مہنگائی روکنے میں سب ہی ناکام

ہمیشہ کی طرح حکومت کے حامی بجٹ کی تعریفیں کریں گے اور مخالفین بجٹ کی مخالفت میں حکومت پر تنقید اور بجٹ کو ۔۔۔

وفاقی بجٹ آ چکا جس پر قومی اسمبلی میں بحث جاری ہے اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ کے بعد بھی اسمبلیوں میں بجٹ کی حمایت و مخالفت کا سلسلہ جاری رہے گا اور ہو گا وہی جو حکومتیں چاہیں گی۔ عوام کو تو اب حکومتوں کے نمائشی بجٹوں سے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی ہے کیونکہ پہلے سال میں بجٹ پیش ہونے کے بعد پٹرول، سگریٹوں و دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھا کرتی تھیں مگر اب سالانہ بجٹ حکومتوں کی طرف سے پیش ہونے سالانہ رسم بن چکی ہے۔

اب بجٹ دستاویزات ہر سال بھاری سے بھاری ہو کر ارکان اسمبلی کے لیے بھی مسئلہ بن چکی ہیں جنھیں پڑھنے کی ارکان کو فرصت ہے نہ بجٹ سے دلچسپی باقی رہی ہے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو ارکان کی اکثریت بھاری ہونے کی وجہ سے بجٹ دستاویزات اسمبلی ہی میں دیکھ کر وہیں چھوڑ جایا کریں گے کیونکہ ایوان میں اپنے ملازمین اور ڈرائیوروں کو بلانا ممکن نہیں ہو گا اور خود ارکان یہ سالانہ بوجھ اٹھا نہیں سکیں گے۔ چند دلچسپی رکھنے والے ارکان ہی مخالفت کے نکات ڈھونڈنے کے لیے یہ بوجھ اٹھا لیا کریں گے کیونکہ ارکان بھی جان گئے ہیں کہ بجٹ کا بھاری بوجھ تو عوام نے ہی اٹھانا ہے۔

ہمیشہ کی طرح حکومت کے حامی بجٹ کی تعریفیں کریں گے اور مخالفین بجٹ کی مخالفت میں حکومت پر تنقید اور بجٹ کو عوام دشمن قرار دے کر اپنی سیاست چمکا لیں گے اور ہمیشہ کی طرح حکومتیں اپنی مرضی کا بجٹ ایوان سے منظور کرانے میں کامیاب رہیں گی اور اپنے حامیوں کی طرف سے مبارکبادیں وصول کریں گی اور اسمبلیوں کے بجٹ اجلاس کروڑوں روپے کے الاؤنسز ارکان کو دینے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ بجٹ کے موقعے پر حکومتیں اپوزیشن کی مثبت تجاویز بھی مشکل سے قبول کرتی ہیں اور اب تو یہ سلسلہ چل نکلا ہے کہ ایوانوں میں بجٹ پیش ہوئے اور بحث و مباحثے اور منظوری سے قبل ہی نئے ٹیکسوں کا نفاذ اور پرانوں میں اضافے پر عمل شروع ہو جاتا ہے کیونکہ حکومتوں نے کرنا وہی ہوتا ہے جس کا فیصلہ کر چکی ہوتی ہیں اس لیے بجٹ تماشا بن چکے ہیں۔

پہلے مہنگائی کا تعلق سالانہ بجٹ سے ہوا کرتا تھا مگر اب مہنگائی بجٹ کا انتظار نہیں کرتی بلکہ ہر ماہ پٹرول کے سرکاری نرخوں کا انتظار کرتی ہے جنھیں ہمیشہ بڑھنا ہی ہوتا ہے وہ بھی روپوں کی شکل میں جب کہ کبھی کبھی حکومت عوام کے ساتھ مذاق کر کے پیسوں کی صورت میں پٹرولیم کے نرخ کم کرتی ہے جس کا عوام کو تو نہیں پمپ مالکان کو ہی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ کئی سالوں سے حکومت نے عوام کو بے وقوف بنا رکھا ہے کہ ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تبدیلی روپے اور پیسے میں کی جاتی ہے جب کہ ملک بھر سے پچیس اور پچاس پیسوں کے سکے متروک ہو چکے ہیں جو کہیں بازاروں میں تو نظر ہی نہیں آتے مگر حکومت کے پاس پٹرولیم مصنوعات کم زیادہ کرتے وقت موجود ملتے ہیں۔


