن قتل کیس میں پیش رفت نہ ہو نے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری افسر ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان علی خواجہ کوتمام تفصیلات سمیت طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے حقوق انسان کمیشن کے وکیل راحیل کامران کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کردی ہے اور کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں کی سخت سرزنش کی ہے ،عدالت نے آبزرویشن دی کہ انکوائری افسر موجود نہ ہو توتفتیش ہی رک جاتی ہے پولیس کی نااہلی اور غیر ذمے داری نے کراچی شہر کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔منگل کو پروین رحمن قتل کیس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی،اورنگی پولیس کے ایس پی احسن نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی دوبارہ انکوائری کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں ٹیم بناد ی گئی ہے۔
عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایاکہ پہلی تفتیش کے بعد نامعلوم افرادکے خلاف چالان جمع کیاجاچکاہے۔جسٹس چوہدری اعجاز نے کہا ابھی تک یہ پتہ نہیں چلایا جا سکاکہ قاتل کون ہے،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا پولیس جوکام نہیں کرنا چاہتی ہواسے اے کلاز میں شامل کردیا جاتا ہے،کراچی شہر میں قتل کے اسی فیصد مقدمے اے کلاز میں شامل کردیے جاتے ہیں جس نے شہرکوتباہ کرکے رکھ دیا ہے۔جب عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ آخری ڈائری کب درج کی گئی توجواب میں انھوں نے بتایا کہ انکوائری کے نگران افسر ڈی آئی جی خواجہ سلطان عمرہ پرگئے ہوئے ہیں۔