سمر کیمپ کا اختتام کھلاڑیوں کے چہرے کھل اٹھے
میڈیا کو ایک ماہ پر محیط سرگرمیوں کی ویڈیو دکھائی گئی، مطلوبہ نتائج پالیے،اکرم
کیمپ کے دوران فٹبال میچ کا ایک منظر، یونس خان گیند لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، فواد عالم بھی ساتھ موجود۔ فوٹو: ایکسپریس
قومی کرکٹرز کے سمر کنڈیشننگ کیمپ اختتام پزیر ہوگیا اور سخت گرمی میں ٹریننگ سے پریشان کھلاڑیوں کے چہرے بھی کھل اٹھے۔
ٹریننگ سشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اکرم نے کہا کہ بیشتر کھلاڑیوں کی فٹنس مطلوبہ معیار کے مطابق ہے تاہم جن کی تھوڑی کم نظر آئی انھیں مستقبل کا پلان دیدیا گیا ہے، وہ اس پر عمل در آمد کرکے اسے مزید بہتر بنائیں گے۔ اکرم نے کہا کہ کیمپ کے پہلے ہفتے میں کھلاڑیوں کو ٹریننگ کے دوران مسائل ہوئے لیکن بعد میں وہ اس سے لطف اندوز ہوتے رہے، یونس خان اور کپتان مصباح الحق سمیت سینئر کرکٹرز جونیئرز کیلیے مثال بنے رہے،آئندہ قومی ٹیم کیلیے انتخاب میں فٹنس کا اہم کردار ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ کیمپ کے دوران ملکی اور غیر ملکی ماہرین کے مشوروں سے بنائے گئے ٹریننگ پلان سے بہتری کی طرف گامزن ہوگئے ہیں،کرکٹرز کو پہلی بار انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں جیسی ٹریننگ اور سہولت مہیا کی گئی،اس سے ان کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بہتری آنے کے ساتھ ٹیسٹ میں لمبی اننگز کھیلنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی، ٹریننگ کا سلسلہ جونیئر کھلاڑیوں تک پھیلایا جا رہا ہے، ریجنز میں بھی ایسی ہی سرگرمیاں شروع ہونگی۔ محمد اکرم نے کہاکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے سے جو نقصان ہوا اس کا ازالہ کرنے کیلیے این سی اے کو زیادہ فعال اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کام کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چند کھلاڑی 40سال کے ہیں،وہ زیادہ سے زیادہ 3سال تک مزید کھیل سکتے ہیں،پھر بھی انھوں نے کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کیا، یونس خان کی طرف سے 10سال کھیلنے کے دعوے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کھلاڑی زیادہ عمر کا ہو یا کم، فٹ اور اچھی پرفارمنس دکھانے والا ٹیم کا حصہ ہوگا۔
ٹریننگ سشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اکرم نے کہا کہ بیشتر کھلاڑیوں کی فٹنس مطلوبہ معیار کے مطابق ہے تاہم جن کی تھوڑی کم نظر آئی انھیں مستقبل کا پلان دیدیا گیا ہے، وہ اس پر عمل در آمد کرکے اسے مزید بہتر بنائیں گے۔ اکرم نے کہا کہ کیمپ کے پہلے ہفتے میں کھلاڑیوں کو ٹریننگ کے دوران مسائل ہوئے لیکن بعد میں وہ اس سے لطف اندوز ہوتے رہے، یونس خان اور کپتان مصباح الحق سمیت سینئر کرکٹرز جونیئرز کیلیے مثال بنے رہے،آئندہ قومی ٹیم کیلیے انتخاب میں فٹنس کا اہم کردار ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ کیمپ کے دوران ملکی اور غیر ملکی ماہرین کے مشوروں سے بنائے گئے ٹریننگ پلان سے بہتری کی طرف گامزن ہوگئے ہیں،کرکٹرز کو پہلی بار انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں جیسی ٹریننگ اور سہولت مہیا کی گئی،اس سے ان کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بہتری آنے کے ساتھ ٹیسٹ میں لمبی اننگز کھیلنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی، ٹریننگ کا سلسلہ جونیئر کھلاڑیوں تک پھیلایا جا رہا ہے، ریجنز میں بھی ایسی ہی سرگرمیاں شروع ہونگی۔ محمد اکرم نے کہاکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے سے جو نقصان ہوا اس کا ازالہ کرنے کیلیے این سی اے کو زیادہ فعال اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کام کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چند کھلاڑی 40سال کے ہیں،وہ زیادہ سے زیادہ 3سال تک مزید کھیل سکتے ہیں،پھر بھی انھوں نے کسی سستی کا مظاہرہ نہیں کیا، یونس خان کی طرف سے 10سال کھیلنے کے دعوے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کھلاڑی زیادہ عمر کا ہو یا کم، فٹ اور اچھی پرفارمنس دکھانے والا ٹیم کا حصہ ہوگا۔