سادہ لباس میں گارڈ رکھنے والے افراد کیخلاف کارروائی کی جائے وزیر اعلیٰ
ایسے عناصر کی وجہ سے شہریوں میں خوف بڑھتا ہے جس کو حکومت سندھ کسی صورت بھی برداشت نہیں کرے گی
بارش کے پانی کے ریلے کی نکاسی کے لیے شہری علاقوں میں قلیل المدتی حکمت عملی وضع کی جائے، قائم علی شاہ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کراچی میں گاڑیوں میں پولیس ،رینجرز اور رجسٹرڈ نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے وردی میں گارڈز کے بجائے غیر قانونی، نجی اور سادہ لباس میں گارڈ ز کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہوم سیکریٹری سندھ ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو ایسی گاڑیوں کے مالکان اور غیر قانونی گارڈز کے خلاف فوری کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی وجہ سے شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے جس کو حکومت سندھ کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور ایسے عناصر سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا ، دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے فتح جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے کانوائے پر بزدلانہ خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورانھوں نے شہادت پانے والے افسران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، انھوں نے کہا کہ شہدا نے ملک و قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے فورسز کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ،علاوہ ازیں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں سیلاب سے بچائو اور بندوں کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔
انھوں نے صوبائی محکمہ آبپاشی سے کہا کہ وہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فول پروف حکمت عملی وضع کریں اور ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی رابطے میں رہیں اور اپنے متعلقہ اضلاع میں کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں تاکہ سال 2010 جیسی صورتحال دوبارہ رونما نہ ہوسکے، انھوں نے یہ ہدایات آج وزیراعلیٰ ہائوس میں مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت علی نواز مہر ، صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز میر ہزار خان بجارانی ، صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن ، صوبائی میشر خزانہ سید مراد علی شاہ ، چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ملک اسرار ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات محمد وسیم خان ، سیکریٹری زراعت احمد بخش ناریجو ، سیکریٹری آبپاشی بابر آفندی ،سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر نیاز عباسی ، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز قاضی شاہد پرویز ، سیکریٹری ری ہیبلیٹیشن روشن شیخ ، سیکریٹری صحت اقبال درانی ، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت ، سیکریٹری خوراک نصیر جمالی ، کمشنر کراچی شعیب صدیقی اور دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ کمشنر لاڑکانہ ، سکھر ، حیدرآباد ، میر پورخاص نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے شہری انتظامیہ اور محکمہ بلدیات کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مون سون سے قبل اپنے نکاسی کے نظام اور قدرتی نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں، نکاسی کے نالوں پر قائم تجاوزات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کئی دہایئوں سے نالوں پر تجاوزات کے قیام کا سلسلہ جاری ہے،تجاوزات کے باعث 70 فٹ چوڑائی کے نالے سکڑ کراب صرف -10 فٹ کے رہ گئے ہیں لہذا اس صورت حال کومد نظر رکھ کر کے ایم سی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کو چاہیے کہ وہ بارش کے بھاری ریلے کی نکاسی کے لیے شہری علاقوں میں قلیل المدتی حکمت علمی وضح کرے، بڑے نالوں کوگندے پانی کی نکاسی کے لیے فعال بنانے کیلیے طویل المدتی حکمت عملی وضح کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی شعیب صدیقی کے سربراہی میں کمیٹی بھی شکیل دی جس میں بلدیات ، کے ایم سی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے نمائندے شامل ہوں گے،کمیٹی اس حوالے سے اقدامات تجویز کرے گی، وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات سے کہا کہ وہ اندرون سندھ حیدرآباد کے علاوہ صوبے کے تمام شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی کا بندوبست کریں اور تمام نالوں کی صفائی کرائے پانی نکالنے والی مشینوں کو درست حالت میں رکھیں اور اپنے تمام پمپنگ ہائوس کو فعال بنائیں جبکہ ممکنہ دریائی سیلابی صورت حال کے حوالے سے حفاظتی اقدامات سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2010 جسے سیلابی صورت حال سے بچنے کے لیے پانی کی پرانی گذر گاہوں کی بحالی اور حفاظتی بندوں کے پشتوں کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 3.5 ارب روپے نکاسی کے نظام کے ری موڈلنگ پر خرچ کیے گئے ہیں اور 