الحمرا میں یادوں کا ہجوم

کوئی یہ بتا رہا تھا کہ جب اسے حفظ قرآن کے لیے مدرسے کے سپرد کیا گیا تو وہ کتنی مرتبہ وہاں سے فرار ہوا

zahedahina@gmail.com

آج اگر آپ کی ملاقات عطا الحق قاسمی سے ہو اور برسر عام اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کا قصہ سناتے ہوئے یہ کہہ رہے ہوں کہ وہ وزیر آباد کے جس اسکول میں پڑھتے تھے، وہ عرف عام میں ''کھوتی اسکول'' کہلاتا تھا... تو بھلا کون یقین کرے گا۔ اس روز لاہور کے الحمرا ہال میں بیٹھی ہوئی وہ بہت سی مائیں جو اپنے بیٹوں کو ایچی سن یا بیٹیوں کو کینرڈ کالج اور کونونٹ آف جیزیز اینڈ میری میں داخل کروانے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتی ہیں ۔ ان کے ساتھ خود بھی پڑھنے بیٹھتی ہیں اور انھیں اچھی سے اچھی ٹیوشن پڑھوانے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرتی ہیں۔

انھوں نے عطا الحق قاسمی کا یہ فرمودہ سن کر سر پیٹ لیا ہو گا ۔ ان میں سے چند شاید یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ اگر کسی چھوٹے سے شہر کے ''کھوتی اسکول'' میں پڑھ کر عطاء الحق قاسمی لکھاری بنے، سفارت کار ہوئے اور اب الحمرا میں شاندار ادبی تقریبات منعقد کراتے ہیں۔ وزیراعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھ کر ان سے سرگوشیاں کرتے ہیں ، خود ہنستے ہیں، انھیں بھی ہنساتے ہیں۔ دوست ان پر رشک کرتے ہیں اور دشمن ان سے حسد ۔ زندگی کے اس سفر میں اگر ''کھوتی اسکول'' انھیں یہ کامیابی عطا کر سکتا ہے تو ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے ہلکان کیوں رہتے ہیں؟

عطاء الحق کا دعوت نامہ جب اپریل کی کسی تاریخ کو ملا تو دل شاد ہوا۔ موضوع اتنا انوکھا تھا کہ انھیں مبارک باد دیے بغیر بات نہیں بنتی تھی۔ انھوں نے طے کیا تھا کہ وہ ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ ساتھ موسیقاروں، گلوکاروں، سیاست دانوں، نوکر شاہی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسروں، تاجروں، پولیس والوں، رقاصاؤں، وکیلوں، ڈاکٹروں، سابق جرنیلوں، گورنروں اور سماجی کارکنوں سب ہی کو الحمرا کے ایوانوں میں یکجا کریں گے اور ان سے کہیں گے کہ وہ سننے والوں کو اپنے بیتے ہوئے دنوں کی یادیں سنائیں ۔ لوگوں کو دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کا شوق ہمیشہ رہتا ہے ۔ اسی سبب جب عطاء الحق قاسمی نے مئی کے آخری دنوں میں یادوں کی ایک سبھا سجائی تو نوجوان اور بوڑھے، عورتیں مرد سب ہی کھنچے چلے آئے۔ دلچسپی کا یہ عالم کہ صبح گیارہ بجے سے رات گئے تک لوگ اپنی نشستوں پر جمے بیٹھے رہے اور اپنی زندگی سنانے والوں کو جی کھول کر داد دیتے رہے ۔

کوئی یہ بتا رہا تھا کہ جب اسے حفظ قرآن کے لیے مدرسے کے سپرد کیا گیا تو وہ کتنی مرتبہ وہاں سے فرار ہوا ۔ اور کوئی اپنے فاقے گنوا رہا تھا ۔ آج کے کامیاب اور خوش حال لوگ جنھوں نے زندگی میں کیسی صعوبتیں سہیں۔ وہ جب یہ سب کچھ بتا رہے تھے تو آج کے نوجوان اس یقین کے ساتھ انھیں سن رہے تھے کہ کل وہ بھی وقت کی وحشتوں کو سہہ کر کہیں پہنچیں گے اور کیوں نہیں پہنچ سکتے کہ آج کے مشہور لوگ بھی ان ہی پتھریلی راہوں سے گزرے ہیں۔

