روئی کی قیمتیں 100 روپے اضافے سے 7100 تک پہنچ گئیں
امپورٹ پر 6 فیصد ٹیکسز عائد ہونے سے درآمدی سودوں میں کافی کمی کا امکان ہے،ممبر پی سی جی اے احسان الحق
امپورٹ پر 6 فیصد ٹیکسز عائد ہونے سے درآمدی سودوں میں کافی کمی کا امکان ہے،ممبر پی سی جی اے احسان الحق۔ فوٹو: فائل
مقامی کاٹن مارکیٹ میں اعلان کردہ وفاقی بجٹ میں روئی کی درآمد پر5 فیصد سیلزٹیکس اور ایک فیصد انکم ٹیکس عائد کیے جانے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان جبکہ انٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جانب سے سال2014-15 کے دوران دنیابھر میں کپاس کی تجارت8 فیصد کم ہونے، امریکا اور آسٹریلیا ودیگر ممالک میں کپاس کی پیداوار ابتدائی تخمینوں سے زائد ہونے کی اطلاعات نے امریکی کاٹن مارکیٹس کو مندی سے دوچار کیا۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن(پی سی جی اے)احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ آئی سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014/15میںدنیا بھر میں روئی کی ٹریڈنگ صرف 8.10ملین ٹن رہنے کی توقع ہے جو کہ رواں سال کے مقابلے میں8فیصد کم ہے جس کی بڑی وجہ چائنہ کو ہونے والی شپمنٹس میں متوقع ریکارڈ کمی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014/15 میں چائنا کو صرف 2.10 ملین ٹن روئی کی شپمنٹس متوقع ہیں جبکہ 2011-12میں چین کو ریکارڈ 5.30ملین ٹن روئی کی شپمنٹس کی گئیں تھیں جس کے باعث 2014/15 میں دنیا بھر میں روئی کے کاروباری حجم میں کافی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ 2014/15 میںروئی کی درآمد پر مجموعی طور پر6فیصد ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں جس کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100روپے فی من مزید اضافے کے ساتھ 7 ہزار 100 روپے فی من تک پہنچ گئیں تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران کاروباری حجم کافی کم رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.55سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 90.15 سینٹ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 1.49 سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 84.78 سینٹ فی پائونڈ تک گرگئے۔
بھارت میں روئی کی قیمتیں 250 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 41ہزار 296 روپے فی کینڈی تک پہنچ گئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ کاروباری حجم کم ہونے کے باعث 100 روپے فی من کمی کے بعد 6 ہزار 800 روپے فی من تک گر گئے ۔احسان الحق نے بتایا کہ سندھ میں نیا کاٹن سیزن 15 جون سے شروع ہونے کی توقع ہے اور اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر شہداد پور میں دو جننگ فیکٹریاں 15 جون سے نئے کاٹن سیزن کا آغاز کریں گی تاہم پھٹی کی چنائی کا آغاز سندھ کے شہروں جھڈو ،بدین اور ڈگری سے ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ دونوں جننگ فیکٹریوں نے روئی کے ایڈوانس سودے 22 جون ڈلیوری کی بنیاد پر 7 ہزار 200 روپے فی من فروخت کرنے کی مختلف ٹیکسٹائل ملز مالکان کو پیش کشیں کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں نیا کاٹن جننگ سیزن پنجاب کے ضلع بہاولنگر سے ہوتا تھا لیکن رواں سال پنجاب میں کپاس کی بوائی ناموافق موسمی حالات کے باعث بہت کم اور تاخیر سے ہونے کے باعث پنجاب میں پھٹی کی چنائی میں بھی 2 سے 3ہفتوں کی تاخیر کے باعث نیا کاٹن سیزن اس بار سندھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمارکے مطابق 24مئی تک پنجاب بھر میں 60لاکھ ایکڑ ہدف کے مقابلے میں صرف 36لاکھ 51ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی تھی تاہم پنجاب میں کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی بارے خبروں کے اشاعت کے باعث محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے نئے اعدادوشمار کے مطابق 2 جون تک پنجاب بھر میں کپاس کی کاشت 50 لاکھ 36ہزار ایکڑ رقبے پر مکمل ہو چکی ہے۔