1.5 ارب روپے ایل بی اوڈی کی اسپائنل ڈرین کی ایمرجنسی صفائی کے لئے خرچ کیے گئے جبکہ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 04 ارب روپے پانی کی پرانی گذر گاہوں کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس مقصد کے لیے آبپاشی کے ریگیولر بجٹ سے خطیر رقوم خرچ کی گئی ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فول پروف اور جامع حکمت عملی وضح کریں تاکہ کہیں پر بھی شگاف پڑنے کے واقعات رونمانہ ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری آبپاشی سے کہا کہ وہ سکھر بیراج کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک تک بڑھانے کے لیے ماڈل اسٹڈی کو جلد مکمل کر یں تاکہ ان پر عملی کام شروع کیا جا سکے،سیکریٹری آبپاشی بابر آفندی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایل بی ڈی او اسپینل کی ہنگامی صفائی اور نکاسی کے نیٹ ورک کی ری موڈلنگ05 ارب روپے سے مکمل ہو چکی ہے جبکہ پانی کی پرانی گذرگاہوں کی بحالی کی اسکیموں پر کام جاری ہے جس پر لاگت کا تحمینہ -4 بلین روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام حفاظتی بندوں کے پشتوں اور سکھر بیراج کی مضبوطی کے حوالے سے تمام تر اقدامات کرلئے گئے ہیں اور سکھر بیراج سے 12.5لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ برداشت کر سکتا ہے، انھوںنے واضح کیا کہ ایل بی او ڈی کے کچھ علاقوں کے علاوہ تین مقامات بشمول ٹھوڑی بندہ، قادرپور بند اور شینک بندوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں پر کام جاری ہے، سیکریٹری آبپاشی نے مزید بتایا کہ ان کا محکمہ1444کلو میٹر سیلاب سے بچاؤ کے بندوں کی دیکھ بہال کر رہا ہے اور اس کیلیے مزید فنڈز درکار ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ مون سون کے حوالے سے ایمرجنسی پلان تیار کر یں ، وزیراعلیٰ سندھ نے پی ڈی ایم اے سندھ ری ہیبلیٹیشن اور ریلیف کے محکموں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی اور باہمی روابط کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے بہتر طریقے سے نبردآزما ہوا جاسکے، ضلعی کونسلوں ، میونسپل کمیٹیوں اور ٹائون کمیٹیوں کے مالی اختیارات متعلقہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنروں اور اسیٹنٹ کمشنروں کو تضویض کر دیے گئے ہیں تاکہ علاقے میں صحیح طریقے سے ترقیاتی کام اور فنڈز کا شفاف طریقے سے استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر میں این ایس یو ایس کی کارکردگی پر عدم اطمینا ن کا اظہار کر تے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ اس ادارے سے معاہدہ ختم کرکے فعال اور موٗثر حکمت عملی سے کام چلایا جائے ، تاکہ سکھر کے شہر ی مسائل حل ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کراچی میں گاڑیوں میں پولیس ،رینجرز اور رجسٹرڈ نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے وردی میں گارڈز کے بجائے غیر قانونی، نجی اور سادہ لباس میں گارڈ ز کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہوم سیکریٹری سندھ ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو ایسی گاڑیوں کے مالکان اور غیر قانونی گارڈز کے خلاف فوری کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی وجہ سے شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے جس کو حکومت سندھ کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور ایسے عناصر سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا ، دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے فتح جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے کانوائے پر بزدلانہ خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورانھوں نے شہادت پانے والے افسران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، انھوں نے کہا کہ شہدا نے ملک و قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے فورسز کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ،علاوہ ازیں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں سیلاب سے بچائو اور بندوں کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔
انھوں نے صوبائی محکمہ آبپاشی سے کہا کہ وہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فول پروف حکمت عملی وضع کریں اور ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی رابطے میں رہیں اور اپنے متعلقہ اضلاع میں کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں تاکہ سال 2010 جیسی صورتحال دوبارہ رونما نہ ہوسکے، انھوں نے یہ ہدایات آج وزیراعلیٰ ہائوس میں مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت علی نواز مہر ، صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز میر ہزار خان بجارانی ، صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن ، صوبائی میشر خزانہ سید مراد علی شاہ ، چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ملک اسرار ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات محمد وسیم خان ، سیکریٹری زراعت احمد