منی پاکستان نیا تھیٹر آف وار
ائیرپورٹ کی حدود میں دہشت گردی کا واقعہ ریاست مخالف عناصر کی طرف سے جارحانہ عزائم کا تسلسل ہے
منی پاکستان سمیت پورے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نئی لہر کا پوری قوم کو سامنا ہے ۔ یہ چیلنج مشترکہ عزم کا متقاضی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
لاہور:
حقیقت یہ ہے کہ ائیرپورٹ کی حدود میں دہشت گردی کا واقعہ ریاست مخالف عناصر کی طرف سے جارحانہ عزائم کا تسلسل ہے اور قومی سلامتی کے معاملے کی سنگینی کی جانب ایک واضح اور بلیغ اشارہ ہے ۔
جس سے قومی سلامتی کے اداروں کو دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے آخری حد تک جانے کی اب اسی انداز میں جارحانہ اور فیصلہ کن پالیسی بنانی چاہیے جو پیشگی حملہ ) (pre emptiveحکمت عملی سے مشابہ ہو، اعصاب شکن ہو، اور جس سے حملہ آوروں کی ایک طرف کمر ٹوٹ جائے، دوسری جانب ان کا تعاقب جاری رکھا جائے ،اور ساتھ ہی جناح ٹرمینل اور اولڈٹرمینل سے ملحقہ تمام کچی آبادیوں کی از سر نو اسکریننگ کی جائے جہاں امن پسند مکینوں کی شکایات کے مطابق انتہائی خطرناک دہشت گرد اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنائے ہوئے ہیں ۔
حیران کن امر یہ ہے کہ کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردی کے ہولناک واقعے کے بعد منگل کو اے ایس ایف لیڈیز ہاسٹل کے قریب اکیڈمی پر دہشت گردوں کے دوبارہ حملہ کی اطلاع نے بڑی کھلبلی مچادی ، بعض اطلاعات کے چار دہشت گردوں کی اے ایس ایف سے مڈ بھیڑ ہوئی جو موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آئے تھے ، جس کے فوری بعد اے ایس ایف کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کو اندر جانے سے روکنے کے لیے ایکشن لیا اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ، اگرچہ اس جھڑپ میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ واقعہ دہشت گردی کا نہیں بلکہ بعض جرائم پیشہ افراد نے گڑ بڑ کی تھی جنھیں بھگا دیا گیا ۔
لیکن حکمرانوں کو سنجیدگی سے ان اسباب و عوامل پر غور و فکر کرنا چاہیے جسے بنیاد بنا کر ریاست مخالف عناصر کی طرف سے قوم پر مسلط ایک اعصابی جنگ کی صورت پیدا کی جارہی ہے تاکہ منی پاکستان کو تھیٹر آف وار میں بدل دیا جائے ۔ واضح رہے ملک کے ممتاز اہل فکر اور تجزیہ کار اس خطرے کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ دہشت گرد اپنا عسکریت پسندانہ اگلا مورچہ کراچی میں لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ کراچی ایئر پورٹ میں خوفناک کارروائی اور منصوبہ بندی کے بعد کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ منی پاکستان سمیت پورے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نئی لہر کا پوری قوم کو سامنا ہے ۔ یہ چیلنج مشترکہ عزم کا متقاضی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فخر ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے کراچی ائیرپورٹ پر مسافروں اور قومی املاک کو بچایا۔ فوج، رینجرز، اے ایس ایف، پولیس کے جوانوں اور سول ایوی ایشن حکام نے بروقت کارروائی کی جس کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوا۔ انھوں نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حملے کی شدید الفاظ مذمت کی اور اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انھوں نے شہدأ کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کے ہر ممکن بہتر علاج کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے تفتان میں زائرین پر حملے کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