اس طرح 24مئی سے 2جون تک صرف 8 دنوں میں پنجاب بھر میں 13 لاکھ 85ہزار ایکڑ رقبے پر مزید کپاس کاشت کی گئی ہے جو کہ بظاہر ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 2014-15 کے دوران ناموافق موسمی حالت کے باعث کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے بارے میں بے یقینی کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے آسٹریلیا اور برازیل سے کپاس خریداری کے ایڈوانس سودے شروع کر دیے ہیں تاہم روئی کی درآمد پر 6 فیصد ٹیکسز عائد ہونے کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی کے مزید درآمدی سودوں میں کافی کمی متوقع ہے۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن(پی سی جی اے)احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ آئی سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014/15میںدنیا بھر میں روئی کی ٹریڈنگ صرف 8.10ملین ٹن رہنے کی توقع ہے جو کہ رواں سال کے مقابلے میں8فیصد کم ہے جس کی بڑی وجہ چائنہ کو ہونے والی شپمنٹس میں متوقع ریکارڈ کمی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014/15 میں چائنا کو صرف 2.10 ملین ٹن روئی کی شپمنٹس متوقع ہیں جبکہ 2011-12میں چین کو ریکارڈ 5.30ملین ٹن روئی کی شپمنٹس کی گئیں تھیں جس کے باعث 2014/15 میں دنیا بھر میں روئی کے کاروباری حجم میں کافی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ 2014/15 میںروئی کی درآمد پر مجموعی طور پر6فیصد ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں جس کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100روپے فی من مزید اضافے کے ساتھ 7 ہزار 100 روپے فی من تک پہنچ گئیں تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران کاروباری حجم کافی کم رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.55سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 90.15 سینٹ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 1.49 سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 84.78 سینٹ فی پائونڈ تک گرگئے۔
بھارت میں روئی کی قیمتیں 250 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 41ہزار 296 روپے فی کینڈی تک پہنچ گئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ کاروباری حجم کم ہونے کے باعث 100 روپے فی من کمی کے بعد 6 ہزار 800 روپے فی من تک گر گئے ۔احسان الحق نے بتایا کہ سندھ میں نیا کاٹن سیزن 15 جون سے شروع ہونے کی توقع ہے اور اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر شہداد پور میں دو جننگ فیکٹریاں 15 جون سے نئے کاٹن سیزن کا آغاز کریں گی تاہم پھٹی کی چنائی کا آغاز سندھ کے شہروں جھڈو ،بدین اور ڈگری سے ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ دونوں جننگ فیکٹریوں نے روئی کے ایڈوانس سودے 22 جون ڈلیوری کی بنیاد پر 7 ہزار 200 روپے فی من فروخت کرنے کی مختلف ٹیکسٹائل ملز مالکان کو پیش کشیں کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں نیا کاٹن جننگ سیزن پنجاب کے ضلع بہاولنگر سے ہوتا تھا لیکن رواں سال پنجاب میں کپاس کی بوائی ناموافق موسمی حالات کے باعث بہت کم اور تاخیر سے ہونے کے باعث پنجاب میں پھٹی کی چنائی میں بھی 2 سے 3ہفتوں کی تاخیر کے باعث نیا کاٹن سیزن اس بار سندھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمارکے مطابق 24مئی تک پنجاب بھر میں 60لاکھ ایکڑ ہدف کے مقابلے میں صرف 36لاکھ 51ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی تھی تاہم پنجاب میں کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی بارے خبروں کے اشاعت کے باعث محکمہ زراعت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے نئے اعدادوشمار کے مطابق 2 جون تک پنجاب بھر میں کپاس کی کاشت 50 لاکھ 36ہزار ایکڑ رقبے پر مکمل ہو چکی ہے۔
اس طرح 24مئی سے 2جون تک صرف 8 دنوں میں پنجاب بھر میں 13 لاکھ 85ہزار ایکڑ رقبے پر مزید کپاس کاشت کی گئی ہے جو کہ بظاہر ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 2014-15 کے دوران ناموافق موسمی حالت کے باعث کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے بارے میں بے یقینی کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے آسٹریلیا اور برازیل سے کپاس خریداری کے ایڈوانس سودے شروع کر دیے ہیں تاہم روئی کی درآمد پر 6 فیصد ٹیکسز عائد ہونے کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی کے مزید درآمدی سودوں میں کافی کمی متوقع ہے۔