…چراغ مفلس کا پہلا حصہ

تکنیکی اعتبار سے پاکستان میں تقریباً 20 یا21 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے

zahedahina@gmail.com

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

آج سے لگ بھگ 300 برس پہلے پیدا ہونے والے میر صاحب نے جب یہ شعر کہا تھا' تو ان کے وہم و گمان میں بھی کب ہوگا کہ کچھ برس جاتے ہیں جب گھروں میں چراغ نہیں' قمقمے اُجالا کریں گے اور انھیں روشن رکھنا سرکارِ والا تبارکی ذمے داری ہوگی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ آنے والے زمانوں میں ان کے اشعار پر سر دھننے والوں کے گھروں کے چراغ اور دل بھی بجھے ہوئے رہیں گے۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جب گھر اور بازار میں ' محل اور مزار پر کھنچے ہوئے تاروں میں بجلی' لہو بن کر دوڑے گی۔

انگریزوں نے جب ہندوستان بھر میں بجلی کے کھمبے کھڑے کیے اور تار کھینچے تو لوگوں نے یہ معجزہ رونما ہوتے دیکھا کہ یہ تاران کی گلیوں اور گھروں تک آتے ہیں اور اندھیرا پڑتے ہی وہ اپنے گھروں کو روشن کرسکتے ہیں۔ وہ زمانہ چلا گیا تھا جب میونسپلٹی کا ملازم سیڑھی اٹھائے ایک ہاتھ میں تیل کی کُپی لیے میونسپل کارپوریشن کی لالٹینوں میں تیل ڈالتا اور انھیں روشن کرتا چلا جاتا تھا۔ شہر اور دیہات میںبجلی آئی تو حسب معمول کچھ لوگوں نے اسے فرنگی کی سازش ٹھہرایا لیکن لوگوں نے دیکھا کہ ان کے گھر کے اندھیرے دور ہورہے ہیں اور ایک معجزہ رونما ہورہا ہے۔

کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے بجلی کے ان کھمبوں کی آرتی اتاری اور ایسی عورتیں بھی تھیں جو تُلسی کے پودے کو پانی دیتے ہوئے' آنگن میں روشن بلب کو پرنام کرلیتی تھیں۔ بجلی کی کارگزاریاں بڑھتی چلی گئیں۔ ریڈیو ہماری زندگیوں میں داخل ہوا اور لوگ حق دق رہ گئے۔ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا' کسی ایک گھر میں ریڈیو ہوتا تو دور دور سے لوگ اسے سننے آتے اور احترام کے ساتھ صحن میں بیٹھ جاتے۔ ہزاروں میل دور سے آنے والی آوازیں سنتے۔ کبھی ریڈیو برلن' کبھی بی بی سی... لوگوں کی سمجھ میں نہ آتا کہ اتنے بہت سے لوگ ایک ڈبے میں کیسے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ بائیسکوپ آیا تو وہ بھی بجلی کا کرشمہ تھا۔ اسکرین پر زندہ ناچ گانا ہورہا ہے۔

ہیروئن گھر کے دالان میں آہ بھرتے ہوئے گارہی ہے اور ہیرو شانے پر شال ڈالے کہیں اور ٹہل رہا ہے۔ پردۂ سیمیں پر ریل گاڑی گزر رہی ہے لیکن پکچر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ غرض ہر طرف بجلی کا بول بالا تھا۔ کیا فقیر اورکیا امیر ہر گھر میں اُجالا تھا۔ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں اُمید کے چراغ جل اٹھے تھے۔ لاٹ صاحب کا محل اسی سے بقعہ نور تھا اور کسان کی جھونپڑی میں بھی خواہ 25 واٹ کا ہو بلب جھلملاتا تھا۔ کتابوں سے عشق کرنے والوں کی چاندی ہوگئی تھی جب تک اور جتنا چاہو پڑھتے رہو لالٹین میں تیل ختم ہونے کا دھڑکا نہیں۔

آج یہ عالم ہے کہ جھونپڑی میں رہنے والے بھی بجلی کی روشنی کے طلب گار ہیں اور ان کے ٹیوب ویل بھی اسی بجلی کے مرہون منت ہیں۔ ہمارے یہاں چند دہائیوں سے گڑ بڑ یہ ہوئی کہ غریبوں نے ٹیلی وژن دیکھنے اور موبائل چارج کرنے کے لیے کنڈا ڈالنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھا۔ان سے کیا شکایت کی جائے کہ متعدد اعلیٰ سرکاری افسروں اور خوش حال گھروں میں بھی گرمی کا موسم کنڈے کے سہارے گزرتا ہے اور گھروں میں تین چارایئرکنڈیشنر صبح سے شام اور شام سے صبح تک 42 اور 45 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو پچھاڑے رہتے ہیں۔ یہ چوری اور سینہ زوری ملکی معیشت کو کیا دن دکھارہی ہے اس سے انھیں نہ کوئی غرض' نہ مطلب۔


