اور کتنے چراغ گل ہونگے

پولیس افسران کو کراچی میں جاری بدامنی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے سدباب سے زیادہ کمائی سے دلچسپی ہے ۔۔۔

KARACHI:
روزنامہ ایکسپریس کی خبر کے مطابق مئی کے مہینے میں کراچی میں دہشت گردوں نے 167 افراد قتل کردیے جب کہ بم دھماکوں میں 7 شہری ہلاک ہوئے، پورے مئی میں صرف 27 مئی کا دن پرامن رہا جس دن کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوئی، البتہ دہشت گردوں نے مئی میں بلاامتیاز اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنایا جن میں آرمی اور نیوی کے جوان، پولیس افسر اور اہلکار، ڈاکٹر، وکیل، سرکاری ملازمین، عام شہری، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے عہدیدار و ارکان اور خواتین بھی شامل تھیں۔

مئی میں کیماڑی آئل ٹرمینل کے قریب آئل ٹینکر میں 3 دھماکے، نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈکوارٹرز پر بھی موٹرسائیکل بم دھماکا شامل ہے۔ اتحاد ٹاؤن میں پہلی بار بم دھماکے کے لیے گدھا گاڑی کو استعمال کیا گیا جس میں گدھا بھی ہلاک ہوا اور میمن گوٹھ میں پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے چھ افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ مئی میں بھتہ خوروں اور دہشت گردوں نے ڈیڑھ درجن سے زائد دستی بموں اورکریکر کے حملے کرکے 30 سے زائد افراد کو زخمی بھی کیا۔

مئی کے مہینے میں یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہوا جب کراچی میں رینجرز اور پولیس کا آپریشن بھی جاری تھا اور شہر میں جگہ جگہ رینجرز اور پولیس کی اسنیپ چیکنگ، چھاپے، محاصرے اور ٹارگٹڈ آپریشن بھی جاری تھا مگر پھر بھی شہر میں ٹارگٹ کلنگ، تشدد اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور 167 افراد کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا۔

کراچی کے شہری اس بات پر حیران ہیں کہ بڑی تعداد میں رینجرز اور پولیس کے دن رات جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود قتل و غارت گری، بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا سلسلہ بند ہونے میں کیوں نہیں آرہا۔شہر کے تاجروں کے پاس اب بھی بھتے کی پرچیاں اور فون آرہے ہیں اور کراچی انتظامیہ اس پر بھی قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور ٹارگٹڈ کلنگ تو دور کی بات اہم تجارتی اور صنعتی علاقوں سے بھتہ خوری بھی نہیں رکوائی جا سکی ہے۔ جس کے سدباب کے لیے کراچی کے صنعتکار اور تاجر متعدد بار احتجاج کرچکے ہیں مگر انتظامیہ اور حکومتی حلقوں کی طرف سے ماضی کی طرح کرائی جانے والی یقین دہانیاں اور پورے نہ ہونے والے بلند و بانگ دعوے ختم نہیں ہو رہے۔

وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی اور آئے دن کراچی کے دورے بھی حالات کو بہتر بنانے میں موثر ثابت نہیں ہو رہے اور وزیر اعظم کو یہ بتا کر مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کو بھی کراچی انتظامیہ سے باز پرس کرنی چاہیے کہ ان کے دعوؤں کے برعکس مئی میں 167 شہریوں کی ہلاکتیں کیوں ہوئیں اور بھتہ خوری کنٹرول کیوں نہیں ہو رہی۔


گزشتہ 6 ماہ کے دوران کراچی میں ناظم آباد وہ علاقہ ہے جہاں 38 شہریوں کو نشانہ بنایا گیا مگر ناظم آباد میں 38 ہلاکتوں کے باوجود خصوصی توجہ نہیں دی گئی۔ 3 ماہ قبل ناظم آباد کی اہم سیاسی و سماجی شخصیت حامد خان کو نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعد گول مارکیٹ جیسے پررونق علاقے میں دن دہاڑے قتل کیا گیا تھا۔ حامد خان کے قتل پر گول مارکیٹ جیسا اہم تجارتی علاقہ سوگ میں 3 روز مکمل بند رہا تھا ، جس کے بعد توقع تھی کہ انتظامیہ ناظم آباد کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر اقدامات کرے گی مگر کچھ نہیں ہوا اور 30 مئی جمعے کو ایک پرنسپل سمیت 6 شہری ہلاک ہوئے اور پرنسپل کو ناظم آباد میں ان کے بچوں کے سامنے نشانہ بنایا گیا۔

رینجرز اور پولیس کے جاری آپریشن کے دوران افسران اپنی پریس کانفرنسوں میں بڑے فخر سے جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاریاں ظاہر کرتے ہیں جن سے بھاری تعداد میں اسلحے کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے اور بعض ملزمان کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک دو نہیں درجنوں افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔ ایسے ملزموں کی گرفتاری پر محکمہ فوراً انعامات اور ترقیوں کا اعلان کردیتا ہے جن پر عمل بھی ہوجاتا ہے مگر بعد میں ایسے خطرناک قاتل قرار دیے جانے والوں پر ایک بھی قتل ثابت نہیں ہوتا اور وہ معمولی سزا کے بعد چھوٹ یا ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں مگر ان کے مقدمات کمزور کرنے والے سرکاری اہلکاروں کی معطلی ہوتی ہے اور نہ تنزلی۔

پولیس افسران کو کراچی میں جاری بدامنی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے سدباب سے زیادہ کمائی سے دلچسپی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ماہ پولیس اور رینجرز پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر حالات بہتر نہیں ہو رہے۔

سپریم کورٹ نے مشہور سماجی کارکن پروین رحمٰن کے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پولیس کی نااہلی اور غیر ذمے داری نے کراچی کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ یہ ریمارکس پروین رحمن کیس میں دیے۔ پروین رحمٰن کے قتل کا ایک سال میں بھی سراغ نہ لگایا جاسکا اور ان کا قتل کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے۔

کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور نہ جانے کتنے معروف اور غیر معروف افراد ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہنرمند، سماجی خدمات انجام دینے والے سماجی کارکن اور اب تو بچے اور خواتین بھی اپنی جانوں سے جاچکے اور اب یہاں گدھے سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں۔ بھاری سرکاری سیکیورٹی میں رہنے والوں کو بے گناہوں کی حفاظت کا حقیقی خیال نجانے کب آئے گا؟
Load Next Story