یو بی ایل میں حکومتی حصص 38 کروڑ 70 لاکھ ڈالر میں فروخت

19.8 فیصد حصص کی نجکاری،81 فیصد غیرملکی اور19فیصد مقامی سرمایہ کاروں نے شیئرز خریدے

رواں ماہ کے آخری ہفتے میں پی پی ایل اورپھر مرحلہ وار اوجی ڈی سی ایل،ایچ بی ایل،اے بی ایل،اسٹیل مل اور پی آئی اے کی بھی نجکاری کی جائیگی، زبیر احمد فوٹو: فائل

نجکاری پروگرام کے تحت یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) میں حکومت پاکستان کے 19.8 فیصد حصص کی نجکاری کر دی گئی، یو بی ایل کی نجکاری سے 38کروڑ70 لاکھ ڈالر کی رقم حاصل ہوگی۔

مجموعی حصص میں سے 81 فیصد غیرملکی سرمایہ کاروں جبکہ 19 فیصد مقامی سرمایہ کاروں نے خریدے، کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے یو بی ایل میں حکومتی حصص کی فلور پرائس 155 روپے مقرر کی تھی جو ٹرانزیکشن کے اختتام پر 158 روپے تک پہنچ گئی۔ وزیر مملکت اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 11 جون کو یو بی ایل کی نجکاری کا عمل مکمل کیا گیا، یو بی ایل کے 241 ملین حصص پاکستان، یورپی یونین اور امریکا کی کیپٹل مارکیٹس میں پیش کیے گئے، یو بی ایل میں حکومت پاکستان کے حصص پر 9 فیصد ڈسکائونٹ مقرر کیا گیا۔

یو بی ایل کے حصص کو سرمایہ کاروں میں بڑی پذیرائی ملی اور ان کی 38کروڑ70 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی جس میں 31کروڑ10 لاکھ ڈالر جبکہ دیگر رقم روپے میں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ایل کی نجکاری گزشتہ 8 سال میں پہلی بڑی ٹرانزیکشن ہے، وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ہدایات کے مطابق یہ مشکل ٹارگٹ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا انٹرنیشنل مارکیٹ میں مثبت تشخص بحال ہوا ہے جو حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہمارے روڈ شوز دنیا کے بڑے فنانشل سینٹرز میں منعقد ہوئے اور 40 سے 50 صف اول کے ایکویٹی فنڈز کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں جن کا پاکستانی معیشت کے حوالے سے ردعمل انتہائی مثبت تھا اور انہوں نے یو بی ایل کے سودے میں گہری دلچسپی لی ان میں ٹیمپلیٹن، ویلنگٹن، ایورسٹ، لیزارڈ، مورگن اسٹینلے، بلیک راک وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ایل میں حکومت پاکستان کے حصص کی نجکاری کے ذریعے 2003 کے بعد سب سے بڑا سرمایہ حاصل کیا گیا، یہ کیپٹل مارکیٹ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ جون کے آخری ہفتے میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی نجکاری کی جائے گی، اس مقصد کے لیے فنانشل ایڈوائزر کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آئندہ ہفتے سے روڈ شوز کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نقصان میں جانے والے تمام اداروں کی نجکاری ہوگی، او جی ڈی سی ایل، ایچ بی ایل، اے بی ایل، اسٹیل مل اور پی آئی اے کی بھی مرحلہ وار نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے مختلف پہلوئوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاہم اس عمل میں سب سے بڑا چیلنج نجکاری کے بعد اس کی کامیابی ہے، یہ محض ادارے کی سرکاری شعبے سے نجی شعبہ میں منتقلی نہیں بلکہ اس کا مقصد اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ان کے ذریعے لوگوں کو معیاری سروسز فراہم کرنا ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آنے والوں کے لیے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے، حکومتوں کو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں لیکن یہ دیرپا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ایل کی نجکاری کے عمل میں تمام شراکت داروں سے مشاورت کی گئی اور متعلقہ اداروں بشمول مسابقتی کمیشن اور ایس ای سی پی کے ساتھ رابطہ رکھا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتصالات کو پی ٹی سی ایل کی 3 ہزار سے زائد پراپرٹیز منتقل کر دی گئی ہیں، 31 املاک کا ایشو موجود ہے تاہم یہ ناقابل انتقال ہیں، ان کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بقایا جات میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔
Load Next Story