غفلت کا ذمے دار کون

ایسے ہائی الرٹ میں ایک گاڑی دہشت گردوں کو لے کر جو جدید اسلحے سے لیس ہیں ایئرپورٹ میں کیسے داخل ہوتی ہے

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

اخبارات میں ہفتوں سے خفیہ ایجنسیوں کی یہ رپورٹیں شایع ہو رہی تھیں کہ کراچی میں بڑے پیمانے پر تخریب کاری دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے دہشت گرد ایئرپورٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اس مسلسل انتباہ کے باوجود صرف چند دہشت گرد اے۔ایس۔ایف کی وردیاں پہن کر جدید اور بھاری ہتھیاروں اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والے ضروری ساز و سامان کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے سول ایئرپورٹ میں داخل ہوتے ہیں اور چھ گھنٹوں تک آگ اور خون کا کھیل آزادی کے ساتھ کھیلتے ہیں جس گاڑی میں دہشت گرد جدید اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ایئرپورٹ آتے ہیں وہ گاڑی شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہے اسے کسی جگہ چیک نہیں کیا جاتا کسی جگہ روکا نہیں جاتا جب کہ قدم قدم پر ٹریفک کے اہلکار گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روک کر انھیں چیک کرتے ان کی تلاشی لیتے نظر آتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ہائی الرٹ میں ایک گاڑی دہشت گردوں کو لے کر جو جدید اسلحے سے لیس ہیں ایئرپورٹ میں کیسے داخل ہوتی ہے اور دہشت گرد 6 گھنٹوں تک آگ اور خون کا کھیل کیسے کھیل سکتے ہیں؟

اس دن بلوچستان کے ایک علاقے تفتان کے ہوٹلوں میں ٹھہرے ہوئے ایران سے آنے والے زائرین پر حملے ہوتے ہیں ۔ 23 افراد کو قتل اور متعدد کو زخمی کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے بار بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ اب ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کریں گے۔

خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے وزارت داخلہ کو بار بار کہا جا رہا ہے کہ ملک خاص طور پر کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کا عالم یہ ہے کہ ایک ہائی روف شہر کی سڑکوں سے آزادانہ گزرتی ہوئی ملک کے سب سے بڑے ایئرپورٹ تک پہنچتی ہے اور دہشت گرد چھ گھنٹوں تک بلا روک ٹوک ایئر پورٹ پر کھڑے اربوں ڈالر کے طیاروں کو تباہ کرتے ہیں طیاروں کی مرمت کے سب سے بڑے اور اہم ہینگر کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ایندھن کے ذخیرے کو جلا دیتے ہیں ایئر لائنز کے دفاتر کو آگ لگا دیتے ہیں۔ یہ سب اس قدر آزادی کے ساتھ کیونکر ممکن ہوا؟

ہماری صوبائی حکومتیں ہزاروں افراد کو پولیس اور رینجرز میں بھرتی کر رہی ہیں۔ انھیں جدید اسلحہ، بکتر بند اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جا رہی ہیں اس کے باوجود ہر روز شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی انتہا کراچی ایئر پورٹ پر سفاکانہ حملہ ہے اسی روز کی بات ہے کہ کراچی کے ایک پولیس اسٹیشن مومن آباد کے اندر چھ کلو بارودی مواد سے بھرا بم ملتا ہے جو اگر پھٹ جاتا تو بھاری نقصان ہوتا۔ دہشت گردی کو روکنے میں سب سے اہم کردار خفیہ ایجنسیوں کا ہوتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں میں ضرورت کے مطابق اہلکار موجود ہیں۔ کراچی جیسے حساس ترین شہر میں ضرورت کے مطابق خفیہ اہلکار موجود ہیں جو نفری موجود ہے کیا وہ اپنے فرائض ذمے داری کے ساتھ ادا کر رہی ہے؟ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ان سوالوں کا جواب ہے۔


