برازیل کا داخلی انتشار اور ورلڈ کپ کا بخار

لاکھوں افراد کے احتجاج کے باوجود برازیل اور فیفا حکام کی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کیلیے امیدیں برقرار رہیں

لاکھوں افراد کے احتجاج کے باوجود برازیل اور فیفا حکام کی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کیلیے امیدیں برقرار رہیں۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
برازیل میں داخلی انتشار اور فٹبال ورلڈ کپ کا بخار ساتھ ساتھ زور پکڑتے رہے۔

کئی مراحل پر تو میگا ایونٹ کا انعقاد ہی ناممکن نظر آنے لگا تھا، مقبول ترین کھیل کے عالمی میلے کی میزبانی کیلیے تیاریوں میں تیزی آتے ہی کئی سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا، ساؤ پاؤلو، ریوڈی جنیرو اور دیگر شہروں میں سراپا احتجاج لاکھوں افراد کا کہنا تھا کہ ڈوبتی معیشت اور افراط زر کے شکار ملک میں صرف فٹبال مقابلوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کیخلاف ہیں،11 بلین ڈالر کا بجٹ بہتر صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلیے کیا جانا چاہیے تھا۔


مظاہروں میں دکانوں، بینکوں، عوام اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچتا رہا، ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کے میزبان اور برازیل کے سب سے بڑے شہر ساؤ پاؤلو کی 460ویں سالگرہ پر ہونے والی بعض تقریبات منسوخ ہونے سے بھی منتظمین کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، سوشل میڈیا پر ہزاروں مقامی شہریوں نے مہم چلا کر ''فیفا واپس جاؤ'' کا نعرہ زبان زد عام کردیا۔ دوسری طرف تعمیراتی کاموں کی سست رفتاری اور مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات ایونٹ کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگاتے رہے۔

اس صورتحال کے باوجود برازیل اور فیفا حکام کی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کیلیے امیدیں برقرار رہیں، وینیوز اور سہولیات کی تکمیل میں تاخیر پر میزبان ملک کے وزیر کھیل آلڈو ریبیلو کا کہنا تھا کہ مسائل کے باوجود ہم ایونٹ کی تیاریاں مکمل کرلیں گے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ ''میں نے آج تک کسی دلہن کو تقریب میں وقت پر آتے نہیں دیکھا لیکن کبھی یہ بھی نہیں ہوا کہ اس وجہ سے شادی نہ ہو پائی ہو''۔ فیفا کے جنرل سیکریٹری جیروم والکے نے بھی بھرپور سپورٹ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی عمل میں مشکلات اور بھاری اخراجات کیخلاف عوامی احتجاج کے باوجود اس موقع پر خلل ڈالنا بھی درست نہیں ہوگا، عوام سے اپیل ہے کہ مظاہروں سے گریز کریں۔

توقع کی جارہی تھی کہ ورلڈ کپ کے قریب آتے ہی عوام اپنے مسائل کو وقتی طور پر بھلا کر میگا ایونٹ کی رنگینیوں میں کھو جائیں گے لیکن ساؤ پاؤلو میں سب وے ٹرین کے ورکرز نے حکومتی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کیلیے ہڑتال کا راستہ اختیار کرکے منتظمین کی نیندیں اڑا دیں، سڑکوں پر دربدر ہزاروں مسافروں کی وجہ سے انتظامی اور سیکیورٹی مسائل بڑھے، حکومت مخالف حلقوں نے سیاسی مفاد اٹھانے کیلیے تنازعات کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے،ان حالات میں ورلڈکپ مقابلوں کو ناخوشگوار واقعات سے محفوظ رکھنا متعلقہ اداروں کیلیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔
Load Next Story