مارکیٹ میں بعض اشیا کے نرخ بھی ایسے مقرر کیے جاتے ہیں جن کا نقصان بھی عوام کو ہوتا ہے۔ دودھ، دہی کا نرخ اگر دو میں تقسیم نہ ہونے والا ہو تو بھی نقصان عوام کا ہے۔ اگر کوئی چیز 25-45-75 روپے کلو مقرر ہو تو آدھے کلو کے لیے لوگوں کو ہمیشہ 13-23-37 روپے ہی ادا کرنا ہوتے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ سرکاری طور پر پیسوں کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا مگر عملی طور پر پیسوں میں لین دین ختم ہو چکا ہے کبھی پیسوں کی اہمیت ہوا کرتی تھی مگر اب ایک دو روپے کے سکوں کی بھی اہمیت نہیں رہی جنھیں اب فقیر بھی لینا پسند نہیں کرتا اور کم سے کم 5 روپے کے سکے کو ہی کم سے کم خیرات بطور احسان قبول کرتا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے ناجائز منافع خوروں نے رمضان سے ایک دو ماہ قبل ہی نرخ بڑھا دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر دکھاوے کے لیے نام نہاد پرائس کمیٹی کا اجلاس رمضان المبارک سے قبل طلب کرتا ہے جس میں مارکیٹ کمیٹی اور پرائس کنٹرول کمیٹی کے نمایندوں کے ساتھ تجارتی تنظیموں کے عہدیداروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ جس میں ہمیشہ غیر حقیقی نرخ مقرر کیے جاتے ہیں۔ اکثر نرخ مارکیٹ میں چلنے والے نرخوں سے زائد ہوتے ہیں۔ ایک نمبر دو نمبر اور تین نمبر اشیا قرار دے کر ان کے مختلف نرخ مقرر کیے جاتے ہیں۔ سرکاری نرخ اکثر غیر حقیقی ہونے کے باعث خود ساختہ مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کبھی مارکیٹوں میں جاتے ہیں نہ انھیں آٹے، دال، چاول، گھی، دودھ، پھلوں اور سبزیوں کے نرخ معلوم ہوتے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر اور مختار کار کبھی کبھی مارکیٹوں میں جاتے ہیں اور ان کی رپورٹوں پر ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ مقرر کرتی ہے جن کا فائدہ عوام کو برائے نام ہی ملتا ہے اور وہ بھی سرکاری افسروں کے میڈیا کے ساتھ چھاپوں پر۔ چھاپے کے وقت ریٹ لسٹ بھی آویزاں ہو جاتی ہے مگر ایک کی بجائے دو نمبر مال سرکاری نرخ پر فروخت ہونے لگتا ہے اور ایسا نہ کرنے والوں پر جرمانے کر کے سرکاری خزانے میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ چھاپہ مارنے والوں کے جانے کے بعد ریٹ لسٹ غائب اور اشیا من مانے نرخوں پر فروخت ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد مہنگائی کنٹرول کرنے کی ذمے داری اور اختیارات اب صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں جن کے پاس ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیل دار اور مختار کار اور مجسٹریٹی نظام ہے اور یہ نظام مہنگائی کنٹرول کرنے میں میں ہمیشہ ناکام رہا ہے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کبھی اپنے ہی مقرر کردہ نرخوں خصوصاً دودھ کے نرخوں پر ہی عمل نہیں کرا پائے تو وہ کیا خاک مہنگائی پر کنٹرول کر سکیں گے، ان ڈپٹی کمشنروں سے تو بہتر جنرل پرویز کا ضلعی نظام تھا جن کے ناظمین کا عوام اور تجارتی حلقوں سے قریبی تعلق ہوتا تھا اور وہ مجسٹریسی اختیار نہ رکھنے کے باوجود مارکیٹوں اور بازاروں میں جا کر مہنگائی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ہر صوبے کا وزیر اعلیٰ مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے تو کر سکتا ہے مگر عملی طور پر وہ کمشنری نظام میں بے بس ہے۔ رمضان سے قبل صوبائی حکومتوں کی طرف سے بیانات ضرور جاری ہوتے ہیں۔ سرکاری افسر گراں فروشوں کو دکھاوے ہی دھمکیاں دیں گے مگر ہو گا کچھ نہیں۔ صوبائی حکومتوں کو اب دکھاوے کی بجائے عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا ہو گا وگرنہ عوام گراں فروشوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے اور با اختیار صوبائی حکومتیں ناکام رہیں گی۔
Load Next Story