انھوں نے آئی جی ایف سی کو ہدایت کی کہ وہ خود دیگر اداروں سے مل کر مربوط حکمت بنائیں جب کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی ایئر پورٹ سانحہ پر کہا کہ تمام قومی اثاثے محفوظ ہیں، 2 یا 3 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے، دہشت گرد بڑی کارروائی کرنا چاہتے تھے، ہر جگہ دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، حملہ کراچی ایئرپورٹ پر نہیں پرانے ٹرمینل پر ہوا، دہشت گردوں کا ٹارگٹ طیارے تھے، فوج، رینجرز، پولیس اور اے ایس ایف نے حملہ ناکام بنادیا ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے جانوں کا نذرانہ دے کر لوگوں کی جان بچائی اور ملک کے قیمتی اثاثے محفوظ بنائے، قیمتی جانیں گئیں، انھوں نے زخمیوں کے لیے بھی دعا کی ۔ مگر اسی سانحے کے دوران انتظامی سطح پر مجرمانہ غفلت اور ریسکیو آپریشن مین تساہل کا ایک دردناک واقعہ بھی پیش آیا جس میں کارگو شیڈ کے 7 لاپتہ افراد کی تلاش ایکسپریس نیوز کی چیخ و پکار کے بعد شروع ہوئی ، منگل کی صبح سی این این نے اپنی نیوز کوریج میں سات بدنصیب محنت کشوں کی لاشوں کی اطلاع دی ۔
کولڈ اسٹوریج کی عقبی دیوار توڑتے ہی اندر سے آگ کا شعلہ بھڑکا تھا جب کہ اتوار کی شب لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ آخری اطلاعات آنے تک کولڈ اسٹوریج کی آگ پر قابو پانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری تھا ۔تاہم ایک افسوس ناک واردات ایسی بھی ہوئی کہ رات گئے کولڈ اسٹوریج میں لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کاموں کے دوران غیر متعلقہ افراد کی بڑی تعداد میں اندر گھس گئی اور وہاں پر جلے سامان میں سے بچ جانے والے موبائل اٹھا کر اپنی جیبوں میں رکھ لیے جسے وہاں پر موجود افراد نے رنگے ہاتھوں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا کر وہاں سے باہر نکال دیا اس حوالے سے مختلف قسم کا سامان اٹھائے جانے کے کئی واقعات ہوئے جب کہ اس موقعے پر نہ تو رینجرز تھی اور نہ ہی پولیس جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضمیر فروش افراد نے جلنے سے بچ جانے والے موبائل فون اور دیگر سامان کو اٹھانا شروع کر دیا جب کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کو تلاش کرر ہے تھے ۔
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان پیر کی شب کراچی ائیر پورٹ پر کولڈ اسٹوریج میں پھنسے افراد اور وہاں لگی آگ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ایئرپورٹ پہنچے اور وہاں پھنسے ہوئے افراد کے ورثا سے ملاقات کی ، ان کے مسائل سنے اور موقع پر موجود انتظامیہ کو فائر بریگیڈ کی تعداد بڑھانے اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر گیسز کا انتظام کرنے کے احکام جاری کیے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
بلاشبہ ہمارے ملک میں یہ روایت رہی ہے کہ جب تک کوئی آفت نازل نہ ہو، سیلاب، زلزلہ ، کسی کمرشل یا رہائشی عمارت کے انہدام یا آتشزدگی سے ہلاکتیں نہ ہوں اور تباہی نہ پھیلے ، دلگداز حادثات نہ ہوں، اس وقت تک ریاستی و حکومتی سطح پر انتظامیہ ''سب اچھا ہے'' کی ڈفلی بجاتی رہتی ہے مگر جیسے ہی کسی سانحہ کی خبر ملتی ہے توبے ترتیب ریسکیو آپریشن اور بے ہنگم امدادی کاموں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
اتنے برس بیت گئے نہ قحط اور آفات سماوی کے اثرات و نتائج سے نمٹنے کا کوئی میکنزم موجود ہے نہ ہی ڈزاسٹر منجمنٹ کے حوالہ سے کوئی شایان شان ادارہ جاتی انتظامات کا مثالی سیٹ اپ ملتا ہے، ہر کام الل ٹپ ہوتا ہے اور پھر بڑے بلند بانگ دعوے ہوتے ہیں ، جب کہ دنیا بھر میں شہر اور اس کے شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح سمجھی جاتی ہے، اور سمندری طوفان سے لے کر غذائی قلت ، زلزلہ ، ٹرینوں اور دیگر حادثات سے بچنے یا اس موقعے پر امدادی کاموں کے ضمن میں پورا نظام اور مکمل مشینری موجود ہوتی ہے ، آخر ہم کب اس منزل تک پہنچیں گے ۔ کیا کراچی کا معاشی، سماجی اور تزویراتی محاصرہ کرنے کی گھناؤنی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کی جوابی حکمت عملی تیار ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ائیرپورٹ کی حدود میں دہشت گردی کا واقعہ ریاست مخالف عناصر کی طرف سے جارحانہ عزائم کا تسلسل ہے اور قومی سلامتی کے معاملے کی سنگینی کی جانب ایک واضح اور بلیغ اشارہ ہے ۔
