بجٹ میں بیورو کریسی نے ہاتھ دکھادیا وزیرخزانہ سے بات کرینگے صدر ایف پی سی سی آئی
کرپشن کیلیے خام مال پرڈیوٹی میں فرق رکھا گیا،غریب کے استعمال کے پام آئل سیڈز پرٹیکس حیرت انگیز ہے،زکریا عثمان
کرپشن کیلیے خام مال پرڈیوٹی میں فرق رکھا گیا،غریب کے استعمال کے پام آئل سیڈز پرٹیکس حیرت انگیز ہے،زکریا عثمان
وفاقی بجٹ میں بیوروکریسی نے کئی نکات پراپنا ہاتھ دکھا دیا اور بجٹ میں متعدد اناملیز سامنے آئی ہیں جس پروفاقی وزیرخزانہ سے براہ راست بات چیت کی جائے گی۔
یہ بات وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے صدر زکریا عثمان نے جمعرات کو فیڈریشن ہائوس میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر، سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی شوکت احمد بھی موجودتھے۔ زکریاعثمان نے کہا کہ بیوروکریسی نے بجٹ میں متعدد نکات اپنے مفاد میں شامل کیے ہیں، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پام آئل سیڈز پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جوہرغریب فرد کے استعمال میں آتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کرپشن قائم رکھنے کے لیے بجٹ میں ڈیوٹیوں میں فرق رکھا گیا ہے، خام مال پر ڈیوٹی کی شرح ایک ہی ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے شیڈو بجٹ میں ٹیکس ریونیو کے اہداف3.1 کھرب روپے مقرر کیے تھے جبکہ حکومت نے بھی تقریباً یہی ہدف مقررکیا ہے، ایف پی سی سی آئی نے جاری اخراجات کا تخمینہ3.1 کھرب روپے دیا اور یہ بھی حکومتی ہدف کے بالکل مطابق ہے، اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی نے دفاع کے اخراجات کا تخمینہ 702 ارب روپے رکھا اور حکومت نے بجٹ میں 700 ارب روپے مقرر کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اورایف پی سی سی آئی کی سفارشات کے درمیان جو فرق ہے وہ ترقیاتی اخراجات کے اہداف میں ہے، حکومت نے بجٹ میں کچھ ایسے اقدامات لیے ہیں جس کی وجہ سے یقینا بہتری آئے گی جن میں برآمدات کیلیے مارک اپ کی شرح میں کمی، لوکل ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ایگزم بینک کا قیام، ٹیکسٹائل ورکرز کے لیے ووکیشنل ٹریننگ پروگرام، 2 سال کے لیے ٹیکسٹائل مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اور دیگر اقدامات شامل ہیں، ایگزم بینک کا قیام ایکسپورٹ کے شعبے کی ترقی کیلیے معاون ہوگا، پھلوں کی ایکسپورٹ کیلیے اقدامات قابل ستائش ہیں، ہمیں بڑے انجینئرز کی نہیں بلکہ تربیت یافتہ صنعتی ورکرز کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ حکومت ریونیو دینے والوں پر سے تلوار ہٹائے۔
زکریا اعثمان نے کہا کہ ہم فلائننگ انوائسز اور غلط ریفنڈز کے خلاف ہیں، حکومت ہم سے پوچھے تو ہم بتائیں گے کہ کون سے کام غلط ہیں لیکن ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے، سی این جی پر ٹیکس میں اضافہ ناقابل قبول ہے جبکہ بونس شیئرز پر بھی ٹیکس کا نفاذ بے معنی ہے، حکومت نے ایسی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی لگائی ہے جن کی درآمدات روکی نہیں جائے گی۔
یہ بات وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے صدر زکریا عثمان نے جمعرات کو فیڈریشن ہائوس میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر، سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی شوکت احمد بھی موجودتھے۔ زکریاعثمان نے کہا کہ بیوروکریسی نے بجٹ میں متعدد نکات اپنے مفاد میں شامل کیے ہیں، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پام آئل سیڈز پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جوہرغریب فرد کے استعمال میں آتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کرپشن قائم رکھنے کے لیے بجٹ میں ڈیوٹیوں میں فرق رکھا گیا ہے، خام مال پر ڈیوٹی کی شرح ایک ہی ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے شیڈو بجٹ میں ٹیکس ریونیو کے اہداف3.1 کھرب روپے مقرر کیے تھے جبکہ حکومت نے بھی تقریباً یہی ہدف مقررکیا ہے، ایف پی سی سی آئی نے جاری اخراجات کا تخمینہ3.1 کھرب روپے دیا اور یہ بھی حکومتی ہدف کے بالکل مطابق ہے، اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی نے دفاع کے اخراجات کا تخمینہ 702 ارب روپے رکھا اور حکومت نے بجٹ میں 700 ارب روپے مقرر کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اورایف پی سی سی آئی کی سفارشات کے درمیان جو فرق ہے وہ ترقیاتی اخراجات کے اہداف میں ہے، حکومت نے بجٹ میں کچھ ایسے اقدامات لیے ہیں جس کی وجہ سے یقینا بہتری آئے گی جن میں برآمدات کیلیے مارک اپ کی شرح میں کمی، لوکل ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ایگزم بینک کا قیام، ٹیکسٹائل ورکرز کے لیے ووکیشنل ٹریننگ پروگرام، 2 سال کے لیے ٹیکسٹائل مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اور دیگر اقدامات شامل ہیں، ایگزم بینک کا قیام ایکسپورٹ کے شعبے کی ترقی کیلیے معاون ہوگا، پھلوں کی ایکسپورٹ کیلیے اقدامات قابل ستائش ہیں، ہمیں بڑے انجینئرز کی نہیں بلکہ تربیت یافتہ صنعتی ورکرز کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ حکومت ریونیو دینے والوں پر سے تلوار ہٹائے۔
زکریا اعثمان نے کہا کہ ہم فلائننگ انوائسز اور غلط ریفنڈز کے خلاف ہیں، حکومت ہم سے پوچھے تو ہم بتائیں گے کہ کون سے کام غلط ہیں لیکن ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے، سی این جی پر ٹیکس میں اضافہ ناقابل قبول ہے جبکہ بونس شیئرز پر بھی ٹیکس کا نفاذ بے معنی ہے، حکومت نے ایسی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی لگائی ہے جن کی درآمدات روکی نہیں جائے گی۔