کور کمانڈر نے رینجرز میں انسداد اغوا سیل قائم کرنے کا اعلان کر دیا
قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کیلیے جانفشانی سے کام کررہے ہیں ،لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی
پولیس، رینجرز، تاجراور سول سوسائٹی مل کر جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کرسکتی ہے، صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو ۔ فوٹو : فائل
کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی نے رینجرزمیں انسداد اغوا سیل قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے جواپنے ہی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر خدمات انجام دے گا۔
یہ بات انھوں نے جمعہ کو سائٹ سپرہائی وے، فیڈرل بی ایریا اور نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈ انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل صنعت کاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، اس موقع پر ڈی جی رینجرز میجرجنرل رضوان اختر بھی موجود تھے، کورکمانڈر نے کہا کہ مذکورہ سیل مکمل خودکارنظام کے تحت آپریشنل ہوگا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جانفشانی سے کام کررہے ہیں لیکن تاجربرادری کو بھی جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کرکے قانون نافز کرنے والے اداروں کی معاونت کرنی چاہیے، انھوں نے کہاکہ پولیس، رینجرز، تاجربرادری اور سول سوسائٹی ملکر ہی جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کرسکتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ صنعتکاروں کے وفد میں سائٹ سپرہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین جاوید غوری، وائس آف کراچی انڈسٹریلسٹ کے چیئرمین مہتاب الدین چاؤلہ، ایف بی ایریا کی لا اینڈ آرڈرکمیٹی کے چیئرمین ادریس گیگی، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمدتحسن، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمود رنگون والا، لا اینڈ آرڈرکمیٹی کے چیئرمین فرازمرزا، سابق چیئرمین سید عثمان علی، محمدشہنشاہ اور نثاراحمد شامل تھے۔
جنھوں نے کورکمانڈراور ڈی جی رینجرز پر واضح کیا کہ کراچی کے صنعتکاروں کی جانوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں اور وہ سول حکومت پر اس ضمن میں مزید اعتماد کرنے سے قاصر ہوگئے ہیں، اس لیے کراچی کے صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز اب صرف مسلح افواج ہے جو کراچی کے صنعتکاروں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے لیے مداخلت کرے اور شہر میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرے، صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ حکومت اور پولیس سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ پولیس افسران اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے بھاری سیکورٹی کے ساتھ سفر کرتے ہیں، ان کے گھروں کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری ہوتی ہے۔
جبکہ ان کے بچوں کو درسگاہوں میں پہنچانے اور لانے کے لیے پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں لیکن عام آدمی اور صنعتکاروں کی جانیں بدستور خطرات کی زد میں ہیں، اغوابرائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پرحکومت مستقل عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔
جس کی وجہ سے کراچی کے صنعتکار مایوسی سے دوچار ہوکرذہنی اذیت کا شکارہوگئے ہیں، صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ کراچی میں قیام امن اور اغوابرائے تاوان کی وارداتوں کے خاتمے کے لیے آرمی چیف کی مداخلت ناگزیر ہوگئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ دوران ملاقات صنعتکاروں نے انکشاف کیا کہ3 ماہ کے دوران کراچی کے اب تک16 صنعتکاراغوا ہوچکے ہیں اور اغوا کی آخری واردات چارروز قبل بھی ہوئی ہے۔
یہ بات انھوں نے جمعہ کو سائٹ سپرہائی وے، فیڈرل بی ایریا اور نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈ انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل صنعت کاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، اس موقع پر ڈی جی رینجرز میجرجنرل رضوان اختر بھی موجود تھے، کورکمانڈر نے کہا کہ مذکورہ سیل مکمل خودکارنظام کے تحت آپریشنل ہوگا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جانفشانی سے کام کررہے ہیں لیکن تاجربرادری کو بھی جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کرکے قانون نافز کرنے والے اداروں کی معاونت کرنی چاہیے، انھوں نے کہاکہ پولیس، رینجرز، تاجربرادری اور سول سوسائٹی ملکر ہی جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کرسکتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ صنعتکاروں کے وفد میں سائٹ سپرہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین جاوید غوری، وائس آف کراچی انڈسٹریلسٹ کے چیئرمین مہتاب الدین چاؤلہ، ایف بی ایریا کی لا اینڈ آرڈرکمیٹی کے چیئرمین ادریس گیگی، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمدتحسن، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمود رنگون والا، لا اینڈ آرڈرکمیٹی کے چیئرمین فرازمرزا، سابق چیئرمین سید عثمان علی، محمدشہنشاہ اور نثاراحمد شامل تھے۔
جنھوں نے کورکمانڈراور ڈی جی رینجرز پر واضح کیا کہ کراچی کے صنعتکاروں کی جانوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں اور وہ سول حکومت پر اس ضمن میں مزید اعتماد کرنے سے قاصر ہوگئے ہیں، اس لیے کراچی کے صنعتکاروں کی توجہ کا مرکز اب صرف مسلح افواج ہے جو کراچی کے صنعتکاروں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے لیے مداخلت کرے اور شہر میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرے، صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ حکومت اور پولیس سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ پولیس افسران اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے بھاری سیکورٹی کے ساتھ سفر کرتے ہیں، ان کے گھروں کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری ہوتی ہے۔
جبکہ ان کے بچوں کو درسگاہوں میں پہنچانے اور لانے کے لیے پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں لیکن عام آدمی اور صنعتکاروں کی جانیں بدستور خطرات کی زد میں ہیں، اغوابرائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پرحکومت مستقل عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔
جس کی وجہ سے کراچی کے صنعتکار مایوسی سے دوچار ہوکرذہنی اذیت کا شکارہوگئے ہیں، صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ کراچی میں قیام امن اور اغوابرائے تاوان کی وارداتوں کے خاتمے کے لیے آرمی چیف کی مداخلت ناگزیر ہوگئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ دوران ملاقات صنعتکاروں نے انکشاف کیا کہ3 ماہ کے دوران کراچی کے اب تک16 صنعتکاراغوا ہوچکے ہیں اور اغوا کی آخری واردات چارروز قبل بھی ہوئی ہے۔