شامی صدر کی طرف سے قیدیوں کو عام معافی کا اعلان

قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان ان پر بھی لاگو ہو گا جن کو انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے تحت گرفتار کیا گیا

بشارالاسد کو صدارتی انتخاب میں 90 فیصد ووٹ پڑے ہیں، فوٹو: فائل

شام کے صدر بشار الاسد نے انتخابات میں ایک بار پھر اپنی کامیابی کے بعد تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ شام کے سرکاری ذرایع کے مطابق صدر بشارالاسد کو صدارتی انتخاب میں 90 فیصد ووٹ پڑے ہیں جب کہ مغربی ذرایع نے ووٹروں کی اس شرح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان ان پر بھی لاگو ہو گا جن کو انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جولائی 2012میں جاری ہونے والے اس قانون کے تحت حکومت کے ہزاروں مخالفین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ادھر قطر کی حکومت نے' جو صدر بشار کے مخالفین کی حامی ہے' اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ شام میں سرکاری فوجوں کی طرف سے جنگ بندی کرائی جائے۔


جب کہ ایرانی صدر نے جو ترکی کے دورے پر انقرہ پہنچے ہیں' کہا ہے کہ شام میں قیام امن کے حوالے سے ان کی اپنے ترک ہم منصب سے بات ہوئی ہے جس سے ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔ واضح رہے شامی حکومت کی طرف سے قیدیوں کی سزاؤں میں کمی یا ان کی رہائی کا اعلان پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا ۔

تاہم اس مرتبہ دہشت گردی کے الزام کے تحت قید کیے جانے والوں کو بھی عام معافی دیدی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچ 2011 سے ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد کو مختلف الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے۔ شام میں حقوق انسانی کے ایک گروپ نے الزام عاید کیا ہے کہ قیدیوں میں سے کم از کم 18 ہزار لاپتہ ہو چکے ہیں جب کہ ہلاک کیے جانے والے مخالفین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز بیان کی گئی ہے۔ بہر حال اس صدارتی الیکشن سے بھی شام میں قیام امن کی امید کم ہے' زیادہ بہتر ہوتا اگر اپوزیشن کے ساتھ کسی سمجھوتے کے تحت صدارتی الیکشن ہوتا' اس صورت میں شام میں امن کا قیام ممکن ہو سکتا تھا۔
Load Next Story