ثریا ملتانیکر نے بولنا شروع کیا تو لوگ وقت کا حساب بھول گئے۔ ان کی وہ زندگی جس میں روشنی کی کرن نہ تھی اور پھر وہ سراپا روشنی بن گئیں۔ سامعین نے ان سے کچھ سنانے کی فرمائشں کی تو کسی ساز کے بغیر انھوں نے اس طور تانیں اڑائیں کہ سننے والے مدہوش ہو گئے۔ چھینٹ کی قمیص اور سفید لٹھے کی شلوار پہنے ہوئے وہ عورت جو دیکھنے میں دیہاتن لگتی تھی لیکن اس کے لبوں سے سُر کے جھرنے پھوٹتے تھے ۔

اسی طرح مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہماری باکمال رقاصہ نگہت چوہدری نے جب چند پرانی تصویروں اور کوریو گرافی کے وسیلے سے اپنی ابتدائی زندگی کی سزاؤں اور صعوبتوں کو دیکھنے والوں کے سامنے پیش کیا تو لوگ یوں بیٹھے رہ گئے جیسے ان پر بجلی گر گئی ہو۔ مجھ ایسے بہت سے لوگ ان کی زخمی یادوں سے ملول تھے۔ غریدہ فاروقی جو اس پروگرام کی کمپیئرنگ کر رہی تھیں، ان سے رہا نہ گیا اور وہ آخر میں نگہت سے پوچھ بیٹھیں کہ کیا ان کا اور ان کے بھائی کا بچپن واقعی ایک سفاک باپ کے چنگل میں گزرا ہے؟

کیا واقعی انھیں برف پر لٹا کر مارا جاتا تھا اور کوڑوں سے ان کی پشت ادھیڑی جاتی تھی؟ دیار مغرب میں رہنے والی ایک پاکستانی لڑکی اور اس کا بھائی کن صعوبتوں سے گزر کر اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے، ایک ناقابل یقین فسانہ۔ عطاء الحق قاسمی خوش رہیں کہ انھوں نے ہمیں ایک نہایت مشہور اور کامیاب عورت کی زندگی کو جاننے کا موقعہ دیا۔ وہ جن کی زندگی پھولوں کی سیج نظر آتی ہے، وہ کانٹوں کے بستر پر کس طرح پہلو بدلتے ہیں اور ان کی آبلہ پائی انھیں کن بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ یہ سب کچھ ہم نے نگہت چوہدری سے جانا۔


بیچ لگژری ہوٹل کراچی کی شان ہے۔ سمندر کے کنارے آباد یہ ہوٹل اس کے علاوہ آواری ٹاورز ہوٹل ڈنشا آواری، بہرام آواری کے خاندان کی محنت اور کاروباری دیانت کا نمونہ ہیں۔ کراچی میں نسلوں سے آباد اس پارسی خاندان کے بیٹے بہرام نے الحمرا میں جب ہمیں یہ بتایا کہ تقسیم کے بعد ان کے والد نے کہا کہ یہ شہر ہمارا ہے، ہم اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

یہ سن کر نوجوان بہرام جی جان سے اپنے کاروبار میں مصروف ہو گئے۔ پھر جب ان کے بیٹے جوان ہوئے اور باپ نے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کی مشہور یونیورسٹیوں میں بھیجنا چاہا تو بیٹوں نے امریکا جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ دادا جی کی خواہش کے مطابق ہم سب کو جب یہیں رہنا ہے تو پھر ہم امریکا میں پڑھ کر کیا کریں گے۔ ان کے بیٹے کراچی کے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر نکلے اور اسی شہر میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا رہے ہیں۔ ان کے لیے بہت پُر جوش تالیاں بجائی گئیں۔ ایک غیر مسلم، پاکستانی مسلمانوں کو آئینہ دکھا رہا تھا۔ اس روز شاید کچھ لوگوں کو اپنے آپ سے شرم آئی ہو۔

