قونیہ کے زرکوبوں کی ایک داستان
گزشتہ دنوں کسی خوش ذوق صاحب وسیلہ نے لکھنے والوں کو پرانی یادیں تازہ کرنے کی دعوت دی۔
Abdulqhasan@hotmail.com
گزشتہ دنوں کسی خوش ذوق صاحب وسیلہ نے لکھنے والوں کو پرانی یادیں تازہ کرنے کی دعوت دی۔ لگتا ہے بہت سارے دوست بھرے بیٹھے تھے، انھوں نے قارئین کو یادوں کے پرانے خزانوں سے معمور کر دیا۔ اسی دوران ایک کتاب دیکھتے ہوئے کئی یادیں تازہ ہو گئیں لیکن یہ ماڈرن نہیں پرانے زمانے سے متعلق ہیں لیکن کئی قارئین پرانے بھی ہوا کرتے ہیں، شاید وہ میری ان یادوں کو پسند کریں۔
تاریخ تو یاد نہیں اور تاریخ ضروری بھی نہیں۔ میں ترکی کے شہر قونیہ سے گزر رہا تھا۔ سلجوقی حکمرانوں کا آباد کردہ ثقافتی سرگرمیوں سے بھرا پُرا یہ شہر مولانا روم کے حوالے سے معروف ہے۔ مولانا کا مزار اور ان کی کئی نشانیاں اس شہر میں زندہ ہیں۔ قونیہ کی جس گلی سے میں گزر رہا تھا مجھے وہاں کی بعض آوازوں سے بہت کچھ یاد آ گیا۔ یہ قونیہ کے زرکوبوں کی معروف گلی تھی جس کی زرکوبی نے اسلامی تاریخ کے ایک صوفی کو جنم دیا۔ لاہور میں بھی کبھی زرکوب ہوا کرتے تھے۔
چاندی یا سونے کی ایک ڈلی لے کر وہ ایک خاص کاغذ میں رکھ دیتے اور کاغذ کی اس تہہ کو لکڑی کے ہلکے ہتھوڑے سے کوٹنا شروع کر دیتے۔ یہ زرکوب ایک گلی یا بازار میں بیٹھا کرتے تھے جو زرکوبوں کی گلی کہلاتی تھی۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ زرکوب ایک مقررہ ردھم کے ساتھ سونے چاندی کی ڈلی کو کاغذ میں بدل دینے کے لیے ہتھوڑے کی ضربیں لگاتے تھے۔ یہ مسلسل ضربیں بعض ذہنوں میں ایک وجد آور کیفیت پیدا کر دیتی تھیں۔ بس یوں سمجھیں کہ کوئی ساز ہے جو ایک خاص ردھم کے ساتھ بج رہا ہے اور فضا میں ایک خاص ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔
قریب کے سلجوقی مدرسے کا ایک مولوی جس کو قدرت نے ایک خاص کیفیت سے سرفراز کر رکھا تھا، درس کو جاتے ہوئے اس گلی سے گزرا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا۔ اس پر ایک ایسا وقت آ گیا کہ وہ اپنے وجود کو سنبھال نہ سکا اور باایں جبہ دستار گلی میں گر گیا۔ قریب کے زرکوب نے کمال سرعت سے اپنے ہتھوڑے کو پرے پھینکا اور اس مولوی کو بازوئوں میں لے لیا اور پھر اٹھا کر ان کی درسگاہ تک لے گیا مگر درس و تدریس کا کسے ہوش وہاں تو ایک کیفیت ہی دوسری طاری ہو چکی تھی۔ مدرسے کے چند شاگردوں اور درویشوں نے اس زرکوب کے ساتھ اس استاد کو اس کے خچر پر ڈالا اور اس کے گھر لے گئے۔
یہ زرکوب مولوی صاحب کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہنے لگا اور اس کی خدمت کے دنوں میں مولوی سے مولانا روم بن گئے اور پھر اس صوفی کا شعر و ادب اور سلوک و معرفت کا جو غلغلہ بلند ہوا اس نے اسلامی دنیا کے تصوف میں ایک نئی زندگی بھر دی۔ بلخ افغانستان میں ایک عالم اور استاد کے گھر پیدا ہونے والا یہ شخص جلال الدین اسلامی تصوف اور شعر کی دنیا میں ایک نادر مثال بن گیا۔ افسوس کہ مجھے اس زرکوب کا نام یاد نہیں آ رہا اس نے زندگی مولانا کی خدمت میں وقف کر دی اور مولانا کی اس کے ساتھ الفت کا یہ عالم تھا کہ مولانا جب رات کے وقت کبھی شعر کہا کرتے تھے تو اس زرکوب کو سامنے رکھتے۔
