کراچی بم دھماکوں میں جاں بحق ہونیوالے 8افراد سپردخاک
گھروں پرتعزیت کیلیے رشتے داروں،علاقہ مکینوں اور بوہری کمیونٹی کے افراد کا تانتا بندھا رہا
گھروں پرتعزیت کیلیے رشتے داروں،علاقہ مکینوں اور بوہری کمیونٹی کے افراد کا تانتا بندھا رہا ، فوٹو : فائل
نارتھ ناظم آباد میں حیدری مارکیٹ کے قریب 2 بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کو سپرد خاک کردیا گیا۔
اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز حیدری مارکیٹ کے قریب 2 بم دھماکوں میں 8 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے تھے ، جاں بحق ہونے والوں میں 55 سالہ فخر الدین ولد غلام حسین ، 12 سالہ عمیمہ دختر معیز ، 25 سالہ ساجد ولد عزیز اللہ ، 45 سالہ نور الدین ولد اصغر علی ، 35 سالہ اسماعیل ولد حاتم ، 52 سالہ زینب زوجہ اصغر علی اور زینب کا شوہر 60 سالہ اصغر علی ولد عابد اور 11 ماہ کا شبیر ولد عون علی شامل تھے ، جاں بحق ہونے والے تمام آٹھوں افراد کو سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ، مقتولین کی نماز جنازہ بھی قبرستان میں قائم مسجد میں ادا کی گئی ، اس سے قبل رہائش گاہوں سے جنازے اٹھنے کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ، خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔
جبکہ ہر آنکھ اشکبار ہوگئی ، علاقے میں مکمل طور پر سوگ کی فضا چھائی رہی ، علاقے میں قائم دکانیں و کاروباری مراکز بھی سوگ میں بند رہے جبکہ مقتولین کی رہائش گاہوں پر تعزیت کے لیے آنے والے رشتے داروں ، علاقہ مکینوں اور بوہری کمیونٹی کے افراد کا تانتا بندھا رہا ، تعزیت کے لیے آنے والے لوگ جاں بحق افراد کے لواحقین کو دلاسہ دیتے رہے ، جائے وقوعہ کی سڑک کو بھی دونوں جانب سے بیریئر لگا کر عام آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ، لوگ ایک دوسرے سے واقعے کے بارے میں بات چیت کرتے رہے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ، علاقے کے لوگوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ متعدد افراد کی تدفین رات کو ہی سخی حسن قبرستان میں کردی گئی تھی جبکہ کچھ افراد کو بدھ کی صبح سپرد خاک کیا گیا ، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے میاں بیوی اصغر علی اور زینب کی تدفین منگل کی صبح 11 بجے سخی حسن قبرستان میں عمل میں لائی گئی۔
اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز حیدری مارکیٹ کے قریب 2 بم دھماکوں میں 8 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے تھے ، جاں بحق ہونے والوں میں 55 سالہ فخر الدین ولد غلام حسین ، 12 سالہ عمیمہ دختر معیز ، 25 سالہ ساجد ولد عزیز اللہ ، 45 سالہ نور الدین ولد اصغر علی ، 35 سالہ اسماعیل ولد حاتم ، 52 سالہ زینب زوجہ اصغر علی اور زینب کا شوہر 60 سالہ اصغر علی ولد عابد اور 11 ماہ کا شبیر ولد عون علی شامل تھے ، جاں بحق ہونے والے تمام آٹھوں افراد کو سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ، مقتولین کی نماز جنازہ بھی قبرستان میں قائم مسجد میں ادا کی گئی ، اس سے قبل رہائش گاہوں سے جنازے اٹھنے کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ، خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔
جبکہ ہر آنکھ اشکبار ہوگئی ، علاقے میں مکمل طور پر سوگ کی فضا چھائی رہی ، علاقے میں قائم دکانیں و کاروباری مراکز بھی سوگ میں بند رہے جبکہ مقتولین کی رہائش گاہوں پر تعزیت کے لیے آنے والے رشتے داروں ، علاقہ مکینوں اور بوہری کمیونٹی کے افراد کا تانتا بندھا رہا ، تعزیت کے لیے آنے والے لوگ جاں بحق افراد کے لواحقین کو دلاسہ دیتے رہے ، جائے وقوعہ کی سڑک کو بھی دونوں جانب سے بیریئر لگا کر عام آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ، لوگ ایک دوسرے سے واقعے کے بارے میں بات چیت کرتے رہے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ، علاقے کے لوگوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ متعدد افراد کی تدفین رات کو ہی سخی حسن قبرستان میں کردی گئی تھی جبکہ کچھ افراد کو بدھ کی صبح سپرد خاک کیا گیا ، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے میاں بیوی اصغر علی اور زینب کی تدفین منگل کی صبح 11 بجے سخی حسن قبرستان میں عمل میں لائی گئی۔