جبری مشقت کا شکار کروڑوں لوگ

جبری مشقت کا نشانہ بننے والوں تک ان کے لواحقین کو رسائی دی جائے

اقوام متحدہ کا محنت کشوں سے متعلق ادارہ ’’آئی ایل او‘‘ 1930ء میں ہی ایک قانون کے ذریعے جبری مشقت کو ممنوع قرار دے چکا ہے،فوٹو:فائل

جس طرح ہمارے ملک میں مردوں' عورتوں اور بچوں سے مختلف شکلوں میں جبری مشقت لی جاتی ہے۔ بعض جگہوں میں تو مشقت کرنے والوں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور ان سے مشقت کرانے کے لیے اوقات کار کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا تاہم اس لعنت کا شکار ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک ہی نہیں بلکہ یہ چیز دنیا کے ترقی یافتہ اور امیر کبیر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے یہ البتہ الگ بات ہے کہ یورپ' امریکا اور تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں میں جن مظلوموں سے جبری مشقت لی جاتی ہے ان کا تعلق بھی ہمارے جیسے غریب ممالک سے ہوتا ہے جہاں لوگوں کی بہت بڑی تعداد خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی تحقیق کے مطابق بھارت میں تین کروڑ سے زائد بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ رائٹرز نے یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسف سے حاصل کیے ہیں۔ جنیوا میں واقع یونیسف کے صدر دفتر کے مطابق دنیا بھر میں جبری مشقت کا شکار بنائے جانے والے بچوں کی تعداد کئی کروڑ ہے جن میں آدھے سے زیادہ عورتیں اور لڑکیاں ہیں جن کی تعداد پندرہ کروڑ سے زیادہ ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کا محنت کشوں سے متعلق ادارہ ''آئی ایل او'' 1930ء میں ہی ایک قانون کے ذریعے جبری مشقت کو ممنوع قرار دے چکا ہے۔


اس قانون میں طے کیا گیا تھا کہ جبری مشقت کا نشانہ بننے والوں تک ان کے لواحقین کو رسائی دی جائے نیز جبری مشقت لینے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اب جنیوا میں آئی ایل او کا جو حالیہ اجلاس ہوا جس میں 1930ء کے قانون کو اور زیادہ موثر بنانے پر زور دیا گیا اور نئی ترامیم تجویز کی گئیں' آئی ایل او کے رکن ممالک نے ان کی حمایت کی اور معاہدے پر دستخط کر دیے تاہم تھائی لینڈ کی نئی فوجی حکومت دنیا کی اکلوتی حکومت تھی جس نے اس قانون کے خلاف ووٹ دیا۔ تھائی لینڈ' فلپائن' سری لنکا اور بنگلہ دیش دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں سے خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں کی اکثریت ہے۔

ان کی خواتین وہاں گھریلو خادمائوں کے طور پر کام کرتی ہیں جنھیں بالعموم بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک میں چونکہ محنت کش تارکین وطن کے ساتھ مناسب سلوک نہیں ہوتا اس لیے بحرین' برونائی' ایران' کویت' قطر' سعودیہ اور یمن نے بھی آئی ایل او کے قانون میں نئی ترامیم کی حمایت نہیں کی اور اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ تھائی لینڈ اور خلیجی ممالک کی پالیسی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا' امیر ممالک میں جو افراد محنت مشقت کر رہے ہیں' ان پر ظلم و زیادتی کرنا یا ان سے جبری مشقت لینا ظلم ہے اور اسے بند ہونا چاہیے اور آئی ایل او کے منظور کردہ معاہدے پر تمام رکن ممالک کو اس کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
Load Next Story