پانی کا بحران خوفناک صورت اختیار کرگیا ٹینکر مافیا شہریوں کو لوٹنے لگی
واٹربورڈ کے راشی افسر ناغہ کے بعد آنے والا پانی ہائیڈرنٹ مافیا اور صنعتی علاقوں کو دینے لگے
شدید گرمی میں شہری پریشانی اورمالی بوجھ برداشت کرکے مہنگے داموں واٹرٹینکرخریدنے پرمجبور ہوگئے ،حکمرانوں کوشہریوںکی مشکلات سے سروکار نہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے نااہل اور سفارشی افسران کے باعث شہر بھر میں پانی کا بحران خوفناک صورت اختیار کرگیا،ناغہ سسٹم کے بعد آنے والا پانی ہائیڈرنٹس کو فراہم کیا جانے لگا۔
پانی کے بدترین بحران کے دوران واٹر ٹینکر مافیا شہریوں کو لوٹنے لگی، شہری اپنے حصے کا پانی مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے خریدنے پر مجبور ہوگئے، ہائیڈرنٹس سے حاصل آمدنی کا بڑا حصہ بااثر افراد کو دیا جانے لگا، نارتھ کراچی میں فراہمی آب کی لائن میں گٹر کا غلیظ پانی شامل ہونے سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، تفصیلات کے مطابق ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے سفارشی افسران کی نااہلی سے شہر بھر میں پانی کا بحران خوفناک صورت اختیار کرگیا ہے،شہری شدید گرمی میں پانی کو ترس رہے ہیں جبکہ واٹر بورڈ افسران ٹینکر مافیا سے مل کر مال کمانے میں مصروف ہیں، شہری پانی کے حصول کے لیے کمر توڑ مہنگائی میں مہنگے داموں واٹر ٹینکر خرید رہے ہیں۔
حب ڈیم میں پانی کی کمی کے باعث واٹر بورڈ نے شہر میں ناغہ سسٹم رائج کیا اور اس دوران 48 گھنٹے کے وقفے کے بعد شہریوں کو پانی سپلائی کیا جاتا تھا تاہم واٹر بورڈ کے نااہل افسران نے شہر بھر میں فراہمی آب کی منصفانہ تقسیم کے بجائے شہریوں کے حصے کا پانی ہائیڈرنٹس کو فراہم کردیا ہے جہاں سے روزانہ سیکڑوں ٹینکر پانی شہریوں کو ہی مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے، شہر میں 2 ہزار گیلن پانی کا واٹر ٹینکر 2 سے 3 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے، شہری پانی کا ایک ٹینکر حاصل کرنے کے لیے پورا دن مارے مارے پھررہے ہیں منہ مانگی قیمت پر ہی انھیں پانی کا ٹینکر ملتا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں ناغہ نظام نافذ ہونے کے باوجود پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ٹینکر مافیا کو ان حالات میں پانی کس طرح مل رہا ہے، پانی کے بدترین بحران سے شہری شدید الجھن کا شکار ہیں اور شدید گرمی میں شہری پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلیے اضافی مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ حکمرانوں کو شہریوں کی مشکلات اور پریشانی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں نارتھ کراچی، نیو کراچی ، ایوب گوٹھ ، شادمان ٹاؤن ، نارتھ ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن ، شیر شاہ ، فیڈرل بی ایریا ، گلشن اقبال ، ناظم آباد ، گلبرگ ، محمدی کالونی عزیزآباد ، ایف سی ایریا، گودھرا کالونی، گلستان جوہر، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، بفرزوں کے کئی علاقوں،کھوکھرا پار ، سعود آباد ، گلبہار ، لائنز ایریا ، جمشید کوارٹرز ، گارڈن ، ڈیفنس اور کلفٹن کے شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔
واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق شہری علاقوں میں ناغہ نظام کے بعد آنے والا پانی واٹر بورڈ کے رشوت خور افسر اور والومین صنعتی علاقوں کو بھی سپلائی کررہے ہیں جس کے عوض صنعتکار انھیں بھاری معاوضہ دیتے ہیں جبکہ رہائشی علاقوں کے مکین رات بھر جاگ کر پانی کی موٹریں چلاچلا کر تھک جاتے ہیں اور پانی بھرنے کی آس میں صبح ہوجاتی ہے اور شہری دوبارہ 48 گھنٹے بعد آنے والے پانی کا انتظار کرتے ہیں، نارتھ کراچی کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی لائنوں میں سیوریج کا غلیظ پانی شامل ہوگیا ہے ، پانی کی لائن میں سیوریج کا پانی شامل ہونے سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے جس پر توجہ نہیں دی جارہی۔
ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے نااہل اور سفارشی افسران کے باعث شہر بھر میں پانی کا بحران خوفناک صورت اختیار کرگیا،ناغہ سسٹم کے بعد آنے والا پانی ہائیڈرنٹس کو فراہم کیا جانے لگا۔
پانی کے بدترین بحران کے دوران واٹر ٹینکر مافیا شہریوں کو لوٹنے لگی، شہری اپنے حصے کا پانی مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے خریدنے پر مجبور ہوگئے، ہائیڈرنٹس سے حاصل آمدنی کا بڑا حصہ بااثر افراد کو دیا جانے لگا، نارتھ کراچی میں فراہمی آب کی لائن میں گٹر کا غلیظ پانی شامل ہونے سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، تفصیلات کے مطابق ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے سفارشی افسران کی نااہلی سے شہر بھر میں پانی کا بحران خوفناک صورت اختیار کرگیا ہے،شہری شدید گرمی میں پانی کو ترس رہے ہیں جبکہ واٹر بورڈ افسران ٹینکر مافیا سے مل کر مال کمانے میں مصروف ہیں، شہری پانی کے حصول کے لیے کمر توڑ مہنگائی میں مہنگے داموں واٹر ٹینکر خرید رہے ہیں۔
حب ڈیم میں پانی کی کمی کے باعث واٹر بورڈ نے شہر میں ناغہ سسٹم رائج کیا اور اس دوران 48 گھنٹے کے وقفے کے بعد شہریوں کو پانی سپلائی کیا جاتا تھا تاہم واٹر بورڈ کے نااہل افسران نے شہر بھر میں فراہمی آب کی منصفانہ تقسیم کے بجائے شہریوں کے حصے کا پانی ہائیڈرنٹس کو فراہم کردیا ہے جہاں سے روزانہ سیکڑوں ٹینکر پانی شہریوں کو ہی مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے، شہر میں 2 ہزار گیلن پانی کا واٹر ٹینکر 2 سے 3 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے، شہری پانی کا ایک ٹینکر حاصل کرنے کے لیے پورا دن مارے مارے پھررہے ہیں منہ مانگی قیمت پر ہی انھیں پانی کا ٹینکر ملتا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں ناغہ نظام نافذ ہونے کے باوجود پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ٹینکر مافیا کو ان حالات میں پانی کس طرح مل رہا ہے، پانی کے بدترین بحران سے شہری شدید الجھن کا شکار ہیں اور شدید گرمی میں شہری پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلیے اضافی مالی بوجھ برداشت کرتے ہوئے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ حکمرانوں کو شہریوں کی مشکلات اور پریشانی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں نارتھ کراچی، نیو کراچی ، ایوب گوٹھ ، شادمان ٹاؤن ، نارتھ ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن ، شیر شاہ ، فیڈرل بی ایریا ، گلشن اقبال ، ناظم آباد ، گلبرگ ، محمدی کالونی عزیزآباد ، ایف سی ایریا، گودھرا کالونی، گلستان جوہر، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، بفرزوں کے کئی علاقوں،کھوکھرا پار ، سعود آباد ، گلبہار ، لائنز ایریا ، جمشید کوارٹرز ، گارڈن ، ڈیفنس اور کلفٹن کے شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔
واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق شہری علاقوں میں ناغہ نظام کے بعد آنے والا پانی واٹر بورڈ کے رشوت خور افسر اور والومین صنعتی علاقوں کو بھی سپلائی کررہے ہیں جس کے عوض صنعتکار انھیں بھاری معاوضہ دیتے ہیں جبکہ رہائشی علاقوں کے مکین رات بھر جاگ کر پانی کی موٹریں چلاچلا کر تھک جاتے ہیں اور پانی بھرنے کی آس میں صبح ہوجاتی ہے اور شہری دوبارہ 48 گھنٹے بعد آنے والے پانی کا انتظار کرتے ہیں، نارتھ کراچی کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی لائنوں میں سیوریج کا غلیظ پانی شامل ہوگیا ہے ، پانی کی لائن میں سیوریج کا پانی شامل ہونے سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے جس پر توجہ نہیں دی جارہی۔