وفاقی بجٹ میں کراچی کے اہم منصوبوں کیلیے صرف ایک ارب 31 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں
بجٹ میں ناردرن بائی پاس کے لیے 10 کروڑ روپے اور لیاری ایکسپریس وے کیلیے ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے
گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم (کے فور)، لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ اورگریٹرکراچی سیوریج پلانٹ (ایس تھری) پروجیکٹس کیلیے 20,20کروڑ روپے، کراچی گوادر ریل منصوبے کی اسٹڈی کیلیے10کروڑ روپے مختص۔ فوٹو: فائل
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کراچی کے اہم منصوبوں کے لیے صرف ایک ارب 31 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی تا لاہور موٹر وے کیلیے 30ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، یہ رقم 959کلو میٹرطویل موٹروے کے لیے زمین کی خریداری، یوٹیلیٹیز لائنوں کی منتقلی اور راستے میں آنے والی آبادیوں کو تلافی پر خرچ کی جائے گی۔ کراچی تا لاہور موٹروے کا منصوبہ پاک چین اکنامک کوریڈور کا حصہ ہے جس کے لیے مالی وسائل چین کے بینکوں سے حاصل کیے جائیں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں کراچی تا حیدرآباد136کلومیٹر طویل موٹروے کی تعمیر کے لیے بھی30کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم زمین کی خریداری کے لیے خرچ کی جائیگی۔ اس منصوبے کی منظوری ایکنک نے جنوری 2010میں دی تھی اور اس وقت اس منصوبے کی لاگت کا کل تخمینہ13ارب 43 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔
بجٹ میں کراچی ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے 10کروڑ روپے اور لیاری ایکسپریس وے (16.5 کلو میٹر) کیلیے ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ بجٹ میں گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم (کے فور) کے لیے 20 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، گریٹرکراچی سیوریج پلانٹ (ایس تھری) کیلیے20کروڑ روپے، لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کے لیے20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، لاہور میں لگنے والے پاور پلانٹس کو ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیل کے منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی کے لیے15کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی کوگوادر سے بذریعہ ریل منسلک کرنے کے منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی کے لیے 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی تا لاہور موٹر وے کیلیے 30ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، یہ رقم 959کلو میٹرطویل موٹروے کے لیے زمین کی خریداری، یوٹیلیٹیز لائنوں کی منتقلی اور راستے میں آنے والی آبادیوں کو تلافی پر خرچ کی جائے گی۔ کراچی تا لاہور موٹروے کا منصوبہ پاک چین اکنامک کوریڈور کا حصہ ہے جس کے لیے مالی وسائل چین کے بینکوں سے حاصل کیے جائیں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں کراچی تا حیدرآباد136کلومیٹر طویل موٹروے کی تعمیر کے لیے بھی30کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم زمین کی خریداری کے لیے خرچ کی جائیگی۔ اس منصوبے کی منظوری ایکنک نے جنوری 2010میں دی تھی اور اس وقت اس منصوبے کی لاگت کا کل تخمینہ13ارب 43 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔
بجٹ میں کراچی ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے 10کروڑ روپے اور لیاری ایکسپریس وے (16.5 کلو میٹر) کیلیے ایک کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ بجٹ میں گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم (کے فور) کے لیے 20 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، گریٹرکراچی سیوریج پلانٹ (ایس تھری) کیلیے20کروڑ روپے، لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کے لیے20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ، لاہور میں لگنے والے پاور پلانٹس کو ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیل کے منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی کے لیے15کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی کوگوادر سے بذریعہ ریل منسلک کرنے کے منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی کے لیے 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