بخش ناریجو ، سیکریٹری آبپاشی بابر آفندی ،سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر نیاز عباسی ، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز قاضی شاہد پرویز ، سیکریٹری ری ہیبلیٹیشن روشن شیخ ، سیکریٹری صحت اقبال درانی ، سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت ، سیکریٹری خوراک نصیر جمالی ، کمشنر کراچی شعیب صدیقی اور دیگر افسران نے شرکت کی جبکہ کمشنر لاڑکانہ ، سکھر ، حیدرآباد ، میر پورخاص نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے شہری انتظامیہ اور محکمہ بلدیات کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مون سون سے قبل اپنے نکاسی کے نظام اور قدرتی نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں، نکاسی کے نالوں پر قائم تجاوزات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کئی دہایئوں سے نالوں پر تجاوزات کے قیام کا سلسلہ جاری ہے،تجاوزات کے باعث 70 فٹ چوڑائی کے نالے سکڑ کراب صرف -10 فٹ کے رہ گئے ہیں لہذا اس صورت حال کومد نظر رکھ کر کے ایم سی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کو چاہیے کہ وہ بارش کے بھاری ریلے کی نکاسی کے لیے شہری علاقوں میں قلیل المدتی حکمت علمی وضح کرے، بڑے نالوں کوگندے پانی کی نکاسی کے لیے فعال بنانے کیلیے طویل المدتی حکمت عملی وضح کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی شعیب صدیقی کے سربراہی میں کمیٹی بھی شکیل دی جس میں بلدیات ، کے ایم سی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے نمائندے شامل ہوں گے،کمیٹی اس حوالے سے اقدامات تجویز کرے گی، وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات سے کہا کہ وہ اندرون سندھ حیدرآباد کے علاوہ صوبے کے تمام شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی کا بندوبست کریں اور تمام نالوں کی صفائی کرائے پانی نکالنے والی مشینوں کو درست حالت میں رکھیں اور اپنے تمام پمپنگ ہائوس کو فعال بنائیں جبکہ ممکنہ دریائی سیلابی صورت حال کے حوالے سے حفاظتی اقدامات سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2010 جسے سیلابی صورت حال سے بچنے کے لیے پانی کی پرانی گذر گاہوں کی بحالی اور حفاظتی بندوں کے پشتوں کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 3.5 ارب روپے نکاسی کے نظام کے ری موڈلنگ پر خرچ کیے گئے ہیں اور 1.5 ارب روپے ایل بی اوڈی کی اسپائنل ڈرین کی ایمرجنسی صفائی کے لئے خرچ کیے گئے جبکہ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 04 ارب روپے پانی کی پرانی گذر گاہوں کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس مقصد کے لیے آبپاشی کے ریگیولر بجٹ سے خطیر رقوم خرچ کی گئی ہے،وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فول پروف اور جامع حکمت عملی وضح کریں تاکہ کہیں پر بھی شگاف پڑنے کے واقعات رونمانہ ہوسکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری آبپاشی سے کہا کہ وہ سکھر بیراج کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک تک بڑھانے کے لیے ماڈل اسٹڈی کو جلد مکمل کر یں تاکہ ان پر عملی کام شروع کیا جا سکے،سیکریٹری آبپاشی بابر آفندی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایل بی ڈی او اسپینل کی ہنگامی صفائی اور نکاسی کے نیٹ ورک کی ری موڈلنگ05 ارب روپے سے مکمل ہو چکی ہے جبکہ پانی کی پرانی گذرگاہوں کی بحالی کی اسکیموں پر کام جاری ہے جس پر لاگت کا تحمینہ -4 بلین روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام حفاظتی بندوں کے پشتوں اور سکھر بیراج کی مضبوطی کے حوالے سے تمام تر اقدامات کرلئے گئے ہیں اور سکھر بیراج سے 12.5لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ برداشت کر سکتا ہے، انھوںنے واضح کیا کہ ایل بی او ڈی کے کچھ علاقوں کے علاوہ تین مقامات بشمول ٹھوڑی بندہ، قادرپور بند اور شینک بندوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں پر کام جاری ہے، سیکریٹری آبپاشی نے مزید بتایا کہ ان کا محکمہ1444کلو میٹر سیلاب سے بچاؤ کے بندوں کی دیکھ بہال کر رہا ہے اور اس کیلیے مزید فنڈز درکار ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ مون سون کے حوالے سے ایمرجنسی پلان تیار کر یں ، وزیراعلیٰ سندھ نے پی ڈی ایم اے سندھ ری ہیبلیٹیشن اور ریلیف کے محکموں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی اور باہمی روابط کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے بہتر طریقے سے نبردآزما ہوا جاسکے، ضلعی کونسلوں ، میونسپل کمیٹیوں اور ٹائون کمیٹیوں کے مالی اختیارات متعلقہ علاقوں کے ڈپٹی کمشنروں اور اسیٹنٹ کمشنروں کو تضویض کر دیے گئے ہیں تاکہ علاقے میں صحیح طریقے سے ترقیاتی کام اور فنڈز کا شفاف طریقے سے استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر میں این ایس یو ایس کی کارکردگی پر عدم اطمینا ن کا اظہار کر تے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ اس ادارے سے معاہدہ ختم کرکے فعال اور موٗثر حکمت عملی سے کام چلایا جائے ، تاکہ سکھر کے شہر ی مسائل حل ہوسکیں۔