انتخابی اصلاحات کی جامع سفارشات

ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس سے مستقبل میں دھاندلی ممکن نہ رہے ...

ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس سے مستقبل میں دھاندلی ممکن نہ رہے فوٹو: فائل

پاکستان کے جمہوریت پسند عوام کے لیے اپنے مقاصد و نتائج کے حوالے سے ایک خوش آیند خبر آئی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے اور انتخابی اصلاحات کی جامع سفارشات تیار کرنے کے لیے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے یہ کمیٹی تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ایک برس قبل ہونیوالے عام انتخابات کے حوالے سے کچھ شکایات منظر عام پر آئی ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ انتخابی نتائج کے حوالے سے درج کرائے جانے والے مقدمات کا فیصلہ جلد سنا دیتیں، لیکن ان فیصلوں میں تاخیر سے ابہام اور نہ صرف شدید ردعمل کی صورتحال پیدا ہوئی، بلکہ تحریک انصاف نے احتجاج کی راہ اپنا لی ہے۔


اختلاف رائے جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتاہے، اسی اختلاف رائے کو افہام و تفہیم اور بالادست ادارے پارلیمان میں بحث و مباحثے کے بعد بالٓاخر اتفاق رائے سے حل کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرز فکر اور طرز عمل کی نشاندہی وزیر اعظم کے خط کے مندرجات کا مطالعہ کرنے کے بعد باآسانی کی جا سکتی ہے۔ جس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی دونوں ایوانوں میں حکومتی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے نمایندوں پر مشتمل ہوسکتی ہے جو کہ تجاویز، سفارشات اور کسی جماعت، تنظیم یا فرد بشمول نگران حکومتوں سے متعلق آئینی شقوں میں ترامیم اور انتخابات کے انعقاد کے لیے اس وقت دستیاب جدید ترین ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے لیے اسے پیش کردہ رپورٹس پر غور کر سکتی ہے۔

ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس سے مستقبل میں دھاندلی ممکن نہ رہے۔ خط کے مندرجات خوش آیند ہیں اس پر عملدرآمد کرنا اب پارلیمنٹ کا کام ہے، گو کہ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق انتخابی اصلاحات کا یہ منصوبہ تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی عمل کے خلاف تحریک کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔
Load Next Story