کسی بھی سرکاری ملازم کو طلب کر سکتے ہیں بیورو کریسی کام کے بجائے سیاست کر رہی ہے قائمہ کمیٹی
قائمہ کمیٹی پرچون کی دکان نہیں،جہاں آٹے،دال کابھاؤمعلوم کیاجاتاہے، طاہر مشہدی
سمری وزیراعظم کوبھجوادی،منصوبہ پہلی ترجیح ہے،وزیر پٹرولیم،گیس کے سیکڑوں، دیگر ہزاروں ترقیاتی منصوبے زیر التوا ہیں۔ فوٹو: فائل
قائمہ کمیٹی قواعد و ضوابط واستحقاق نے سینیٹر زاہد خان کے صوابدیدی فنڈ سے لوئردیر میں فراہمی گیس منصوبے کی رقم وزیراعظم سے منظوری حاصل نہ ہونے کے باوجود خرچ نہ کر نے اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کوقائمہ کمیٹی کے اجلاس میں باربار وضاحت کیلیے طلب کئے جانے کے باوجود عدم شرکت پرشدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی کااجلاس چیئرمین کمیٹی کرنل(ر)طاہرحسین مشہدی کی صدارت میں ہوا، ایڈیشنل سیکریٹری وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے آگاہ کیاکہ گیس کے سیکڑوں اور دوسرے محکمہ جات کے ہزاروں ترقیاتی منصوبے زیرالتوا ہیں، وزیراعظم کے سیکریٹری میں کام کا شدید دباؤ ہے جسکی وجہ سے مجوزہ منصوبے کی سمری وزیراعظم سے منظورنہ کروائی جاسکی، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری پارلیمنٹ کابے حد احترام کرتے ہیں،مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے اوریقین دلایا کہ سمری کی منظوری وزیراعظم سے جلدحاصل کرلی جائیگی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کرنل (ر) طاہرمشہدی نے کہاکہ وزیراعظم کاپرنسپل سیکریٹری پارلیمنٹ کے ماتحت ہے،کسی بھی سرکاری ملازم اور کسی بھی سرکاری دستاویزکی کمیٹی میں طلبی کاحکم دیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم پارلیمنٹ کاحصہ ہیں لیکن پارلیمنٹ سے بالا تر نہیں۔ سینیٹرجعفر اقبال نے کہا کہ بیوروکریسی کام کرنے کے بجائے سیاست کررہی ہے،سینیٹرسیدمظفرشاہ نے کہا کہ ذمہ داران سرکاری افسران کے بارے میں حکومت کووضاحت کرنی چاہئے،چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقاراور تقریم کاسوال ہے،قواعد میں ہرچیزواضح ہے ،قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آنیوالی سرکاری افسران کوآگاہ ہونا چاہیے کہ وہ پرچون کی دکان پرنہیں آتے جہاں آٹے، دال کابھاؤمعلوم کیاجاتاہے،وزیراعظم کوسمری نہ بھجوانے کا جواب دیناہوگا۔ وزیرپڑولیم نے کہاکہ سمری وزیراعظم کو بھجوادی گئی ہے،منصوبہ پہلی ترجیح ہے،چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ممبرسینٹ کااستحقاق مجروع ہواہے،کمیٹی کے اجلاس میں ہر دفعہ یقین دہانی کے باوجودمسئلہ حل نہیں ہوسکا،وزیر اعظم کااحترم ہے لیکن کمیٹی اورپارلیمنٹ کے احترام کوملحوظ خاطر رکھا جائے۔
کمیٹی کااجلاس چیئرمین کمیٹی کرنل(ر)طاہرحسین مشہدی کی صدارت میں ہوا، ایڈیشنل سیکریٹری وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے آگاہ کیاکہ گیس کے سیکڑوں اور دوسرے محکمہ جات کے ہزاروں ترقیاتی منصوبے زیرالتوا ہیں، وزیراعظم کے سیکریٹری میں کام کا شدید دباؤ ہے جسکی وجہ سے مجوزہ منصوبے کی سمری وزیراعظم سے منظورنہ کروائی جاسکی، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری پارلیمنٹ کابے حد احترام کرتے ہیں،مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے اوریقین دلایا کہ سمری کی منظوری وزیراعظم سے جلدحاصل کرلی جائیگی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کرنل (ر) طاہرمشہدی نے کہاکہ وزیراعظم کاپرنسپل سیکریٹری پارلیمنٹ کے ماتحت ہے،کسی بھی سرکاری ملازم اور کسی بھی سرکاری دستاویزکی کمیٹی میں طلبی کاحکم دیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم پارلیمنٹ کاحصہ ہیں لیکن پارلیمنٹ سے بالا تر نہیں۔ سینیٹرجعفر اقبال نے کہا کہ بیوروکریسی کام کرنے کے بجائے سیاست کررہی ہے،سینیٹرسیدمظفرشاہ نے کہا کہ ذمہ داران سرکاری افسران کے بارے میں حکومت کووضاحت کرنی چاہئے،چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقاراور تقریم کاسوال ہے،قواعد میں ہرچیزواضح ہے ،قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آنیوالی سرکاری افسران کوآگاہ ہونا چاہیے کہ وہ پرچون کی دکان پرنہیں آتے جہاں آٹے، دال کابھاؤمعلوم کیاجاتاہے،وزیراعظم کوسمری نہ بھجوانے کا جواب دیناہوگا۔ وزیرپڑولیم نے کہاکہ سمری وزیراعظم کو بھجوادی گئی ہے،منصوبہ پہلی ترجیح ہے،چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ممبرسینٹ کااستحقاق مجروع ہواہے،کمیٹی کے اجلاس میں ہر دفعہ یقین دہانی کے باوجودمسئلہ حل نہیں ہوسکا،وزیر اعظم کااحترم ہے لیکن کمیٹی اورپارلیمنٹ کے احترام کوملحوظ خاطر رکھا جائے۔