اس روز اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے میری نگاہوں میں وہ لمحہ گھوم گیا جب ابا جان نے میرا ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر ملتانی مٹی سے لپی ہوئی تختی پر فارسی کا ایک جملہ لکھوایا تھا۔ عرقِ گلاب میں کھرل کیا ہوا زعفران سفید چینی کی فنجان میں تھا۔ ایک سنسنی خیز لمحہ۔ میں نے لرزتی ہوئی انگلیوں سے سر کنڈے کا قلم زعفرانی روشنائی میں ڈبویا تھا اور پھر ابا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا تھا۔ اور ان کے ہاتھ کی جنبش کے ساتھ حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کے ایک خط کا القاب ''برادرم شمس الدین و زین الدین'' اور دوسری سطر میں ''قلم گوید کہ من شاہِ جہا نم'' لکھا تھا۔

یہ ساٹھ برس پہلے کا قصہ ہے۔ اس زمانے میں لڑکوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ لکھنا پڑھنا سیکھ کر عمر بھر رزق کا چرخا چلائیں گے اور لڑکیاں زیادہ سے زیادہ دھوبی کا حساب لکھیں گی۔ ہماری دنیا ابھی جدید نہیں ہوئی تھی اس لیے لڑکیاں تعلیم یافتہ ہونے کی انتہا کو پہنچتیں اور عمر کے کسی حصے میں شوہر کو خط لکھنے کا مرحلہ آتا تو ہر خط کا آغاز ''سرتاج من سلامت'' اور اختتام ''آپ کی کنیز'' پر ہوتا۔ مروجہ شریعت کی رُو سے اپنے Bonded Labour ہونے کا اس سے شائستہ اعتراف و اظہار ایک عورت بھلا اور کیا کرتی لیکن مجھے تو ابتدا سے سوال کرنے کی عادت تھی۔ ایسے سوال کہ قاتل اور مقتول یعنی اورنگ زیب اور سرمد، دونوں علیہ الرحمۃ کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور اس بھی زیادہ مشکل سوال جن کے جواب میں ابا جان ہفتوں اور بعض حالات میں مہینوں مجھ سے بات نہ کرتے۔

ابا نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ وہ جو مجھ سے مثنوی مولانا روم کے اور شیخ سعدی کے اشعار اور حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کے ''مکتوبات صدی'' نقل کرانے کی مشق کروا ر ہے ہیں،''شعر العجم'' اور ''آبِ حیات'' سبقاً سبقاً پڑھا رہے ہیں' میں ان کی ساری محنت پر پانی پھیردوں گی۔ وہ مجھے اپنے دوست امتیاز علی خاں عرشی اور شناسا علامہ نیاز فتح پوری کی طرح نقاد اور بھاری بھرکم مصنف دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن میں نے نو برس کی عمر میں ایک رومانی کہانی لکھنے کا حوصلہ کر لیا اور بس یہیں سے ساری گڑ بڑ شروع ہوئی۔

عطاء الحق قاسمی کو مبارک ہوکہ انھوں نے نئی نسل کے سیکڑوں نوجوانوں کے دلوں میں اُمید کے چراغ روشن کیے۔ آپ فاقے سے ہوں، جوتے اُدھڑے ہوئے ہوں، ملازمت کے لیے سفارشی خط آپ کے ہاتھ میں نہ ہو۔ اس کے باوجود کسی بھی پرعزم لڑکی اور لڑکے کے لیے جسٹس ناصرہ اقبال اور نگہت چوہدری یا ڈاکٹر صغری صدف بن جانا، شمیم حنفی، ابو الکلام قاسمی اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی طرح اپنے نام کا سکہ جما دینا کچھ مشکل نہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ریاضت سے، جہد مسلسل سے آپ کا رشتہ کتنا گہرا ہے اور آپ نے اس چیونٹی سے کتنا سیکھا ہے ۔

جو ایک غار میں ایک دانہ بلندی پر لے کر جا رہی تھی اور بوجھ سے گر پڑتی تھی۔ اس وقت کا ناکام اور شکستہ دل بابر اس چیونٹی کو متعدد مرتبہ گرتے، سنبھلتے اور بلندی کی طرف جاتے دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ اناج کا دانہ بلندی پر لے جانے میں کامیاب ہو گئی۔ شکست خوردہ بابر نے اس چیونٹی کے سامنے سر جھکایا، غار سے باہر آیا، گھوڑے پر سوار ہوا اور یہیں سے ہندوستان میں مغل شہنشاہی کی داستان آغاز ہوتی ہے۔
Load Next Story