مولانا کی شہرہ آفاق مثنوی انھی شبانہ محفلوں میں مکمل ہوئی اور میں اس حجرے کے آس پاس دو تین دن تک گھومتا پھرا جس کے اندر شعر و موسیقی کا سامان اب بھی رکھا ہے اور اسے دیکھنے کی اجازت ہے۔ میں اس نے (بانسری) کو چومتا بھی رہا جس کو مولانا نے مثنوی کے پہلے شعر میں یاد کیا اور حیرت انگیز اشعار کہہ دیے ''سنئے کہ یہ بانسری کیا کیا حکایت اور داستان بیان کرتی ہے۔ یہ اپنی اس جدائی سے شکوہ سنج ہے جو اسے اس کے باغ سے جدا ہو جانے پر ملی ہے اور پھر ایک حیران کن شعر سنئے۔ خشک ساز ہے خشک پود ہے خشک پوست لیکن پھر بھی حیرت ہے کہ دوست کی آواز کہاں سے آتی ہے۔
میں بیان تو سفر نامہ کرنا چاہتا تھا لیکن بات شعر و شاعری کی طرف نکل گئی اور میری اس خوش نصیبی کی طرف کہ میں نے مولانا کے درس اور شعر و موسیقی کے حجرے میں بیٹھنے اور اس میں موجود ساز اور تسبیح کی زیارت کا فیض حاصل کیا۔ اس کی لذت آخری وقت تک میرے رگ و پے کو مست کرتی رہے گی۔ مولانا کے مزار کا رقبہ زیادہ نہیں بلکہ حیرت ہے کہ اتنا بھی کیوں ہے جب کہ مصطفے کمال نے مزار کو ختم کر کے اسے ایک عجائب گھر بنا دیا تھا۔ ایک ترک سلطان نے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر مولانا کے مزار سے باہر ایک خوبصورت مسجد بنا دی۔
یاد آیا کہ ہم پاکستانیوں نے ان دنوں ایک ترک سلطان سلیمان خان کا ڈرامہ دیکھا ہے۔ یہ سلطان جو شاعر بھی تھا اور بڑا ہی صاحب ذوق بھی اپنی ضعیف العمری میں ایک دن اپنے دوست اور وزیر اعظم پیری پاشا سے پوچھا کہ ہم سب یہاں نہیں ہوں گے باقی نہیں رہیں گے پھر اس سرزمین پر کیا باقی رہ جائے گا۔ وزیر اعظم نے پہلے تو جواب کی ایک دن کی مہلت لی لیکن سلطان سے اسی وقت پوچھ بھی لیا کہ میرے آقا ہم تو نہیں ہوں گے تو پھر یہاں کون ہو گا۔ بوڑھے سلطان نے کہا پیری پاشا ایک تو انگورہ کی بکریاں (ان کی اون دنیا بھرمیں انگورہ وول کے نام سے مشہور ہے) اور دوسرے مولانا کے درویش۔
مولانا کے ان درویشوں کو عام زندگی میں دیکھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ مولانا کے مزار کے آس پاس یہ دکھائی دے جاتے ہیں۔ سفید لباس میں سرخ رنگ کی پٹی اور بڑا ہی اسمارٹ جسم۔ یہی جسم اور لباس ہم لوگ ان درویشوں کے رقص میں دیکھتے ہیں۔ اسی مشہور زمانہ رقص کی وجہ سے ان درویشوں کو 'رقصاں درویش' کہا جاتا ہے۔ ان کا رقص ایک داستان کو بیان کرتا ہے۔ تصوف و سلوک کی ایک داستان۔ مولانا کی داستانوں میں سے ایک داستان۔ یہ رقصاں درویش اس رقص اور داستان کے کردار ہوئے ہیں اور تصوف و معرفت کی ایک داستان بیان کرتے ہیں۔ مولانا داستانوں کو پسند کرتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنی ہمیشہ زندہ رہنے والی مثنوی کو بھی ایک داستان سے شروع کیا۔ 'بشنو از نے'۔
