ڈاکٹر پرویز کا قتل جماعت اسلامی کی اپیل پر کراچی میں ہڑتال تجارتی مراکز بند
کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کم اورمارکیٹیں بند رہیں، ملک میں یوم احتجاج منایا گیا.
کراچی: ہڑتال کے باعث ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چند ریگر روڈ کے سنگم پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
جماعت اسلامی کراچی کے رہنما اور سابق ٹائون ناظم لیاقت آباد ڈاکٹر پرویز محمود اور عبدالواحد کے سفاکانہ قتل کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر پورے ملک میں یوم احتجاج منایا گیا اور کراچی شہر میں ہڑتال کی گئی۔
جماعت اسلامی کی جانب سے ہونے والی ہڑتال کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نسبتاً کم چلائی گئی اور شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں، ہول سیل مارکیٹیں، میڈیسن مارکیٹ، کپڑا مارکیٹ، جوڑیا بازار مارکیٹ ، بولٹن مارکیٹ، موتن داس مارکیٹ، پیپرمارکیٹ، لائٹ ہائوس، کھوڑی گارڈن، جامع کلاتھ مارکیٹ، آرام باغ فرنیچر مارکیٹ، الیکٹرونک مارکیٹ، صدر، بوہری بازار، ایمپریس مارکیٹ، صرافہ بازار، رینبوسینٹر کے علاوہ پٹیل پاڑہ، پرانا گولیمار، گلبہار سینٹری مارکیٹ، ناظم آباد پرنٹنگ مارکیٹ، قائدآباد مارکیٹ، بابر مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ، بنوری ٹائون مارکیٹ مکمل طور پر بند رہیں۔
بہادرآباد و دیگر علاقوں میں بعض سیاسی عناصر نے تاجروں سے زبردستی مارکیٹیں کھلوانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن کی اپیل پر پاکستان کے دوسرے شہروں اسلام آباد، راولپنڈی ، لاہور، ملتان، سکھر، حیدرآباد، پشاور و کوئٹہ و دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ڈاکٹر پرویز محمود اور عبدالواحد کے قتل کی ذمے داری متحدہ پر ڈالتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت نے مفاہمت کے نام پر متحدہ کو دی گئی چھوٹ کو ختم نہ کیا تو کراچی کے عوام تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔
دریں اثناء جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی نے ادارہ نورحق میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال میںعوام ' تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے بھرپور حصہ لے کر ثابت کردیا کہ وہ دہشت گردوں اوربھتہ خوروں سے تنگ آچکے ہیں اور ان سے نجات چاہتے ہیں 'کامیاب ہڑتال متحدہ کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوئی ہے ' توہین رسالت ؐ پرمبنی فلم سے توجہ ہٹانے کے لیے جماعت اسلامی کے رہنمائوںکوشہید کیا گیا ہے' جماعت اسلامی تحفظ ناموس مصطفےؐ کی تحریک جاری رکھے گی اس سلسلے میں 23 ستمبر کو لیاقت بلوچ کی قیادت میں مزار قائد سے تبت سینٹر تک مارچ کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں گورنرہاؤس پر پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکن عبدالواحد کی نماز جنازہ جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو کی امامت میں نیو ایم اے جناح روڈپراداکی گئی، نمازجنازہ میں جماعت اسلامی کے رہنماؤںکارکنوں ، شہید کے عزیزواقارب اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،نمازجنازہ کے اجتماع سے امیرجماعت اسلامی سندھ اسداللہ بھٹو،امیرجماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی،سیکرٹری جنرل نسیم صدیقی' نصراللہ شجیع،ضلع شرقی کے امیر اسامہ بن رضی، شہید کے بھائی راشد اوردیگر نے خطاب کیا۔نمازجنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسداللہ بھٹو نے کہا کہ عبدالواحد جرأت مند اور باحوصلہ نوجوان تھا جس نے ہمیشہ بھتہ خوری اوردہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ۔بعدازاں عبدالواحد کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے ہونے والی ہڑتال کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نسبتاً کم چلائی گئی اور شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں، ہول سیل مارکیٹیں، میڈیسن مارکیٹ، کپڑا مارکیٹ، جوڑیا بازار مارکیٹ ، بولٹن مارکیٹ، موتن داس مارکیٹ، پیپرمارکیٹ، لائٹ ہائوس، کھوڑی گارڈن، جامع کلاتھ مارکیٹ، آرام باغ فرنیچر مارکیٹ، الیکٹرونک مارکیٹ، صدر، بوہری بازار، ایمپریس مارکیٹ، صرافہ بازار، رینبوسینٹر کے علاوہ پٹیل پاڑہ، پرانا گولیمار، گلبہار سینٹری مارکیٹ، ناظم آباد پرنٹنگ مارکیٹ، قائدآباد مارکیٹ، بابر مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ، بنوری ٹائون مارکیٹ مکمل طور پر بند رہیں۔
بہادرآباد و دیگر علاقوں میں بعض سیاسی عناصر نے تاجروں سے زبردستی مارکیٹیں کھلوانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن کی اپیل پر پاکستان کے دوسرے شہروں اسلام آباد، راولپنڈی ، لاہور، ملتان، سکھر، حیدرآباد، پشاور و کوئٹہ و دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ڈاکٹر پرویز محمود اور عبدالواحد کے قتل کی ذمے داری متحدہ پر ڈالتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت نے مفاہمت کے نام پر متحدہ کو دی گئی چھوٹ کو ختم نہ کیا تو کراچی کے عوام تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔
دریں اثناء جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی نے ادارہ نورحق میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال میںعوام ' تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے بھرپور حصہ لے کر ثابت کردیا کہ وہ دہشت گردوں اوربھتہ خوروں سے تنگ آچکے ہیں اور ان سے نجات چاہتے ہیں 'کامیاب ہڑتال متحدہ کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوئی ہے ' توہین رسالت ؐ پرمبنی فلم سے توجہ ہٹانے کے لیے جماعت اسلامی کے رہنمائوںکوشہید کیا گیا ہے' جماعت اسلامی تحفظ ناموس مصطفےؐ کی تحریک جاری رکھے گی اس سلسلے میں 23 ستمبر کو لیاقت بلوچ کی قیادت میں مزار قائد سے تبت سینٹر تک مارچ کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں گورنرہاؤس پر پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جماعت اسلامی کے کارکن عبدالواحد کی نماز جنازہ جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو کی امامت میں نیو ایم اے جناح روڈپراداکی گئی، نمازجنازہ میں جماعت اسلامی کے رہنماؤںکارکنوں ، شہید کے عزیزواقارب اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،نمازجنازہ کے اجتماع سے امیرجماعت اسلامی سندھ اسداللہ بھٹو،امیرجماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی،سیکرٹری جنرل نسیم صدیقی' نصراللہ شجیع،ضلع شرقی کے امیر اسامہ بن رضی، شہید کے بھائی راشد اوردیگر نے خطاب کیا۔نمازجنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسداللہ بھٹو نے کہا کہ عبدالواحد جرأت مند اور باحوصلہ نوجوان تھا جس نے ہمیشہ بھتہ خوری اوردہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ۔بعدازاں عبدالواحد کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