کراچی ایئر پورٹ سانحہ ذمے دار کون
دس غیر ملکی بھاری اسلحہ لے کر کراچی کی سڑکوں پر ایک گھنٹے تک پھرتے رہے۔
ان دہشت گردوں کو کہیں کسی ناکے پر بھی کیوں نہیں روکا گیا‘ دہشت گردوں کو ٹرمینل گیٹ پر بھی نہیں روکا گیا، فوٹو: ایکسپریس/فائل
کراچی ایئر پورٹ پر ہونے والے سانحہ کے حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ اور سندھ حکومت کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے' دونوں اس سانحہ کی ذمے داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں تاہم گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ'' کیا کراچی ائیر پورٹ بھارت میں ہے کہ اس کی حفاظت سندھ حکومت کی ذمے داری نہیں؟ دہشت گرد پیرا شوٹ کے ذریعے ائیر پورٹ نہیں پہنچے' دس غیر ملکی بھاری اسلحہ لے کر کراچی کی سڑکوں پر ایک گھنٹے تک پھرتے رہے۔
ان دہشت گردوں کو کہیں کسی ناکے پر بھی کیوں نہیں روکا گیا' دہشت گردوں کو ٹرمینل گیٹ پر بھی نہیں روکا گیا جہاں پولیس کا ناکہ تھا'' دوسری جانب سندھ کے ذمے داروں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سندھ حکومت کو کراچی ایئر پورٹ پر حملے کا ذمے دار قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے سندھ حکومت پر نزلہ گرا رہے ہیں' سندھ حکومت نے اپنی حیثیت کے مطابق حتی الامکان سخت سیکیورٹی کے اقدامات کیے' سندھ حکومت کے خلاف کسی قسم کی الزام تراشی اور سانحہ کراچی ائیر پورٹ کے حوالے سے کسی قسم کے ریمارکس سے قبل زمینی حقائق کو سامنے نہیں رکھا گیا۔
کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف یہ حملہ ڈرون حملے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے' اس حملے سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج کچھ اچھا نہیں ابھرا۔ دنیا میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے اور منظم شہر جہاں حکومت اور سیکیورٹی ادارے بھی موجود ہیں وہاں ایک ایئر پورٹ پر اتنا بڑا واقعہ کیسے رونما ہوگیا۔ کیا پاکستان کی جمہوری حکومت اور سیکیورٹی ادارے اہم مقامات کی حفاظت کرنے میں تساہل اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر ایک انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی یہ صورت حال ہے تو باقی اہم تنصیبات کی حفاظت کے کیا انتظامات ہوں گے اس کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔
چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ سندھ حکومت کراچی واقعے کی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کروائے۔ جب تک اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہو گی تب تک یہ معلوم نہیں ہو گا کہ کس نے کہاں غلطی کی ہے۔ چوہدری نثار علی خان جو کچھ کہہ رہے ہیں سندھ حکومت کے وزراء اسے تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ ''سندھ حکومت کو کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردی کے حوالے سے چھ الرٹس بھجوائے گئے، وزارت داخلہ نے مارچ میں بھی کراچی ایئر پورٹ کے پرانے ٹرمینل پر سیکیورٹی بڑھانے کے لیے خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ کراچی کا پرانا ٹرمینل غیر محفوظ ہے۔
رپورٹ میں باقاعدہ اس گیٹ کا حوالہ بھی دیا گیا کہ جو غیر محفوظ اور دہشتگردوں کی نظر میں تھا مگر سندھ حکومت نے ان الرٹس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ سندھ حکومت کو یہاں تک بتا دیا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے اس جگہ کی ریکی اور فوٹو گرافی کر لی ہے۔ سندھ حکومت نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی'' انھوں نے سوال کیا کہ کسی بھی انٹیلی جنس الرٹ پر کوئی بھی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ انھوں نے کہا کہ ہم انتہائی حساس وقت میں داخل ہو رہے ہیں وفاق اور صوبوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔
18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت سے اختیارات مل چکے ہیں۔ جب صوبے ان اختیارات کو استعمال کر رہے ہیں تو پھر کسی بھی سانحہ کے رونما ہونے کی ذمے داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ صوبے کے اندر موجود تمام اہم مقامات اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا وہاں کی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے مطابق اگر انھوں نے سندھ کی صوبائی حکومت کو کراچی ایئر پورٹ کے پرانے ٹرمینل کے غیر محفوظ ہونے کی اطلاعات دے دی تھیں تو پھر یہ سندھ حکومت کی ذمے داری تھی کہ وہ وہاں حفاظت کے بھرپور انتظامات کرتی اور بوقت ضرورت وفاقی حکومت سے بھی مدد طلب کر سکتی تھی۔ سیاسی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد شہر میں فوری سرچ آپریشن کیوں نہیں شروع کیا گیا۔
ممکن ہے کہ حملہ آوروں کے بہت سے ساتھی اور معاونین شہر میں موجود ہوں۔ اگر کراچی شہر میں فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا جائے تو حملہ آوروں کے کچھ ساتھی پکڑے جا سکتے ہیں اور اس طرح اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ سرچ آپریشن سے جہاں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گا وہاں دہشت گردی کی کارروائیوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کراچی ائیر پورٹ کے سانحہ کے بعد صوبے میں اہم تنصیبات اور مقامات کی حفاظت کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے ابھی تک کسی ایسی حفاظتی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ اگر ملک میں خدانخواستہ آیندہ ایسا کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو اس سے جہاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھیں گے وہاں پوری دنیا میں پاکستان کا امیج بھی متاثر ہو گا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اہم مقامات اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی تشکیل دیں اور اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔
ان دہشت گردوں کو کہیں کسی ناکے پر بھی کیوں نہیں روکا گیا' دہشت گردوں کو ٹرمینل گیٹ پر بھی نہیں روکا گیا جہاں پولیس کا ناکہ تھا'' دوسری جانب سندھ کے ذمے داروں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سندھ حکومت کو کراچی ایئر پورٹ پر حملے کا ذمے دار قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے سندھ حکومت پر نزلہ گرا رہے ہیں' سندھ حکومت نے اپنی حیثیت کے مطابق حتی الامکان سخت سیکیورٹی کے اقدامات کیے' سندھ حکومت کے خلاف کسی قسم کی الزام تراشی اور سانحہ کراچی ائیر پورٹ کے حوالے سے کسی قسم کے ریمارکس سے قبل زمینی حقائق کو سامنے نہیں رکھا گیا۔
کراچی ایئر پورٹ پر حملہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف یہ حملہ ڈرون حملے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے' اس حملے سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج کچھ اچھا نہیں ابھرا۔ دنیا میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے اور منظم شہر جہاں حکومت اور سیکیورٹی ادارے بھی موجود ہیں وہاں ایک ایئر پورٹ پر اتنا بڑا واقعہ کیسے رونما ہوگیا۔ کیا پاکستان کی جمہوری حکومت اور سیکیورٹی ادارے اہم مقامات کی حفاظت کرنے میں تساہل اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر ایک انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی یہ صورت حال ہے تو باقی اہم تنصیبات کی حفاظت کے کیا انتظامات ہوں گے اس کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔
چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا وزن رکھتا ہے کہ سندھ حکومت کراچی واقعے کی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کروائے۔ جب تک اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہو گی تب تک یہ معلوم نہیں ہو گا کہ کس نے کہاں غلطی کی ہے۔ چوہدری نثار علی خان جو کچھ کہہ رہے ہیں سندھ حکومت کے وزراء اسے تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ ''سندھ حکومت کو کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردی کے حوالے سے چھ الرٹس بھجوائے گئے، وزارت داخلہ نے مارچ میں بھی کراچی ایئر پورٹ کے پرانے ٹرمینل پر سیکیورٹی بڑھانے کے لیے خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ کراچی کا پرانا ٹرمینل غیر محفوظ ہے۔
رپورٹ میں باقاعدہ اس گیٹ کا حوالہ بھی دیا گیا کہ جو غیر محفوظ اور دہشتگردوں کی نظر میں تھا مگر سندھ حکومت نے ان الرٹس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ سندھ حکومت کو یہاں تک بتا دیا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے اس جگہ کی ریکی اور فوٹو گرافی کر لی ہے۔ سندھ حکومت نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی'' انھوں نے سوال کیا کہ کسی بھی انٹیلی جنس الرٹ پر کوئی بھی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ انھوں نے کہا کہ ہم انتہائی حساس وقت میں داخل ہو رہے ہیں وفاق اور صوبوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔
18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت سے اختیارات مل چکے ہیں۔ جب صوبے ان اختیارات کو استعمال کر رہے ہیں تو پھر کسی بھی سانحہ کے رونما ہونے کی ذمے داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ صوبے کے اندر موجود تمام اہم مقامات اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا وہاں کی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے مطابق اگر انھوں نے سندھ کی صوبائی حکومت کو کراچی ایئر پورٹ کے پرانے ٹرمینل کے غیر محفوظ ہونے کی اطلاعات دے دی تھیں تو پھر یہ سندھ حکومت کی ذمے داری تھی کہ وہ وہاں حفاظت کے بھرپور انتظامات کرتی اور بوقت ضرورت وفاقی حکومت سے بھی مدد طلب کر سکتی تھی۔ سیاسی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد شہر میں فوری سرچ آپریشن کیوں نہیں شروع کیا گیا۔
ممکن ہے کہ حملہ آوروں کے بہت سے ساتھی اور معاونین شہر میں موجود ہوں۔ اگر کراچی شہر میں فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا جائے تو حملہ آوروں کے کچھ ساتھی پکڑے جا سکتے ہیں اور اس طرح اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ سرچ آپریشن سے جہاں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گا وہاں دہشت گردی کی کارروائیوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کراچی ائیر پورٹ کے سانحہ کے بعد صوبے میں اہم تنصیبات اور مقامات کی حفاظت کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے ابھی تک کسی ایسی حفاظتی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ اگر ملک میں خدانخواستہ آیندہ ایسا کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو اس سے جہاں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھیں گے وہاں پوری دنیا میں پاکستان کا امیج بھی متاثر ہو گا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اہم مقامات اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی تشکیل دیں اور اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