یہی وہ مثنوی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ زبان پہلوی میں قرآن ہے۔ ''ہست قرآں در زبان پہلوی یہ سفر نامہ شاید جاری ہے۔
تاریخ تو یاد نہیں اور تاریخ ضروری بھی نہیں۔ میں ترکی کے شہر قونیہ سے گزر رہا تھا۔ سلجوقی حکمرانوں کا آباد کردہ ثقافتی سرگرمیوں سے بھرا پُرا یہ شہر مولانا روم کے حوالے سے معروف ہے۔ مولانا کا مزار اور ان کی کئی نشانیاں اس شہر میں زندہ ہیں۔ قونیہ کی جس گلی سے میں گزر رہا تھا مجھے وہاں کی بعض آوازوں سے بہت کچھ یاد آ گیا۔ یہ قونیہ کے زرکوبوں کی معروف گلی تھی جس کی زرکوبی نے اسلامی تاریخ کے ایک صوفی کو جنم دیا۔ لاہور میں بھی کبھی زرکوب ہوا کرتے تھے۔
چاندی یا سونے کی ایک ڈلی لے کر وہ ایک خاص کاغذ میں رکھ دیتے اور کاغذ کی اس تہہ کو لکڑی کے ہلکے ہتھوڑے سے کوٹنا شروع کر دیتے۔ یہ زرکوب ایک گلی یا بازار میں بیٹھا کرتے تھے جو زرکوبوں کی گلی کہلاتی تھی۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ زرکوب ایک مقررہ ردھم کے ساتھ سونے چاندی کی ڈلی کو کاغذ میں بدل دینے کے لیے ہتھوڑے کی ضربیں لگاتے تھے۔ یہ مسلسل ضربیں بعض ذہنوں میں ایک وجد آور کیفیت پیدا کر دیتی تھیں۔ بس یوں سمجھیں کہ کوئی ساز ہے جو ایک خاص ردھم کے ساتھ بج رہا ہے اور فضا میں ایک خاص ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔
قریب کے سلجوقی مدرسے کا ایک مولوی جس کو قدرت نے ایک خاص کیفیت سے سرفراز کر رکھا تھا، درس کو جاتے ہوئے اس گلی سے گزرا تو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا۔ اس پر ایک ایسا وقت آ گیا کہ وہ اپنے وجود کو سنبھال نہ سکا اور باایں جبہ دستار گلی میں گر گیا۔ قریب کے زرکوب نے کمال سرعت سے اپنے ہتھوڑے کو پرے پھینکا اور اس مولوی کو بازوئوں میں لے لیا اور پھر اٹھا کر ان کی درسگاہ تک لے گیا مگر درس و تدریس کا کسے ہوش وہاں تو ایک کیفیت ہی دوسری طاری ہو چکی تھی۔ مدرسے کے چند شاگردوں اور درویشوں نے اس زرکوب کے ساتھ اس استاد کو اس کے خچر پر ڈالا اور اس کے گھر لے گئے۔
یہ زرکوب مولوی صاحب کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہنے لگا اور اس کی خدمت کے دنوں میں مولوی سے مولانا روم بن گئے اور پھر اس صوفی کا شعر و ادب اور سلوک و معرفت کا جو غلغلہ بلند ہوا اس نے اسلامی دنیا کے تصوف میں ایک نئی زندگی بھر دی۔ بلخ افغانستان میں ایک عالم اور استاد کے گھر پیدا ہونے والا یہ شخص جلال الدین اسلامی تصوف اور شعر کی دنیا میں ایک نادر مثال بن گیا۔ افسوس کہ مجھے اس زرکوب کا نام یاد نہیں آ رہا اس نے زندگی مولانا کی خدمت میں وقف کر دی اور مولانا کی اس کے ساتھ الفت کا یہ عالم تھا کہ مولانا جب رات کے وقت کبھی شعر کہا کرتے تھے تو اس زرکوب کو سامنے رکھتے۔
