نیب نے سزا دلانے کی شرح کا ہدف 65 سے 75 فیصد کردیا

استغاثہ کا تقرر اہلیت کی بنیاد پر یقینی بنانے کا فیصلہ، پراسیکیوٹر جنرل نے ہدایات جاری کردیں

ریفرنس ناکام ہونے کے ذمے دارتحقیقاتی افسر، ڈائریکٹر جنرل اورڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہونگے۔ فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو نے سزا دلوانے کی شرح کاہدف 65فیصد سے بڑھاکر 75 فیصد کردیا۔


اس مقصد کیلیے استغاثہ کاتقرر اہلیت کی بنیادپر یقینی بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے، ریفرنس کی ناکامی کی صورت میںتحقیقاتی افسرکے علاوہ ڈائریکٹرجنرل اور ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل بھی ذمے دارہوںگے، بتایاگیا ہے کہ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعدپراسیکیوٹرجنرل نے نیب کے تمام علاقائی دفاترکو ہدایات جاری کردی ہیںجس کے مطابق عدالتوںمیں مقدمات کی مضبوط پیروی کے ذریعے تسلی بخش نتائج حاصل کرنے کے لیے استغاثہ کومضبوط بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے، مقدمات کی موثرتحقیق کیلیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام کابھی فیصلہ کیاگیا ہے جوتحقیقاتی افسران اورایک قانونی ماہرپر مشتمل ہوں گی۔

ریفرنس تحقیقاتی افسرکے بجائے استغاثہ تیارکرے گا جبکہ ریفرنس تیارکرنے والاقانونی ماہرہی عدالت میںمقدمے کی پیروی کریگا، تفتیشی افسرعدالتی احکام پرہی عدالت میںپیش ہوگا، ریفرنس دائرکرنے سے پہلے نیب کے متعلقہ ڈی جی، ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل، تحقیقاتی افسر اور سینئرافسر مقدمے کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلیے وقت کا تعین کریںگے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل مقدمے میں پیشرفت کویقینی بنانے کیلیے ہفتہ وارنگرانی کریں گے، قومی احتساب بیورو نے یہ بھی فیصلہ کیاہے کہ وکلامقدمات کے التواکی درخواست نہیںکریںگے اوردوسرے فریق کی جانب سے التواکی درخواستوںکی مخالفت کی جائے گی۔
Load Next Story