جاپانی ریفری نے کروشیا پر ’’پنالٹی بم‘‘ گرا کر ورلڈ کپ میں نیا تنازعہ کھڑا کردیا

یہ غلطی نہیں اسکینڈل ہے، میچ میں فیئر پلے کی دھجیاں اڑا دی گئیں، ڈیجان

جاپانی ریفری یوشی نشی مورا پنالٹی کک پر احتجاج کرنے والے کروشین پلیئر کو یلو کارڈ دکھارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

مظاہروں اور ہنگاموں کے شور میں شروع ہونے والا فٹبال ورلڈ کپ آغاز میں ہی تنازعات کی زد میں آگیا، جاپانی ریفری نے کروشیا پر ''پنالٹی بم'' گرا دیا۔

برازیل سے سخت مقابلے کے بعد 1-3سے شکست خوردہ ٹیم کئی غلط فیصلوں پر سراپا احتجاج بن گئی، ڈیفینڈر ڈیجان لوورن نے کہاکہ فائول پر بے وجہ پنالٹی دینا غلطی نہیں اسکینڈل ہے،ایسے فیصلے کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے، کپتان ڈاریو سرنا نے کہا کہ فیئر پلے کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق 20ویں فٹبال ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں برازیل نے کروشیا کو ایک کے مقابلے میں 3 گول سے شکست دی تاہم میزبان کی فتح متنازع رہی، 1998 کے ورلڈ کپ کی سیمی فائنلسٹ کروشین ٹیم نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز سے کیا۔

11ویں منٹ میں ہی برازیل کو دھچکا لگا جب دفاعی کھلاڑی مارسیلو نے اپنی ٹیم کے خلاف ہی گول کر کے حریف کو برتری دلا دی یوں ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار برازیل کو اون گول کا صدمہ اٹھانا پڑا، خسارے میں جانے کے بعد میزبان ٹیم نے جوابی حملے جاری رکھے،جاپانی ریفری یوشی نشی مورا نے کروشین لوکا موڈرک کو دانستہ کہنی مارنے کے باوجود نیمار کو صرف یلو کارڈ دکھایا، جنھوں نے پہلا ہاف ختم ہونے سے چند منٹ قبل ایک خوبصورت گول سے مقابلہ برابر کر دیا۔ دوسرے ہاف میں آغاز سے ہی برازیلین ٹیم نے میچ پر گرفت مضبوط بنانے کیلیے جان توڑ کوشش کی لیکن حریف سائیڈ کے دفاعی کھلاڑیوں نے ایک نہ چلنے دی۔


بالآخر برازیل نے71ویں منٹ میں برتری حاصل کرلی، جاپانی ریفری نے میزبان ٹیم کو انتہائی متنازعہ انداز میں پنالٹی کک دیدی جس پر نیمار نے اپنا اور ٹیم کا دوسرا گول کردیا،کروشین دفاعی کھلاڑی ڈیجان لوورن نے برازیلین فارورڈ فریڈ کی پیش قدمی روکنے کیلیے فائول نہیں کیا تھا،انھوں نے ریفری کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وجہ پوچھی تو یلو کارڈ دکھا دیا گیا، میچ کے آخری 20منٹ میں کروشیا نے انتہائی جارجانہ کھیل پیش کرتے ہوئے کئی خطرناک حملے کیے، مہمان ٹیم کے بیشتر پلیئرز دبائو بڑھانے کیلیے آگے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرتے رہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برازیل کے آسکر نے ایک اور گول کر کے اپنی ٹیم کی فتح کو یقینی بنا دیا۔

ماہرین کے خیال میں پنالٹی دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا،جاپانی ریفری ورلڈ کپ کے میزبان ملک میں فرائض انجام دیتے ہوئے سخت دبائو کا شکار نظر آئے،کروشیا کیخلاف پنالٹی نہ دی جاتی تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا، دوسری طرف متنازع فیصلوں پر چراغ پا کروشین ڈیفینڈر ڈیجان لوورن نے کہا کہ '' 2ارب شائقین نے دیکھاکہ پنالٹی نہیں بنتی تھی،اس معاملے میں کسی شک و شبے کی بھی گنجائش نہیں، لڑکھڑا کر گرنے والے برازیلین کھلاڑی کو میں نے دانستہ چھونے کی بھی کوشش نہیں کی۔

یہ غلطی نہیں اسکینڈل ہے، ایسے غلط فیصلے کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔'' کروشین کپتان ڈاریو سرنا نے کہا کہ میچ میں ریفری نے کئی غلطیاں کیں، نیمار کو ریڈ کارڈ دکھانا چاہیے تھا،ہمارے خلاف پنالٹی دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا، ہمارا ایک گول بھی نہیں دیا گیا،7 روز سے فیئر پلے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن ہمیں تو کہیں نظر نہیں آیا، اس کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
Load Next Story