مولانا کی شہرہ آفاق مثنوی انھی شبانہ محفلوں میں مکمل ہوئی اور میں اس حجرے کے آس پاس دو تین دن تک گھومتا پھرا جس کے اندر شعر و موسیقی کا سامان اب بھی رکھا ہے اور اسے دیکھنے کی اجازت ہے۔ میں اس نے (بانسری) کو چومتا بھی رہا جس کو مولانا نے مثنوی کے پہلے شعر میں یاد کیا اور حیرت انگیز اشعار کہہ دیے ''سنئے کہ یہ بانسری کیا کیا حکایت اور داستان بیان کرتی ہے۔ یہ اپنی اس جدائی سے شکوہ سنج ہے جو اسے اس کے باغ سے جدا ہو جانے پر ملی ہے اور پھر ایک حیران کن شعر سنئے۔ خشک ساز ہے خشک پود ہے خشک پوست لیکن پھر بھی حیرت ہے کہ دوست کی آواز کہاں سے آتی ہے۔
میں بیان تو سفر نامہ کرنا چاہتا تھا لیکن بات شعر و شاعری کی طرف نکل گئی اور میری اس خوش نصیبی کی طرف کہ میں نے مولانا کے درس اور شعر و موسیقی کے حجرے میں بیٹھنے اور اس میں موجود ساز اور تسبیح کی زیارت کا فیض حاصل کیا۔ اس کی لذت آخری وقت تک میرے رگ و پے کو مست کرتی رہے گی۔ مولانا کے مزار کا رقبہ زیادہ نہیں بلکہ حیرت ہے کہ اتنا بھی کیوں ہے جب کہ مصطفے کمال نے مزار کو ختم کر کے اسے ایک عجائب گھر بنا دیا تھا۔ ایک ترک سلطان نے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر مولانا کے مزار سے باہر ایک خوبصورت مسجد بنا دی۔
یاد آیا کہ ہم پاکستانیوں نے ان دنوں ایک ترک سلطان سلیمان خان کا ڈرامہ دیکھا ہے۔ یہ سلطان جو شاعر بھی تھا اور بڑا ہی صاحب ذوق بھی اپنی ضعیف العمری میں ایک دن اپنے دوست اور وزیر اعظم پیری پاشا سے پوچھا کہ ہم سب یہاں نہیں ہوں گے باقی نہیں رہیں گے پھر اس سرزمین پر کیا باقی رہ جائے گا۔ وزیر اعظم نے پہلے تو جواب کی ایک دن کی مہلت لی لیکن سلطان سے اسی وقت پوچھ بھی لیا کہ میرے آقا ہم تو نہیں ہوں گے تو پھر یہاں کون ہو گا۔ بوڑھے سلطان نے کہا پیری پاشا ایک تو انگورہ کی بکریاں (ان کی اون دنیا بھرمیں انگورہ وول کے نام سے مشہور ہے) اور دوسرے مولانا کے درویش۔
مولانا کے ان درویشوں کو عام زندگی میں دیکھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ مولانا کے مزار کے آس پاس یہ دکھائی دے جاتے ہیں۔ سفید لباس میں سرخ رنگ کی پٹی اور بڑا ہی اسمارٹ جسم۔ یہی جسم اور لباس ہم لوگ ان درویشوں کے رقص میں دیکھتے ہیں۔ اسی مشہور زمانہ رقص کی وجہ سے ان درویشوں کو 'رقصاں درویش' کہا جاتا ہے۔ ان کا رقص ایک داستان کو بیان کرتا ہے۔ تصوف و سلوک کی ایک داستان۔ مولانا کی داستانوں میں سے ایک داستان۔ یہ رقصاں درویش اس رقص اور داستان کے کردار ہوئے ہیں اور تصوف و معرفت کی ایک داستان بیان کرتے ہیں۔ مولانا داستانوں کو پسند کرتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنی ہمیشہ زندہ رہنے والی مثنوی کو بھی ایک داستان سے شروع کیا۔ 'بشنو از نے'۔
یہی وہ مثنوی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ زبان پہلوی میں قرآن ہے۔ ''ہست قرآں در زبان پہلوی یہ سفر نامہ شاید جاری ہے۔