امریکا کے جارحانہ عزائم

ایران کا یہ بھی اعلان ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کو انسانیت کے خلاف جُرم تصور کرتا ہے

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فورسز پر اندرونی حملوں کے اثرات سے امریکا کو کافی تشویش لاحق ہے. فوٹو: فائل

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے متعلق ''ریڈ لائن'' کھینچنے کے اسرائیلی مطالبے کا مقصد امریکا کو اس سے الگ رکھنا ہے لیکن اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دورہ چین کے دوران امریکی وزیردفاع نے اپنے چینی ہم منصب جنرل لیونگ گوانگ لی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے علاوہ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فورسز پر اندرونی حملوں کے اثرات سے امریکا کو کافی تشویش لاحق ہے۔ اس سوال پر کہ کیا اس سے 2014ء تک افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا، جنرل پنیٹا نے کہا ان تمام مشکلات کے باوجود 2014ء کے آخر تک افغانستان کا کنٹرول افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا، البتہ امریکا وہاں اپنے اڈے ضرور قائم رکھے گا۔


ادھر امریکا اور اس کے اتحادیو ںنے خلیج فارس میں بحری مشقیں شروع کر دی ہیں جس کے جواب میں ایران نے بھی ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی آبدوزیں خلیج فارس میں روانہ کر دی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایران نے ابتدائی طور پر بندر عباس پر تین آبدوزیں تعینات کی ہیں۔ روسی ساخت کی یہ آبدوزیں ایران نے 1990ء میں خریدی تھیں۔

ادھر افغانستان میں مشکلات اور مسائل کا شکار ہونے کے باوجود امریکا ایران کے خلاف بھی اپنے دانت تیز کر رہا ہے، لیکن ایران سے چھیڑ چھاڑ کا آغاز وہ اسرائیل کے ذریعے کروانا چاہتا ہے۔ امریکا نے عراقی تیل پر قبضے کے لیے جس طرح صدام حسین کے خلاف وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا تھا اسی طرح ایران پر ایٹم بم تیار کرنے کی کوشوں کا الزام عاید کر کے اس کے خلاف عالمی پابندیاں لگوا رہا ہے تاکہ ایران پر حملے کا جواز پیدا ہو سکے۔

جب کہ ایران کا برملا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام قطعی طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے جو وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے چلا رہا ہے۔ ایران کا یہ بھی اعلان ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کو انسانیت کے خلاف جُرم تصور کرتا ہے جب کہ اس پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عاید کرنے والے امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے اسلحہ خانوں میں جوہری ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو امریکا اپنی جارحانہ پالیسی سے مسلم ممالک میں بحران پیدا کررہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساری دنیا بھی متاثر ہورہی ہے۔یہ صورتحال عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ امریکا کو اس جارحانہ پالیسی میں تبدیلی کرنا چاہیے تاکہ دنیا جنگ وجدل اور دہشت گردی کے خطرات سے آزاد ہوسکے۔
Load Next Story