سوگوار فضا حصص مارکیٹ سنبھل نہ سکی مزید 52 پوائنٹس کم
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 52.75 پوائنٹس کی کمی سے29 ہزار 452 پر آگیا
انڈیکس 29452 پر بند، سرمایہ کاروں کو 12.78 ارب کا نقصان، 26 کروڑ حصص کے سودے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
متحدہ کے قائد الطاف حسین کی لندن میںگرفتاری کے بعد کراچی میں سوگوارفضا اور معمولات زندگی معطل ہونے کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پراعلان کردہ وفاقی بجٹ کے مطلوبہ اثرات مرتب نہ ہوسکے اوربدھ کو بھی اتارچڑھائو کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے تاہم مندی کے باوجود56.14 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں البتہ انڈیکس میں کمی کے سبب سرمایہ کاروں کے مزید12 ارب78 کروڑ88 لاکھ12 ہزار 931 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ متحدہ کے قائد کی گرفتاری کے بعد کیپٹل مارکیٹ میں غیریقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے حالانکہ اعلان کردہ بجٹ اقدامات جن میں ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے ترغیبات اور کیپٹل گینز ٹیکس کی شرح شامل ہیں مارکیٹ کے حق میں بہتر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیریقینی صورتحال کے باوجود بدھ کو بلحاظ سرمایہ کاری سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر سرفہرست شعبے رہے ہیں، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ49 لاکھ 23 ہزار 272 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر145.45 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے47 لاکھ13 ہزار450 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 77 لاکھ53 ہزار39 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے11 لاکھ66 ہزار 809 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے9 لاکھ15 ہزار458 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ74 ہزار516 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا کی وجہ سے مارکیٹ مندی کے زیراثر ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 52.75 پوائنٹس کی کمی سے29452.23 اورکے ایس ای 30 انڈیکس86.20 پوائنٹس کی کمی سے 20140.58 ہوگیا جبکہ اسکے برعکس کے ایم آئی30 انڈیکس19.41 پوائنٹس کے اضافے سے 47023.83 ہو گیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 18.76فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 25 کروڑ 99 لاکھ36 ہزار10 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار374 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں210 کے بھائو میں اضافہ، 146 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ متحدہ کے قائد کی گرفتاری کے بعد کیپٹل مارکیٹ میں غیریقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے حالانکہ اعلان کردہ بجٹ اقدامات جن میں ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے ترغیبات اور کیپٹل گینز ٹیکس کی شرح شامل ہیں مارکیٹ کے حق میں بہتر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیریقینی صورتحال کے باوجود بدھ کو بلحاظ سرمایہ کاری سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر سرفہرست شعبے رہے ہیں، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ49 لاکھ 23 ہزار 272 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر145.45 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے47 لاکھ13 ہزار450 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 77 لاکھ53 ہزار39 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے11 لاکھ66 ہزار 809 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے9 لاکھ15 ہزار458 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ74 ہزار516 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا کی وجہ سے مارکیٹ مندی کے زیراثر ہوگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 52.75 پوائنٹس کی کمی سے29452.23 اورکے ایس ای 30 انڈیکس86.20 پوائنٹس کی کمی سے 20140.58 ہوگیا جبکہ اسکے برعکس کے ایم آئی30 انڈیکس19.41 پوائنٹس کے اضافے سے 47023.83 ہو گیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 18.76فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 25 کروڑ 99 لاکھ36 ہزار10 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار374 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں210 کے بھائو میں اضافہ، 146 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