پاکستان کے راجہ
کئی پاکستانی رہنما بنگلہ دیش تسلیم نہ کرنے کے جرم میں وہیں سزا پا گئے اور باقی ماندہ پاکستان نہ دیکھ سکے
Abdulqhasan@hotmail.com
اگر پاکستانیت کسی غیر مسلم کی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے تو مشرقی پاکستان کے بدھ مت کے پیرو کار راجہ تری دیو رائے اس کے اولین مستحق ہیں ۔
چٹا گانگ کے چکمہ قبیلے کے سردار راجہ صاحب سے میری پہلی ملاقات ڈھاکہ کلب میں ہوئی تھی۔ میں وہاں ائر مارشل اصغر خان کی سیاسی سرگرمی کے عروج کے دور میں ان کے ہمرکاب تھا یعنی مغربی پاکستان میں ان کی خبریں بھیجنے پر مامور تھا۔
میں آج کے اخباری رپورٹر حضرات کے لیے عرض کرتا ہوں کہ وہ اگر سیاسی رپورٹنگ کرتے ہیں تو سیاستدانوں کا بھرپور اعتماد بھی حاصل کریں، اس سے ان کے کام میں آسانی اور وقار پیدا ہو گا۔ کسی مناسب وقت پر میں اس اعتماد کی برکات کا ذکر بھی کروں گا۔ فی الحال راجہ صاحب کے لیے سوگواری کر لیں۔ ڈھاکہ کلب میں راجہ صاحب بھی تشریف فرما تھے اور میں ان کے قریب کی نشست پر بیٹھا تھا۔
میں نے ان کی تعریف پوچھی تو نصف بازوئوں والی بش شرٹ کے بے تکلف لباس میں ملبوس انھوں نے مجھے اپنا نام بتایا۔ 'تری دیو رائے' افسوس کہ میں اس وقت تک اس عظیم پاکستانی کا نام نہیں جانتا تھا۔ میں نے پوچھا ،آپ کیا کرتے ہیں، مصروفیت کیا ہے۔ ان کا جواب تھا، میں ایک ریاست کی دیکھ بھال کرتا ہوں جس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں کسی ادارے کا مینجر ہوں۔
ایک صاحب جو یہ گفتگو سن رہے تھے، مجھ سے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ جناب تری دیو چکمہ ریاست کے والی اور چکمہ قبیلے کے سردار ہیں۔ میں نے اٹھ کر ادب پیش کیا، لا علمی کی معذرت کی۔ انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور پھر پاکستان کی سیاست کی کچھ باتیں شروع ہو گئیں۔ میں مشرقی پاکستان کے اس مختصر سیاسی دورے کے بعد اپنے میزبان کے ساتھ واپس چلا آیا۔ اس سفر میں چٹا گانگ بھی جانا ہوا تو میں نے وہاں چکمہ قبیلے کا پوچھا تو معلوم ہوا، یہ ایک پہاڑی قبیلہ ہے اور بدھ مت کا پیروکار ہے۔
جب کسی بھی پاکستانی کے لیے ناقابل فراموش اور انتہائی اذیت ناک سانحہ سقوط ڈھاکہ پیش آیا تو راجہ صاحب سے بھی رابطے منقطع ہو گئے لیکن ایک دن معلوم ہوا کہ راجہ صاحب تو اپنا قبیلہ سرداری اور قبائلی حکومت چھوڑ کر پاکستان آ گئے ہیں۔ یہ ایک عجوبہ تھا، ایک ناقابل یقین واقعہ۔ اس کا جتنا ذکر کریں کم ہے اور جس قدر تعجب کا اظہار کریں وہ اس واقعہ کی حیرت میں کمی نہیں کر سکتا۔
مشرقی پاکستان کے دو بڑے پاکستانی مغربی پاکستان آنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک جناب نور الامین دوسرے راجہ صاحب۔ کئی پاکستانی رہنما بنگلہ دیش تسلیم نہ کرنے کے جرم میں وہیں سزا پا گئے اور باقی ماندہ پاکستان نہ دیکھ سکے۔ قائداعظم کے پاکستان پر قربان ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو جو بالآخر پاکستان کا وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گئے تھے، انھوں نے ان دونوں پاکستانیوں کی خوب عزت افزائی کی۔
جناب نور الامین کو پاکستان میں دوسرا بڑا منصب دیا اور راجہ صاحب کو تا عمر وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ آج جب اس آباد پاکستان سے لوگوں کے بھاگنے کی اطلاع ملتی ہے تو مجھے راجہ صاحب یاد آتے ہیں جو قبائلی نوابی اور سرداری چھوڑ کر از خود پاکستان آ گئے تھے۔ پاکستان نے انھیں جو کچھ دیا وہ مشرقی پاکستان میں اس سے زیادہ ان کے پاس پہلے سے موجود تھا۔
