بینک لاکرز ڈکیتی کیس کی تحقیقات مکمل چالان جمع
عدالت نے منظورکرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کیلیے سیشن عدالت بھجوادیا
ملزمان نے گارڈ کویرغمال بناکر لاکر توڑے، دوسرے دن چلے گئے، تفتیشی افسر۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
پولیس نے مسلم کمرشل بینک لاکرزڈکیتی کیس کی تحقیقات مکمل کرکے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرادیا۔
فاضل عدالت نے چالان منظورکرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لیے سیشن عدالت بھجوادیا، تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی سلیمان برور کی عدالت میں تھانہ سولجز بازار کے تفتیشی افسر انچارج ایس آئی یو انسپکٹر فیض الحسن نے پراسیکیوشن شعبے کی منظوری کے بعد چالان پیش کیا جس میں ملزمان ملک ذوق احمد، مسماۃ طاہرہ اور شادی علی اللہ کو زیر دفعہ 512 کے تحت مفرور ظاہر کیا گیاہے ،ملزمان شکیل احمد، کاشف محمود اور محمد علی کی گرفتاری ظاہرکی گئی ہے ، مقدمے میں 15 گواہوں کا اندراج کیاگیا ہے،چالان میںعدالت کوبتایاگیاکہ6اپریل کودو ملزمان نے سیکیورٹی گارڈکواسلحے کے زورپریرغمال بنایا اور آنکھوں پر پٹیاں باند ھ کر لاکرز کی چابی حاصل کی ،ملزمان تالاکھول کر اندرگئے اور لاکرز لوٹنے کے بعد دوسرے دن صبح چلے گئے۔
لاکرز چیک کیے تو ساٹھ لاکرز ٹوٹے ہوئے تھے اور مال مسروقہ غائب تھا ،سب انسپکٹر زاہد جدون کی ناقص تفتیش کے باعث تفتیش ایس آئی یو انچارج فیض الحسن کے حوالے کی گئی جنھوں نے گرفتار ملزمان سے میزان بینک میںجمع کی گئی لوٹی ہوئی رقم اور طلائی زیورات برآمدکیے، استغاثہ کے دو گواہوں نے عدالت کے روبرو اپنے طلائی زیورات بھی شناخت کیے ،مفرور ملزما ن کی گرفتار ی کے لیے اٹک سمیت دیگر شہروں میں چھاپے مارے گئے اور مفرور ملزمان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا گیاہے، دوران تفتیش ملزمان نے اپنے جرم کااعتراف کیا ہے جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے بعد ضمنی چالان جمع کرایاجائیگا ، فاضل عدالت نے مفرور ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
فاضل عدالت نے چالان منظورکرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لیے سیشن عدالت بھجوادیا، تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی سلیمان برور کی عدالت میں تھانہ سولجز بازار کے تفتیشی افسر انچارج ایس آئی یو انسپکٹر فیض الحسن نے پراسیکیوشن شعبے کی منظوری کے بعد چالان پیش کیا جس میں ملزمان ملک ذوق احمد، مسماۃ طاہرہ اور شادی علی اللہ کو زیر دفعہ 512 کے تحت مفرور ظاہر کیا گیاہے ،ملزمان شکیل احمد، کاشف محمود اور محمد علی کی گرفتاری ظاہرکی گئی ہے ، مقدمے میں 15 گواہوں کا اندراج کیاگیا ہے،چالان میںعدالت کوبتایاگیاکہ6اپریل کودو ملزمان نے سیکیورٹی گارڈکواسلحے کے زورپریرغمال بنایا اور آنکھوں پر پٹیاں باند ھ کر لاکرز کی چابی حاصل کی ،ملزمان تالاکھول کر اندرگئے اور لاکرز لوٹنے کے بعد دوسرے دن صبح چلے گئے۔
لاکرز چیک کیے تو ساٹھ لاکرز ٹوٹے ہوئے تھے اور مال مسروقہ غائب تھا ،سب انسپکٹر زاہد جدون کی ناقص تفتیش کے باعث تفتیش ایس آئی یو انچارج فیض الحسن کے حوالے کی گئی جنھوں نے گرفتار ملزمان سے میزان بینک میںجمع کی گئی لوٹی ہوئی رقم اور طلائی زیورات برآمدکیے، استغاثہ کے دو گواہوں نے عدالت کے روبرو اپنے طلائی زیورات بھی شناخت کیے ،مفرور ملزما ن کی گرفتار ی کے لیے اٹک سمیت دیگر شہروں میں چھاپے مارے گئے اور مفرور ملزمان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا گیاہے، دوران تفتیش ملزمان نے اپنے جرم کااعتراف کیا ہے جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے بعد ضمنی چالان جمع کرایاجائیگا ، فاضل عدالت نے مفرور ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