اس پس منظر میں بجلی کے سنگین بحران پر نظر کیجیے تو دل دہل جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں ہلکان ہیں۔ قصبوں اور دیہاتوں کی بات تو جانے دیجیے کہ بجلی وہاں روایتی چھلاوا بن چکی ہے۔ابھی آئی' ابھی گئی۔ جی چاہتا ہے کہ الف لیلہ کا الہ دین ہاتھ لگ جائے تو اس کا چراغ گھس کر بجلی طلب کی جائے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ الہٰ دین کا چراغ اور اس سے نکلنے والا بندہ بے دام' اب قصہ کہانی ہوچکے... زمینی حقائق کسی عفریت کی طرح منہ پھاڑے ہمیں نگلنے کو تیار بیٹھے ہیں اور اس کا بنیادی سبب ملکی ضرورتوں سے بہت کم بجلی کی پیداوار ہے۔

80 بلکہ 90 کی دہائی تک یہ عالم تھا کہ ماہرین اس بات پر ہائے واویلا مچاتے تھے کہ ملک کی صنعتی ضرورتوں اور گھریلو استعمال کے لیے بجلی کم یاب ہونے والی ہے لیکن ان ماہرین کی بات پر نہ ہمارے منتخب حکمران کان دھرتے تھے نہ ان آمروں نے فغان درویش سننے کی کوشش کی جو خود کو دنیا کے ہر مرض کا علاج کرنے والا بتاتے ہیں۔ یہ حضرات جو بہ زبان خود اپنی اعلیٰ کارکردگی کے قصیدے پڑھتے رہتے ہیں ان سے جب کبھی لوگوں نے اس بارے میں گفتگو کی کوشش کی تو انھوں نے شاندار منصوبوں کے تذکروں کے انبار لگادیے۔ ہم جیسے کم علم لوگوں کی سمجھ میں صرف اتنی سی بات آئی کہ بجلی تو ہمیں نہ مل سکی لیکن اربوں ڈالر گردشی قرضوں کی نذر ہوگئے۔

گزشتہ 15 برسوں کے دوران ہمارے گھریلو صارفین اور صنعتوں کو ہلاکر رکھ دینے والی بجلی کے بحران پر نظر ڈالی جائے تو وہ کہانی کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران رفتہ رفتہ پیدا ہوا اور 2013 تک اس نے بھیانک شکل اختیارکرلی ۔ توانائی کی بے انتہا کمی کی وجہ سے صنعتی' کاروباری اور زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے ملک میں معاشی ترقی کی شرح نمو مسلسل کم ہوتی چلی گئی۔ اس بحران کے ایک نہیں متعدد پہلو ہیں جن پر غور کیا جانا ضروری ہے۔

اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ 2000 سے لے کر 2012 تک ملک میں بجلی پیدا کرنے کا کوئی بھی منصوبہ شروع اور مکمل کیوں نہیں ہوسکا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کوئی نیا منصوبہ نہیں لگایا گیا۔ بعد ازاں' پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی اس ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی۔

تکنیکی اعتبار سے پاکستان میں تقریباً 20 یا21 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے لیکن عملاً اس مقدار میں بجلی پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔ اصل پیداوار( زیادہ سے زیادہ) 16ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سال کے کئی مہینوں میں بڑے بڑے ڈیموں میں پانی کی کمیابی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہائیڈل پاور پروڈکشن کم ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد بجلی گھر سالانہ دیکھ بھال اور مرمت یا فنی خرابی کے باعث کچھ وقت کے لیے بند رہتے ہیں جس سے توانائی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔علاوہ ازیں' آئی پی پیز کو بر وقت ادائیگی نہ کرنے کے باعث یہ ادارے بجلی کی پیداوار کم کردیتے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں دنیا اور پاکستان کی بدنصیبی اور جنرل موصوف کی حکومت کی خوش نصیبی یہ تھی کہ 9/11 کا سانحہ رونما ہوگیا۔ جنرل صاحب کی پالیسیوں کے باعث امریکا کی طرف سے غیر معمولی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت میں جعلی اور مصنوعی خوش حالی نظر آنے لگی۔ پیسوں کی فراوانی کی وجہ سے مشرف حکومت آئی پی پیز کو بروقت ادائیگی کرتی رہی جس سے بجلی کی پیداوار میں کمی نہیں آئی اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی محدود رہا۔

2006سے حالات بدلنے لگے ۔ امریکا اور جنرل صاحب کی حکومت میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ امریکا نے بار بار ان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دوغلی پالیسی اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے۔ امریکی ناراضگی کی وجہ سے مالی امداد میں کمی اور رکاوٹ شروع ہوئی جس سے جعلی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا اور ورلڈ بینک نے امداد سے ہاتھ کھینچ لیا ساتھ ہی دیگر ملکوں نے تعاون نہیں کیا جس کے باعث حکومت کے پاس سرمائے کی شدید قلت ہوگئی۔ اس نے IPPs کو بروقت ادائیگی روک دی اور وہ وقت آگیا کہ ملک میں 20اور 22گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہونے لگی' گردشی قرضہ' شیطانی قرضہ بن گیا۔

(جاری ہے)
Load Next Story