جینکوز پر 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس سیس تجویز

سی این جی، صنعت، کیپٹو پاور، واپڈا، کے الیکٹرک، آئی پی پیز، کمرشل صارفین پربھی اطلاق ہوگا، ایف بی آر

سی این جی، صنعت، کیپٹو پاور، واپڈا، کے الیکٹرک، آئی پی پیز، کمرشل صارفین پربھی اطلاق ہوگا، ایف بی آر فوٹو؛فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال 2014-15 کے وفاقی بجٹ میں او جی ڈی سی ایل کو پاور جنریشن کمپنیوں کو فروخت کی جانے والی گیس پر 300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔


تاہم ساتھ ہی سماجی اقتصادی ضروریات کے مطابق وفاقی حکومت کو کسی بھی کٹیگری کے صارف کے لیے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس میں کمی کرنے کا اختیار بھی دینے کی تجویز دی ہے جس کیلیے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ایکٹ 2011 میں ترامیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، فنانس بل 2014 میں فرٹیلازر فیڈ اسٹاک، فرٹیلائزر فیول اسٹاک، سی این جی، صنعتوں، کیپٹو پاور، واپڈا، کے الیکٹرک (سابق کے ای ایس سی)، پاور جنریشن کمپنیوں (جینکوز) نجی پاور کمپنیوں (آئی پی پیز)، کمرشل صارفین بشمول آئس فیکٹریوں اور سیمنٹ سیکٹر پر 300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فنانس بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ او جی ڈی سی ایل کے علاوہ اگر کوئی دوسری کمپنی سرکاری گزٹ میں جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی کٹیگری کے گیس صارفین کو گیس فروخت کرتی ہے تو اس کو بھی گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرکے وصول کرنا ہوگا اور وہ قومی خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔
Load Next Story