مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ کا فتویٰ

زائد المیعاد اشیائے خور و نوش کی فروخت شرک اور انسانوں کے قتل کی کوشش کے مترادف ہے

تول اور پیمائش میں کمی کرنے والی قوم پر عذاب کی نوید قران پاک میں بھی دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے اپنے حالیہ فتوے میں قرار دیا ہے کہ زائد المیعاد اشیائے خور و نوش کی فروخت شرک اور انسانوں کے قتل کی کوشش کے مترادف ہے۔ واضح رہے تول اور پیمائش میں کمی کرنے والی قوم پر عذاب کی نوید قران پاک میں بھی دی گئی ہے۔


سعودی مفتی اعظم کا یہ فتویٰ اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جس پر ہمارے ملک میں کوئی خصوصی توجہ نہیں دی جاتی۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں صرف کھانے پینے کی اشیاء میں ہی ملاوٹ نہیں کی جاتی بلکہ جعلی ادویات کے کاروبار کے ذریعے براہ راست انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے اور اس کے مستقل سدباب کے بجائے محض وقتی ابال کے تحت کوئی تادیبی مہم شروع کی جاتی ہے۔ کچھ پکڑ دھکڑ ہوتی ہے اور پھر وہی روایتی لاپروائی۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ شیخ عبدالعزیز آل شیخ کے اس فتوے کی بھر پور انداز سے تشہیر کرے بلکہ تمام دکانداروں اور تاجروں کو سختی سے ہدایات جاری کرے کہ وہ اس فتوے کی نقل اپنی دکانوں اور اداروں پر نمایاں طور پر لگائیں۔ اور اس کی خلاف ورزی کو قابل مواخذہ قرار دیا جائے۔

سعودی مفتی اعظم نے خرید و فروخت میں دھوکا دہی اور لین دین کے معاملات میں بد معاملگی کرنے پر انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ یتیموں کے حقوق اور امانتیں ادا نہ کرنے میں کوتاہی کرنا، جھوٹی قسمیں کھانا، اپنے مسلمان بھائیوںکوکافر کہنا بڑے گناہ ہیں۔ یہاں بڑے گناہ کا مطلب اگر گناہ کبیرہ سمجھا جائے تو پھر اس کی سزا کے تصور سے ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہئیں۔ یاد رہے سعودی مفتی نے قبل ازیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھی ایک فتویٰ جاری کیا تھا۔
Load Next Story