تا عمر سرداری اور ایک نوا بانہ زندگی، میں سوچتا ہی رہا کہ کسی دن راجہ صاحب کے ساتھ تفصیل کے ساتھ ملاقات کروں لیکن فضول کاموں میں وقت ضایع ہوتا رہا، تاریخ کا ایک دور قلمبند کرنے کی سعادت نہ مل سکی، راجہ صاحب سے اب کون مل سکے گا۔
راجہ صاحب ہمارے سفیر بھی ہو گئے تھے۔ وہ لاطینی امریکا کے کسی ملک کے غالباً برازیل میں سفیر تھے کہ ان کے بارے میں ایک خبر چھپی جس کا ذکر میرے کالم میں بھی آیا۔ راجہ صاحب نے برازیل سے ایک خط لکھا۔ میں نے جوابی شکریہ ادا کیا، ان کا پیغام ملا کہ اسلام آباد میں ملاقات ہو گی جو کبھی نہ ہو سکی اور راجہ صاحب نے اپنا قبیلہ خاندان اور ریاست جس ملک کے لیے چھوڑی تھی اس کی سر زمین پر ہی آخری سانس لے لی۔
سنا ہے کچھ عرصہ سے حکومت وقت نے ان سے بے اعتنائی برتنی شروع کر دی تھی ۔کوئی خالص پاکستانی حکومت جس کے حکمرانوں کے ذہنوں اور دلوں کے کسی گوشے میں ہندوستان کے علاوہ پرانا پاکستان بھی ہو، وہ راجہ صاحب جیسی یاد گار پاکستان شخصیت سے روگردانی نہیں کر سکتی لیکن سنتے ہیں کہ ایسا ہوا ہے اور اگر ہوا ہے تو بہت برا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کے ساتھ برائی کرنے والی بات ہے لیکن کون سا پاکستان؟
اطلاعات ہیں کہ راجہ صاحب کے ایک صاحبزادے اپنے والد کی آخری رسومات اپنے چکمہ قبیلے کے ہاں بنگلہ دیش میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ معلوم نہیں راجہ صاحب کی کوئی ایسی وصیت تھی یا نہیں لیکن وہ جب تک زندہ رہے، پاکستان میں رہے جس حال میں بھی رہے پاکستانی بن کر رہے۔ مشرقی پاکستان کے چکمہ قبیلے کے سردار راجہ تری دیو رائے زندہ باد۔ پاکستان کے راجہ زندہ باد۔
چٹا گانگ کے چکمہ قبیلے کے سردار راجہ صاحب سے میری پہلی ملاقات ڈھاکہ کلب میں ہوئی تھی۔ میں وہاں ائر مارشل اصغر خان کی سیاسی سرگرمی کے عروج کے دور میں ان کے ہمرکاب تھا یعنی مغربی پاکستان میں ان کی خبریں بھیجنے پر مامور تھا۔
میں آج کے اخباری رپورٹر حضرات کے لیے عرض کرتا ہوں کہ وہ اگر سیاسی رپورٹنگ کرتے ہیں تو سیاستدانوں کا بھرپور اعتماد بھی حاصل کریں، اس سے ان کے کام میں آسانی اور وقار پیدا ہو گا۔ کسی مناسب وقت پر میں اس اعتماد کی برکات کا ذکر بھی کروں گا۔ فی الحال راجہ صاحب کے لیے سوگواری کر لیں۔ ڈھاکہ کلب میں راجہ صاحب بھی تشریف فرما تھے اور میں ان کے قریب کی نشست پر بیٹھا تھا۔
میں نے ان کی تعریف پوچھی تو نصف بازوئوں والی بش شرٹ کے بے تکلف لباس میں ملبوس انھوں نے مجھے اپنا نام بتایا۔ 'تری دیو رائے' افسوس کہ میں اس وقت تک اس عظیم پاکستانی کا نام نہیں جانتا تھا۔ میں نے پوچھا ،آپ کیا کرتے ہیں، مصروفیت کیا ہے۔ ان کا جواب تھا، میں ایک ریاست کی دیکھ بھال کرتا ہوں جس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں کسی ادارے کا مینجر ہوں۔
ایک صاحب جو یہ گفتگو سن رہے تھے، مجھ سے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ جناب تری دیو چکمہ ریاست کے والی اور چکمہ قبیلے کے سردار ہیں۔ میں نے اٹھ کر ادب پیش کیا، لا علمی کی معذرت کی۔ انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور پھر پاکستان کی سیاست کی کچھ باتیں شروع ہو گئیں۔ میں مشرقی پاکستان کے اس مختصر سیاسی دورے کے بعد اپنے میزبان کے ساتھ واپس چلا آیا۔ اس سفر میں چٹا گانگ بھی جانا ہوا تو میں نے وہاں چکمہ قبیلے کا پوچھا تو معلوم ہوا، یہ ایک پہاڑی قبیلہ ہے اور بدھ مت کا پیروکار ہے۔
