جسٹسر افضل سومرو کے طبی معائنے کیلیے بورڈ تشکیل دینے کا حکم
ان سے بات کرنیکی کوشش کی تاہم جسٹس (ر) افضل سومرو کچھ کہہ نہیں پائے،کمشنر کی رپورٹ۔
رجسٹرار کوکمشنر مقرر کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس کی ذہنی و جسمانی صحت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ فوٹو: ایکسپریس
سندھ ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ محمد افضل سومرو کے طبی معائنے کیلیے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے8 اکتوبرکو رپورٹ طلب کرلی ہے۔
بدھ کو سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے سابق چیف جسٹس کے متعلق اپنی رپورٹ بینچ کے روبرو پیش کی، رجسٹرار کوکمشنر مقرر کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس کی ذہنی و جسمانی صحت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمشنر17ستمبر کو اسسٹنٹ رجسٹرار آصف مجید کے ہمراہ جسٹس(ر) محمد افضل سومرو سے ملنے ان کی رہائش گاہ بیچ ویو گئے تھے، جسٹس (ر) محمد افضل سومرو اپنی دوسری اہلیہ حنا سومرو کے سہارے سے ڈرائنگ روم تک آئے، کمشنر نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم کوشش کے باوجود جسٹس(ر) افضل سومرو کچھ کہہ نہیں پائے۔
رجسٹرار کے مطابق ان کی اہلیہ نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے ان کا علاج جاری ہے، درخواست گزار کی جانب سے ارشد لودھی جبکہ مدعا علیہان کی جانب سے محمود عالم، سید جمیل احمد شاہ، مانیہ سومرو ایڈووکیٹ پیش ہوئے، مدعا علیہان کے وکلا نے اعتراض کیا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں، درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کیلیے دیوانی دعویٰ دائر کرسکتے ہیں۔
بدھ کو سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے سابق چیف جسٹس کے متعلق اپنی رپورٹ بینچ کے روبرو پیش کی، رجسٹرار کوکمشنر مقرر کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس کی ذہنی و جسمانی صحت کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمشنر17ستمبر کو اسسٹنٹ رجسٹرار آصف مجید کے ہمراہ جسٹس(ر) محمد افضل سومرو سے ملنے ان کی رہائش گاہ بیچ ویو گئے تھے، جسٹس (ر) محمد افضل سومرو اپنی دوسری اہلیہ حنا سومرو کے سہارے سے ڈرائنگ روم تک آئے، کمشنر نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم کوشش کے باوجود جسٹس(ر) افضل سومرو کچھ کہہ نہیں پائے۔
رجسٹرار کے مطابق ان کی اہلیہ نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ سے ان کا علاج جاری ہے، درخواست گزار کی جانب سے ارشد لودھی جبکہ مدعا علیہان کی جانب سے محمود عالم، سید جمیل احمد شاہ، مانیہ سومرو ایڈووکیٹ پیش ہوئے، مدعا علیہان کے وکلا نے اعتراض کیا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں، درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کیلیے دیوانی دعویٰ دائر کرسکتے ہیں۔