جس سے قومی سلامتی کے اداروں کو دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے آخری حد تک جانے کی اب اسی انداز میں جارحانہ اور فیصلہ کن پالیسی بنانی چاہیے جو پیشگی حملہ ) (pre emptiveحکمت عملی سے مشابہ ہو، اعصاب شکن ہو، اور جس سے حملہ آوروں کی ایک طرف کمر ٹوٹ جائے، دوسری جانب ان کا تعاقب جاری رکھا جائے ،اور ساتھ ہی جناح ٹرمینل اور اولڈٹرمینل سے ملحقہ تمام کچی آبادیوں کی از سر نو اسکریننگ کی جائے جہاں امن پسند مکینوں کی شکایات کے مطابق انتہائی خطرناک دہشت گرد اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنائے ہوئے ہیں ۔
حیران کن امر یہ ہے کہ کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردی کے ہولناک واقعے کے بعد منگل کو اے ایس ایف لیڈیز ہاسٹل کے قریب اکیڈمی پر دہشت گردوں کے دوبارہ حملہ کی اطلاع نے بڑی کھلبلی مچادی ، بعض اطلاعات کے چار دہشت گردوں کی اے ایس ایف سے مڈ بھیڑ ہوئی جو موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آئے تھے ، جس کے فوری بعد اے ایس ایف کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کو اندر جانے سے روکنے کے لیے ایکشن لیا اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ، اگرچہ اس جھڑپ میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ واقعہ دہشت گردی کا نہیں بلکہ بعض جرائم پیشہ افراد نے گڑ بڑ کی تھی جنھیں بھگا دیا گیا ۔
لیکن حکمرانوں کو سنجیدگی سے ان اسباب و عوامل پر غور و فکر کرنا چاہیے جسے بنیاد بنا کر ریاست مخالف عناصر کی طرف سے قوم پر مسلط ایک اعصابی جنگ کی صورت پیدا کی جارہی ہے تاکہ منی پاکستان کو تھیٹر آف وار میں بدل دیا جائے ۔ واضح رہے ملک کے ممتاز اہل فکر اور تجزیہ کار اس خطرے کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ دہشت گرد اپنا عسکریت پسندانہ اگلا مورچہ کراچی میں لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ کراچی ایئر پورٹ میں خوفناک کارروائی اور منصوبہ بندی کے بعد کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ منی پاکستان سمیت پورے ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نئی لہر کا پوری قوم کو سامنا ہے ۔ یہ چیلنج مشترکہ عزم کا متقاضی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فخر ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے کراچی ائیرپورٹ پر مسافروں اور قومی املاک کو بچایا۔ فوج، رینجرز، اے ایس ایف، پولیس کے جوانوں اور سول ایوی ایشن حکام نے بروقت کارروائی کی جس کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوا۔ انھوں نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حملے کی شدید الفاظ مذمت کی اور اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انھوں نے شہدأ کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کے ہر ممکن بہتر علاج کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم نے تفتان میں زائرین پر حملے کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
