بھارت میں سکھ یاتریوں کو ٹرین سے اتارنے کا افسوسناک واقعہ
پاکستان میں رہنے والے سکھ انتہائی پرامن لوگ ہیں وہ امن و امان کے حوالے سے ملک کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنے
بھارتی سرکار نے 300 سکھ یاتریوں کو لاہور میں ہونے والے جوڑ میلے میں شرکت کے لیے خصوصی ٹرین پر جانے سے روک دیا۔فوٹو:فائل
SUKKUR:
بھارتی سرکار نے 300 سکھ یاتریوں کو لاہور میں ہونے والے جوڑ میلے میں شرکت کے لیے خصوصی ٹرین پر جانے سے روک دیا۔ اتوار کی صبح سکھ یاتریوں کو لینے پاکستان سے خصوصی ٹرین بھارت روانہ ہوئی تو بھارتی حکام نے ٹرین پر سفر کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے سکھ یاتریوں کو اٹاری ریلوے اسٹیشن پر اتار دیا اور خالی ٹرین واپس بھجوا دی۔ بھارتی حکام نے یہ شوشہ چھوڑا کہ پاکستان میں ٹرینوں کو آگ لگا دی جاتی ہے لہٰذا اس ٹرین پر بھی حملہ ہو سکتا ہے ،اس کے بعد سکھ یاتری سڑک کے راستے واہگہ پہنچے۔
سکھ یاتری پہلی بار پاکستان نہیں آ رہے تھے وہ گورو ارجن دیوجی کے شہیدی دن (جوڑ میلے) کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہر سال پاکستان ٹرین کے راستے ہی آتے ہیں ، ان پر کبھی حملہ نہیں ہوا اور وہ مکمل محفوظ رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کی مذہبی تقریبات میں بھی حفاظتی انتظامات کے علاوہ بہتر سہولیات انھیں مہیا کی جاتی ہیں۔ سکھ یاتری ہر سال واپس جاتے ہوئے پاکستانی حکومت کی جانب سے بہتر انتظامات کرنے پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے سکھ یاتریوں کو پاکستان میں کبھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔مگر اس سال ایسا کیا ہو گیا کہ بھارتی حکومت نے سکھوں کو ٹرین سے اتار دیا،یوں معلوم ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے آتے ہی سکھوں کو پاکستان سے بدگمان کرنے کی سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔
پاکستان میں رہنے والے سکھ انتہائی پرامن لوگ ہیں وہ امن و امان کے حوالے سے ملک کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنے مگر پہلی بار ایسا ہوا کہ سکھ اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے۔ اب یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ بھارتی حکام نے سکھ یاتریوں کو ٹرین سے اتار کر سڑک کے راستے انھیں پاکستان جانے پر مجبور کیا ۔ سکھ یاتریوں کی خصوصی ٹرین سے پاکستان روانگی کا شیڈول تو یقیناً ایک عرصہ پہلے طے پا چکا ہوگا۔
آخر بھارتی حکام نے اچانک ایسی حرکت کیوں کی۔ اس کے پیچھے وہ سازش نظر آتی ہے جس کا ایک مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا اور دنیا کو یہ باور کرانا کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے اور وہاں غیر ملکیوں کی جان و مال کو خطرہ ہے' دوسرا اس کا مقصد سکھ یاتریوں کو پاکستان سے برگشتہ کرنا ہے تاکہ ان کے دل میں پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز جذبات جنم لیں لیکن سکھ یاتریوں نے بھارتی سازش کو ناکام بناتے ہوئے اس مذموم رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ مودی سرکار آنے کے بعد پاکستانی حکومت کو اب پہلے سے زیادہ چوکنا ہونا پڑے گا کیونکہ اس کا متعصبانہ رویہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید مسائل اور مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ مودی سرکار کی ابھی تو یہ شروعات ہیں' آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
بھارتی سرکار نے 300 سکھ یاتریوں کو لاہور میں ہونے والے جوڑ میلے میں شرکت کے لیے خصوصی ٹرین پر جانے سے روک دیا۔ اتوار کی صبح سکھ یاتریوں کو لینے پاکستان سے خصوصی ٹرین بھارت روانہ ہوئی تو بھارتی حکام نے ٹرین پر سفر کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے سکھ یاتریوں کو اٹاری ریلوے اسٹیشن پر اتار دیا اور خالی ٹرین واپس بھجوا دی۔ بھارتی حکام نے یہ شوشہ چھوڑا کہ پاکستان میں ٹرینوں کو آگ لگا دی جاتی ہے لہٰذا اس ٹرین پر بھی حملہ ہو سکتا ہے ،اس کے بعد سکھ یاتری سڑک کے راستے واہگہ پہنچے۔
سکھ یاتری پہلی بار پاکستان نہیں آ رہے تھے وہ گورو ارجن دیوجی کے شہیدی دن (جوڑ میلے) کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہر سال پاکستان ٹرین کے راستے ہی آتے ہیں ، ان پر کبھی حملہ نہیں ہوا اور وہ مکمل محفوظ رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کی مذہبی تقریبات میں بھی حفاظتی انتظامات کے علاوہ بہتر سہولیات انھیں مہیا کی جاتی ہیں۔ سکھ یاتری ہر سال واپس جاتے ہوئے پاکستانی حکومت کی جانب سے بہتر انتظامات کرنے پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے سکھ یاتریوں کو پاکستان میں کبھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔مگر اس سال ایسا کیا ہو گیا کہ بھارتی حکومت نے سکھوں کو ٹرین سے اتار دیا،یوں معلوم ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے آتے ہی سکھوں کو پاکستان سے بدگمان کرنے کی سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔
پاکستان میں رہنے والے سکھ انتہائی پرامن لوگ ہیں وہ امن و امان کے حوالے سے ملک کے لیے کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنے مگر پہلی بار ایسا ہوا کہ سکھ اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے۔ اب یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ بھارتی حکام نے سکھ یاتریوں کو ٹرین سے اتار کر سڑک کے راستے انھیں پاکستان جانے پر مجبور کیا ۔ سکھ یاتریوں کی خصوصی ٹرین سے پاکستان روانگی کا شیڈول تو یقیناً ایک عرصہ پہلے طے پا چکا ہوگا۔
آخر بھارتی حکام نے اچانک ایسی حرکت کیوں کی۔ اس کے پیچھے وہ سازش نظر آتی ہے جس کا ایک مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا اور دنیا کو یہ باور کرانا کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے اور وہاں غیر ملکیوں کی جان و مال کو خطرہ ہے' دوسرا اس کا مقصد سکھ یاتریوں کو پاکستان سے برگشتہ کرنا ہے تاکہ ان کے دل میں پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز جذبات جنم لیں لیکن سکھ یاتریوں نے بھارتی سازش کو ناکام بناتے ہوئے اس مذموم رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ مودی سرکار آنے کے بعد پاکستانی حکومت کو اب پہلے سے زیادہ چوکنا ہونا پڑے گا کیونکہ اس کا متعصبانہ رویہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید مسائل اور مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ مودی سرکار کی ابھی تو یہ شروعات ہیں' آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