اینڈی فلاور مجھے ٹیم میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے کیون پیٹرسن
انگلش ڈریسنگ روم سے باہر ہونا اچھا رہا، پلیئرز سے تعلقات اچھے ہیں، اسٹار بیٹسمین
انگلش ڈریسنگ روم سے باہر ہونا اچھا رہا، پلیئرز سے تعلقات اچھے ہیں، اسٹار بیٹسمین۔ فوٹو: فائل
انگلینڈ کے سابق بیٹسمین کیون پیٹرسن نے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع کردی، ان کا کہنا ہے کہ میں اب آگے بڑھنا چاہتا ہوں، آسٹریلیا میں ہمارے ڈریسنگ روم کا ماحول کسی صورت خوشگوار نہیں تھا۔
پلیئرز سے میرے تعلقات پہلے بھی اچھے تھے اور اب بھی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے انگلینڈ کی جانب سے ٹیم سے باہر کیے جانے کے بعد اپنے پہلے کالم میں کیا، پیٹرسن نے کہا کہ اس وقت میں ہر چیز کے بارے میں کافی مطمئن ہوں، میں نے اپنے مستقبل کے بارے میں اہل خانہ سے بات چیت شروع کردی ہے، موسم سرما کے سیزن میں میں لطف اندوز نہیں ہو پایا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ ڈریسنگ روم سے باہر ہونا میرے لیے ایک طرح سے اچھا ہی ہے کیونکہ آسٹریلیا میں یہ کسی صورت ایک اچھا مقام نہیں تھا، ہم مسلسل ہار رہے تھے ، میرے خیال میں ڈریسنگ روم کا ماحول انتہائی برا تھا، ایسا سوچنے والا میں اکیلا نہیں تھا بلکہ دماغ سے بات کرنے والے اور پلیئرز بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں، جیسے ہی ہم آسٹریلیا پہنچے تھے وہاں کے میڈیا نے ہمیں ایک طرح سے سینگوں پر اٹھالیا۔
ایسی صورتحال میرے لیے نئی نہیں تھی بلکہ میں تو اس سے کافی لطف اندوز ہورہا تھا مگر دیگر کھلاڑیوں کے اعصاب متاثر ہونے لگے اور جلد ہی آسٹریلیا کے ہاتھوں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پیٹرسن نے دعویٰ کیا کہ سابق کوچ فلاور ہی دراصل ان کو ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے، انھوں نے کہا کہ سڈنی ٹیسٹ کے بعد میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ فلاورنے انگلش بورڈ سے کہا ہے کہ وہ میرے اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے، اگرچہ بعد میں فلاور نے اس بات کی تردید کی مگر جتنا نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، پلیئرز سے تعلقات بہتر نہ ہونے کے بارے میں پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ہمارا آف دی فیلڈ ٹور اچھا رہا تھا میں نے کھلاڑیوں کی کافی مدد کی تھی۔
پلیئرز سے میرے تعلقات پہلے بھی اچھے تھے اور اب بھی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے انگلینڈ کی جانب سے ٹیم سے باہر کیے جانے کے بعد اپنے پہلے کالم میں کیا، پیٹرسن نے کہا کہ اس وقت میں ہر چیز کے بارے میں کافی مطمئن ہوں، میں نے اپنے مستقبل کے بارے میں اہل خانہ سے بات چیت شروع کردی ہے، موسم سرما کے سیزن میں میں لطف اندوز نہیں ہو پایا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ ڈریسنگ روم سے باہر ہونا میرے لیے ایک طرح سے اچھا ہی ہے کیونکہ آسٹریلیا میں یہ کسی صورت ایک اچھا مقام نہیں تھا، ہم مسلسل ہار رہے تھے ، میرے خیال میں ڈریسنگ روم کا ماحول انتہائی برا تھا، ایسا سوچنے والا میں اکیلا نہیں تھا بلکہ دماغ سے بات کرنے والے اور پلیئرز بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں، جیسے ہی ہم آسٹریلیا پہنچے تھے وہاں کے میڈیا نے ہمیں ایک طرح سے سینگوں پر اٹھالیا۔
ایسی صورتحال میرے لیے نئی نہیں تھی بلکہ میں تو اس سے کافی لطف اندوز ہورہا تھا مگر دیگر کھلاڑیوں کے اعصاب متاثر ہونے لگے اور جلد ہی آسٹریلیا کے ہاتھوں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پیٹرسن نے دعویٰ کیا کہ سابق کوچ فلاور ہی دراصل ان کو ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے، انھوں نے کہا کہ سڈنی ٹیسٹ کے بعد میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ فلاورنے انگلش بورڈ سے کہا ہے کہ وہ میرے اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے، اگرچہ بعد میں فلاور نے اس بات کی تردید کی مگر جتنا نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، پلیئرز سے تعلقات بہتر نہ ہونے کے بارے میں پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ہمارا آف دی فیلڈ ٹور اچھا رہا تھا میں نے کھلاڑیوں کی کافی مدد کی تھی۔