انھوں نے آئی جی ایف سی کو ہدایت کی کہ وہ خود دیگر اداروں سے مل کر مربوط حکمت بنائیں جب کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی ایئر پورٹ سانحہ پر کہا کہ تمام قومی اثاثے محفوظ ہیں، 2 یا 3 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے، دہشت گرد بڑی کارروائی کرنا چاہتے تھے، ہر جگہ دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، حملہ کراچی ایئرپورٹ پر نہیں پرانے ٹرمینل پر ہوا، دہشت گردوں کا ٹارگٹ طیارے تھے، فوج، رینجرز، پولیس اور اے ایس ایف نے حملہ ناکام بنادیا ۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے جانوں کا نذرانہ دے کر لوگوں کی جان بچائی اور ملک کے قیمتی اثاثے محفوظ بنائے، قیمتی جانیں گئیں، انھوں نے زخمیوں کے لیے بھی دعا کی ۔ مگر اسی سانحے کے دوران انتظامی سطح پر مجرمانہ غفلت اور ریسکیو آپریشن مین تساہل کا ایک دردناک واقعہ بھی پیش آیا جس میں کارگو شیڈ کے 7 لاپتہ افراد کی تلاش ایکسپریس نیوز کی چیخ و پکار کے بعد شروع ہوئی ، منگل کی صبح سی این این نے اپنی نیوز کوریج میں سات بدنصیب محنت کشوں کی لاشوں کی اطلاع دی ۔
کولڈ اسٹوریج کی عقبی دیوار توڑتے ہی اندر سے آگ کا شعلہ بھڑکا تھا جب کہ اتوار کی شب لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ آخری اطلاعات آنے تک کولڈ اسٹوریج کی آگ پر قابو پانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری تھا ۔تاہم ایک افسوس ناک واردات ایسی بھی ہوئی کہ رات گئے کولڈ اسٹوریج میں لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کاموں کے دوران غیر متعلقہ افراد کی بڑی تعداد میں اندر گھس گئی اور وہاں پر جلے سامان میں سے بچ جانے والے موبائل اٹھا کر اپنی جیبوں میں رکھ لیے جسے وہاں پر موجود افراد نے رنگے ہاتھوں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا کر وہاں سے باہر نکال دیا اس حوالے سے مختلف قسم کا سامان اٹھائے جانے کے کئی واقعات ہوئے جب کہ اس موقعے پر نہ تو رینجرز تھی اور نہ ہی پولیس جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضمیر فروش افراد نے جلنے سے بچ جانے والے موبائل فون اور دیگر سامان کو اٹھانا شروع کر دیا جب کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کو تلاش کرر ہے تھے ۔
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان پیر کی شب کراچی ائیر پورٹ پر کولڈ اسٹوریج میں پھنسے افراد اور وہاں لگی آگ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ایئرپورٹ پہنچے اور وہاں پھنسے ہوئے افراد کے ورثا سے ملاقات کی ، ان کے مسائل سنے اور موقع پر موجود انتظامیہ کو فائر بریگیڈ کی تعداد بڑھانے اور آگ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر گیسز کا انتظام کرنے کے احکام جاری کیے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
بلاشبہ ہمارے ملک میں یہ روایت رہی ہے کہ جب تک کوئی آفت نازل نہ ہو، سیلاب، زلزلہ ، کسی کمرشل یا رہائشی عمارت کے انہدام یا آتشزدگی سے ہلاکتیں نہ ہوں اور تباہی نہ پھیلے ، دلگداز حادثات نہ ہوں، اس وقت تک ریاستی و حکومتی سطح پر انتظامیہ ''سب اچھا ہے'' کی ڈفلی بجاتی رہتی ہے مگر جیسے ہی کسی سانحہ کی خبر ملتی ہے توبے ترتیب ریسکیو آپریشن اور بے ہنگم امدادی کاموں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
اتنے برس بیت گئے نہ قحط اور آفات سماوی کے اثرات و نتائج سے نمٹنے کا کوئی میکنزم موجود ہے نہ ہی ڈزاسٹر منجمنٹ کے حوالہ سے کوئی شایان شان ادارہ جاتی انتظامات کا مثالی سیٹ اپ ملتا ہے، ہر کام الل ٹپ ہوتا ہے اور پھر بڑے بلند بانگ دعوے ہوتے ہیں ، جب کہ دنیا بھر میں شہر اور اس کے شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح سمجھی جاتی ہے، اور سمندری طوفان سے لے کر غذائی قلت ، زلزلہ ، ٹرینوں اور دیگر حادثات سے بچنے یا اس موقعے پر امدادی کاموں کے ضمن میں پورا نظام اور مکمل مشینری موجود ہوتی ہے ، آخر ہم کب اس منزل تک پہنچیں گے ۔ کیا کراچی کا معاشی، سماجی اور تزویراتی محاصرہ کرنے کی گھناؤنی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کی جوابی حکمت عملی تیار ہے؟