جب کسی بھی پاکستانی کے لیے ناقابل فراموش اور انتہائی اذیت ناک سانحہ سقوط ڈھاکہ پیش آیا تو راجہ صاحب سے بھی رابطے منقطع ہو گئے لیکن ایک دن معلوم ہوا کہ راجہ صاحب تو اپنا قبیلہ سرداری اور قبائلی حکومت چھوڑ کر پاکستان آ گئے ہیں۔ یہ ایک عجوبہ تھا، ایک ناقابل یقین واقعہ۔ اس کا جتنا ذکر کریں کم ہے اور جس قدر تعجب کا اظہار کریں وہ اس واقعہ کی حیرت میں کمی نہیں کر سکتا۔
مشرقی پاکستان کے دو بڑے پاکستانی مغربی پاکستان آنے میں کامیاب ہوئے۔ ایک جناب نور الامین دوسرے راجہ صاحب۔ کئی پاکستانی رہنما بنگلہ دیش تسلیم نہ کرنے کے جرم میں وہیں سزا پا گئے اور باقی ماندہ پاکستان نہ دیکھ سکے۔ قائداعظم کے پاکستان پر قربان ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو جو بالآخر پاکستان کا وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گئے تھے، انھوں نے ان دونوں پاکستانیوں کی خوب عزت افزائی کی۔
جناب نور الامین کو پاکستان میں دوسرا بڑا منصب دیا اور راجہ صاحب کو تا عمر وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ آج جب اس آباد پاکستان سے لوگوں کے بھاگنے کی اطلاع ملتی ہے تو مجھے راجہ صاحب یاد آتے ہیں جو قبائلی نوابی اور سرداری چھوڑ کر از خود پاکستان آ گئے تھے۔ پاکستان نے انھیں جو کچھ دیا وہ مشرقی پاکستان میں اس سے زیادہ ان کے پاس پہلے سے موجود تھا۔
تا عمر سرداری اور ایک نوا بانہ زندگی، میں سوچتا ہی رہا کہ کسی دن راجہ صاحب کے ساتھ تفصیل کے ساتھ ملاقات کروں لیکن فضول کاموں میں وقت ضایع ہوتا رہا، تاریخ کا ایک دور قلمبند کرنے کی سعادت نہ مل سکی، راجہ صاحب سے اب کون مل سکے گا۔
راجہ صاحب ہمارے سفیر بھی ہو گئے تھے۔ وہ لاطینی امریکا کے کسی ملک کے غالباً برازیل میں سفیر تھے کہ ان کے بارے میں ایک خبر چھپی جس کا ذکر میرے کالم میں بھی آیا۔ راجہ صاحب نے برازیل سے ایک خط لکھا۔ میں نے جوابی شکریہ ادا کیا، ان کا پیغام ملا کہ اسلام آباد میں ملاقات ہو گی جو کبھی نہ ہو سکی اور راجہ صاحب نے اپنا قبیلہ خاندان اور ریاست جس ملک کے لیے چھوڑی تھی اس کی سر زمین پر ہی آخری سانس لے لی۔
سنا ہے کچھ عرصہ سے حکومت وقت نے ان سے بے اعتنائی برتنی شروع کر دی تھی ۔کوئی خالص پاکستانی حکومت جس کے حکمرانوں کے ذہنوں اور دلوں کے کسی گوشے میں ہندوستان کے علاوہ پرانا پاکستان بھی ہو، وہ راجہ صاحب جیسی یاد گار پاکستان شخصیت سے روگردانی نہیں کر سکتی لیکن سنتے ہیں کہ ایسا ہوا ہے اور اگر ہوا ہے تو بہت برا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کے ساتھ برائی کرنے والی بات ہے لیکن کون سا پاکستان؟
اطلاعات ہیں کہ راجہ صاحب کے ایک صاحبزادے اپنے والد کی آخری رسومات اپنے چکمہ قبیلے کے ہاں بنگلہ دیش میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ معلوم نہیں راجہ صاحب کی کوئی ایسی وصیت تھی یا نہیں لیکن وہ جب تک زندہ رہے، پاکستان میں رہے جس حال میں بھی رہے پاکستانی بن کر رہے۔ مشرقی پاکستان کے چکمہ قبیلے کے سردار راجہ تری دیو رائے زندہ باد۔ پاکستان کے راجہ زندہ باد۔