تفتان کو اے پی ٹی ٹی اے میں بطور نامزد داخلی پوائنٹ شامل کرنیکا فیصلہ

تفتان کو افغانستان، پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ گزشتہ حکومت نےکیا تھا۔

تفتان کو نامزد داخلی پوائنٹ شامل کرلیا جائے تو پاکستان کے راستے ریل کے ذریعے سامان کی تیز ترین ترسیل کو فروغ ملے گا،ترکی کی تجویز فوٹو: فائل

پاکستان نے علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میںترمیم کا معاملہ افغانستان، پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن کونسل کے آئندہ اجلاس اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ جس میں ترکی کی طرف سے پاکستان کوگُل ٹرین کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لئے تفتان کو افغانستان،پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں نامزد داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرنے کے لئے دی جانیوالی تجویزپر غور ہوگا۔

ذرائع کے مطابق تفتان کو افغانستان، پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں نامزد داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرنے کا اصولی فیصلہ گزشتہ دور حکومت میں ہوا تھا مگر اس بارے میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی اور اس وقت پاکستان نے تفتان کو افغانستان،پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (اے پی ٹی ٹی اے) میں نامزد داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرنیکی تجویز سے افغانستان کو آگاہ کیا گیا تھا لیکن افغانستان نے فوری طور پر جواب دینے سے معذرت کی تھی اور افغانستان کی طرف سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گُل ٹرین کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لئے تفتان کو افغانستان،پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں نامزد داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرنے کے حوالے سے ترکی کی تجویزکا متعلقہ افغان اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد جواب دیا جائیگا۔


اس بارے میں جب وزارت تجارت کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گُل ٹرین اسلام آباد، تہران، استنبول کا ساڑھے چھ ہزار کلو میٹر کا سفر گیارہ دن میں طے کرتی ہے اور یہ تیز ترین کارگو ٹرین ہے ترکی کی طرف سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر تفتان کو اے پی ٹی ٹی اے میں بطور نامزد داخلی پوائنٹ شامل کرلیا جائے تو اس سے پاکستان کے راستے ریل کے ذریعے سامان کی تیز ترین ترسیل کو فروغ ملے گا اور اس تجویز کو افغان حکام کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان اے پی ٹی ٹی اے میں ترمیم کرنے پر آمادہ ہوگیا اور تفتان کو اے پی ٹی ٹی اے میں نامزد داخلی پوائنٹ کے طور پر شامل کرلیا گیا تو یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی بریک تھرو ہوگا۔

اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کے راستے بذریعہ ٹرین کارگو کی ترسیل سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ اے پی ٹی ٹی اے سی اے کے آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا جائیگا اور اگر افغانستان رضامند ہوجاتا ہے تو اس صورت میں افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ میں ترمیم کرکے نئی شق شامل کی جائیگی۔ اس اقدام سے علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔
Load Next Story