انسداد دہشتگردی نائیجیریا کا سری لنکا سے مدد لینے کا فیصلہ
نائیجیریا کی حکومت سری لنکا کی مدد حاصل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے
نائیجیریا کے ائر چیف مارشل الیکس بدیع نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سری لنکا کی مدد حاصل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔ فوٹو: فائل
نائیجیریا میں بوکو حرام نامی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں سیکڑوں کی تعداد میں طالبات کے اغوا کے بعد حکام نے ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ نائیجیریا کی فوج کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ وہ باغیوں' ملک دشمنوں اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے سری لنکا کی مثال پر عمل کرے گی جہاں تامل باشندوں کی کئی عشروں سے جاری خانہ جنگی کا بالآخر ایک بھرپور فوجی کارروائی کے ذریعے خاتمہ کر دیا گیا اور ملک کو آئے دن کے بم دھماکوں اور خطرناک تخریبی کارروائیوں سے نجات مل گئی۔
واضح رہے جنوبی ایشیاء کی اس ریاست جو بحر ہند کے ایک جزیرے پر مشتمل ہے یعنی سری لنکا اس کا ایک اعلیٰ سطح کا فوجی وفد چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جگت جیسوریا کی قیادت میں نائیجیریا کے سرکاری دورے پر دارالحکومت ابوجا پہنچا ہوا ہے جس کی نائیجیریا کے ہم منصب کے ساتھ ملاقاتوں میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے تجربات اور مہارتوں میں ایک دوسرے کو شریک کریں گے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے صدر ممنون حسین بھی ابوجا پہنچے ہوئے ہیں جہاں ان کی نائجیرین صدر گڈلک جوناتھن سے ملاقات میں دفاع اور انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان بھی دہشت گردی کے عفریت کے نرغے میں آیا ہوا ہے اس لیے یہ لازم ہے کہ اسے بھی سری لنکا کی تامل ٹائیگرز باغیوں پر کامیابی کی حکمت عملی سے سیکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
واضح رہے سری لنکا کے آرمی چیف جنرل جگت جے سوریا نے اپنے ملک میں تامل ٹائیگر باغیوں کے ساتھ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کو زبردست فوجی کارروائی کے ذریعے شکست دیدی اور مئی 2009ء سے اب بحر ہند کے اس جزیرے پر امن قائم ہو گیا ہے۔ تاہم مخالفین کی طرف سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ لنکن فوج نے 40 ہزار سے زائد تامل شہریوں کا قتل عام کیا ہے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے البتہ حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔ نائیجیریا کے دفاعی ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل جے سوریا نے نائیجیریا اور سری لنکا کی سلامتی کی صورت حال میں مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
نائیجیریا کے ائر چیف مارشل الیکس بدیع نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سری لنکا کی مدد حاصل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک طرف دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کی خطرناک ہلاکت خیز کارروائیاں بھی جاری ہیں گویا یہ ایک گومگو کی کیفیت ہے جس میں نقصان ملک کا ہی ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان واقعی دہشتگردی سے نجات چاہتا ہے تو اسے سری لنکا سے ہی تزویراتی رہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔
واضح رہے جنوبی ایشیاء کی اس ریاست جو بحر ہند کے ایک جزیرے پر مشتمل ہے یعنی سری لنکا اس کا ایک اعلیٰ سطح کا فوجی وفد چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جگت جیسوریا کی قیادت میں نائیجیریا کے سرکاری دورے پر دارالحکومت ابوجا پہنچا ہوا ہے جس کی نائیجیریا کے ہم منصب کے ساتھ ملاقاتوں میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے تجربات اور مہارتوں میں ایک دوسرے کو شریک کریں گے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے صدر ممنون حسین بھی ابوجا پہنچے ہوئے ہیں جہاں ان کی نائجیرین صدر گڈلک جوناتھن سے ملاقات میں دفاع اور انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان بھی دہشت گردی کے عفریت کے نرغے میں آیا ہوا ہے اس لیے یہ لازم ہے کہ اسے بھی سری لنکا کی تامل ٹائیگرز باغیوں پر کامیابی کی حکمت عملی سے سیکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
واضح رہے سری لنکا کے آرمی چیف جنرل جگت جے سوریا نے اپنے ملک میں تامل ٹائیگر باغیوں کے ساتھ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کو زبردست فوجی کارروائی کے ذریعے شکست دیدی اور مئی 2009ء سے اب بحر ہند کے اس جزیرے پر امن قائم ہو گیا ہے۔ تاہم مخالفین کی طرف سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ لنکن فوج نے 40 ہزار سے زائد تامل شہریوں کا قتل عام کیا ہے اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے البتہ حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔ نائیجیریا کے دفاعی ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل جے سوریا نے نائیجیریا اور سری لنکا کی سلامتی کی صورت حال میں مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
نائیجیریا کے ائر چیف مارشل الیکس بدیع نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سری لنکا کی مدد حاصل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک طرف دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کی خطرناک ہلاکت خیز کارروائیاں بھی جاری ہیں گویا یہ ایک گومگو کی کیفیت ہے جس میں نقصان ملک کا ہی ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان واقعی دہشتگردی سے نجات چاہتا ہے تو اسے سری لنکا سے ہی تزویراتی رہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