آہ نواب خیر بخش مری

نواب صاحب گو کہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے لیکن بلوچ نیشنل ازم کے حوالے سے وہ ایک فکری رہنما کی حیثیت رکھتےتھے

نواب صاحب گو کہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے لیکن بلوچ نیشنل ازم کے حوالے سے وہ ایک فکری رہنما کی حیثیت رکھتےتھے۔ فوٹو: فائل

LONDON:
بلوچ نیشنل ازم کے فکری رہنما نواب خیر بخش مری کے انتقال سے بلوچستان ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گیا ہے، نواب صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں اور علم و فراست اور سیاسی تدبر کا ایک زمانہ معترف تھا، مطالعے کی وسعت کی بنا پر ان کا شمار اہل علم میں ہوتا تھا۔ انھوں نے 1950ء میں مری قبیلے کے سربراہ کے طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھالیں۔ نواب خیر بخش مری نے اپنے بلوچ سیاسی رفقاء اور غیر بلوچ آٹھ سیاسی جماعتوں میں پاکستان کی سیاست کے نشیب و فراز دیکھے۔

بالخصوص 1960ء کی دہائی کے آخری نصف اور 1970ء کی دہائی کے پہلے نصف پر مشتمل ان کی زندگی کے دس سال بہت تیز رفتار اور بنیادی فیصلوں کے سال رہے۔ انھوں نے ووٹ اور پارلیمنٹ کی سیاست کبھی ترک نہیں کی۔ ''ون یونٹ توڑ دو'' کے نعرے سے نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاست کرنے والے نواب صاحب کو اسی زمانے میں حیدر آباد سازش کیس کو بھی بھگتنا پڑا۔انھوں نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے لیے نہ صرف جدوجہد کی بلکہ اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے کسی بھی حکومت سے تعلقات ''خوشگوار'' نہیں رہے۔


نواب خیر بخش مری کو اس وقت بلوچستان سے سوویت یونین کوچ کر کے جلاوطنی دیکھنی پڑی، جب ذوالفقار بھٹو نے بلوچستان کی آئینی صوبائی حکومت کو برطرف کر کے آپریشن شروع کر دیا تھا جس کے نتیجے میں بلوچستان میں صدائے احتجاج بلند ہوئی اور سردار عطاء اللہ مینگل، خان ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، حاصل خان بزنجو اور دیگر قوم پرست رہنما گرفتار ہوئے۔ نواب خیربخش مری نے اصولوں پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا اپنے موقف پر آخری وقت تک ڈٹے رہے۔ بلاشبہ بلوچستان ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔

نواب صاحب گو کہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے لیکن بلوچ نیشنل ازم کے حوالے سے وہ ایک فکری رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ نئی نسل ان کے افکار وخیالات سے متاثر تھی اور اس سلسلے میں ان سے رہنمائی بھی لیتی تھی۔ خرابی صحت کی وجہ سے سیاست میں غیر فعال ہونے کے بعد وہ اپنا بیشتر وقت کراچی میں گزارتے تھے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سابقہ حکومتوں نے ان سے کئی مرتبہ تعاون طلب کیا تاہم ان کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ پہلے حکمران بلوچوں کو حقوق دینے کے لیے خلوص نیت سے کام لیں۔

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نواب خیر بخش مری کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے نواب صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اصول پرست سیاست دان تھے، جنہوں نے تمام عمر اصول پرستی کی خاطر جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلا وطنی کی زندگی گزاری۔ مرحوم کی بلوچستان کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کو بھی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ بلاشبہ بلوچستان کی سیاست میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جو مدتوں پر نہیں کیا جا سکے گا۔
Load Next Story