ٹریفک کے عملے کی پہلی ترجیح رشوت ہو تو دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے میں کیسے کامیابی ممکن ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایئرپورٹ پر حملے کے خدشات کے باوجود ایئرپورٹ پر سیکیورٹی لیپس کی یہ بدترین صورتحال کیسے پیدا ہوئی اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟اس حوالے سے سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان فکری اور پالیسی کا ایک بڑا تضاد موجود ہے حکومت کی اولین ترجیح مذاکرات ہیں، فوج بے معنی مذاکرات سے اتفاق تو نہیں کرتی لیکن وہ مذاکرات کی راہ میں حائل بھی نہیں ہے پھر حکومت اتنے طویل عرصے کے بعد بھی مذاکرات میں کامیاب کیوں نہیں؟ اس سوال کے ایک سے زیادہ جواب موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس مذاکرات کے حوالے سے نہ کوئی اسٹریٹجی موجود ہے نہ مقاصد کے حوالے حکومت واضح نظر آتی ہے۔

جنگجو تنظیمیں حکومت پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس الزام کا حکومت کے پاس کوئی تشفی بخش جواب اس لیے موجود نہیں کہ حکومت کی مذاکراتی پالیسی ہی مبہم اور مشکوک ہے۔فوج کے اس موقف سے کیسے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد ہر روز دہشت گردی کی کارروائیوں میں بے گناہ لوگوں کی جان لے رہے ہیں اور اس حوالے سے فوج کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دو کرنل اور 5 افراد کو ایک خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔

یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے بلکہ دہشت گردوں کی انتہائی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے اب تک ہزاروں فوجی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں 50 ہزار عام شہری اب تک دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں ان حقائق کی روشنی میں مذاکرات کا بے معنی سلسلہ حکومت اور حکومتی اداروں کے درمیان اختلاف کا سبب بنتا ہے تو اسے غیر منطقی نہیں کہا جا سکتا۔حال ہی میں انتہا پسند جنگجو گروپوں کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں اور وہ تقسیم ہو گئے ہیں اگر کوئی ذہین حکومت ہوتی تو ان اختلافات 'تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ناپسندیدہ گروہوں کا صفایا کرنے کی کوئی موثر حکمت عملی بناتی اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے خلاف موثر کارروائیاں کرتیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت جنگجوئوں سے نمٹنے ان سے مذاکرات کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

10 جون کی خبروں میں سرکاری ادارے کی اطلاع کے مطابق کسی طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیان کے مطابق 2 یا 3 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔ (طیاروں کے نقصان کے حوالے سے بیانات اور اعلانات میں جو تضاد دکھائی دیتا ہے اس سے ملک کے مختلف اداروں کے درمیان رابطوں میں اور پالیسیوں میں اختلاف کا اندازہ ہوسکتا ہے)۔ مہران ایئربیس کے بعد کراچی ایئر پورٹ پر حملہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس وحشیانہ حملے کو روکنے کے لیے اے ایس ایف کے جوانوں نے بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا لیکن جو سوالات اس ملک کے عوام کے ذہنوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایئرپورٹ پر ممکنہ دہشت گردی کے مسلسل انتباہ کے باوجود کیا ایئرپورٹ سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں؟

کیا ایئرپورٹ سیکیورٹی کے لیے موجود اے ایس ایف اور رینجرز اہلکاروں کی تعداد ضرورت کے مطابق تھی؟ دہشت گردوں کی ہائی روف شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایئرپورٹ جیسے حساس ادارے کے اندر تک کیسے پہنچ گئی؟دہشت گردوں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اسے حکیم اللہ محسود کے قتل کے بدلے کا نام دیا ہے۔

دیکھا یہی جاتا رہا ہے کہ کسی بھی بڑے سانحے کے بعد چند دن سیکیورٹی الرٹ رہتی ہے پھر انتظامیہ کسی دوسرے بڑے سانحے تک سوتی رہتی ہے۔ کراچی ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمے داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن کراچی ایئرپورٹ صوبہ سندھ میں اور سندھ حکومت بھی اس ادارے کی سیکیورٹی کی ذمے دار ہے۔ دہشت گردی کے پھیلاؤ کی اصل وجہ اہم اداروں کے درمیان اختلاف رائے اور حکومت کی مبہم مذاکراتی پالیسی ہے جب تک ان دو کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا حملوں کو روکنا ممکن ہے نہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔
Load Next Story