خیبر پختونخوا کا 40 ارب کے بجٹ کا اعلان

خیبر پختونخوا کا آیندہ مالی سال کے بجٹ کا ہفتے کو اعلان کر دیا گیا جس کا حجم 404.8 ارب روپے کے لگ بھگ بتایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں صحت اور صحت کی تعلیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ فوٹو:اے پی پی

SRINAGAR:
خیبر پختونخوا کا آیندہ مالی سال کے بجٹ کا ہفتے کو اعلان کر دیا گیا جس کا حجم 404.8 ارب روپے کے لگ بھگ بتایا گیا ہے۔ اس بجٹ کے اخراجات میں 71 فیصد تک کی بھاری رقم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں پر خرچ ہو گی۔ صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سراج الحق نے بتایا کہ یہ بجٹ نہ صرف خسارے سے پاک ہے بلکہ اس میں کوئی نئے ٹیکس بھی نہیں لگائے گئے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق خدمات کی ترسیل کے موجودہ نیٹ ورک میں تخفیف نمایاں ہے جب کہ دوسری طرف تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد تعمیر و ترقی کے شعبے کے لیے بہت تھوڑی گنجائش بچتی ہے۔ واضح رہے 404.8 ارب کی کل رقم میں 227.12 ارب روپے وفاقی ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے ہونگے جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 27.29 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ جی ایس ٹی سے 29.26 ارب روپے کی براہ راست ترسیل ہو گی۔ پن بجلی (ہائیڈل) کے منافع میں سے کے پی کے کو 32.27 ارب روپے ملیں گے۔ سالانہ اخراجات میں عمومی عوامی خدمات کے لیے 73.28 ارب روپے کی بھاری رقم رکھی گئی ہے۔

صحت اور صحت کی تعلیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں' جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کے لگ بھگ خرچ ہوں گے۔ حکومت نے سٹامپ ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے جس سے اراضی کی قیمتوں پر اثر پڑے گا جب کہ پیشہ ورانہ تعلیم دینے والے کالجوں یعنی میڈیکل' انجینئرنگ اور قانون پڑھانے والے اداروں پر ٹیکس میں اضافے سے ان شعبوں کی تعلیم مہنگی ہو جائے گی۔ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے لیے 73.68 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں نیز صحت کے لیے 25.23 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پولیس کے شعبے کے لیے 28.53 ارب روپے کی رقم رکھی گئی جس میں سے 24.15 ارب صرف تنخواہوں کے لیے ہونگے۔


صوبے میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر 139.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 39.75 ارب روپے غیر ملکی امداد سے تعمیر ہونے والے منصوبوں کے لیے ہوں گے۔ تعمیر و ترقی کے لیے رکھے جانے والے ایک سو ارب روپے گزشتہ سال کے بجٹ کی نسبت 20.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ زیر تکمیل منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد صوبے کے واجبات میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سے قبل میڈیا کے نمایندوں میں تقریر کی نقول تقسیم نہ کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر صحافیوں نے واک آئوٹ کیا۔ دریں اثناء فنانس بل کے مطابق کے پی کے حکومت نے مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے جس شخص کی آمدنی دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے ماہوار ہے اسے سالانہ دس ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

درجہ ایک سے درجہ چار تک کے وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین کو ہر قسم کے ٹیکس سے مبرا قرار دیدیا گیا ہے۔ 20 گریڈ اور اس سے اوپر والے افسروں کو سالانہ 20 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ درآمدی اور برآمدی (امپورٹ، ایکسپورٹ) لائسنس ہولڈروں پر حکومت نے چار ہزار روپے کا ٹیکس عاید کر دیا ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ماہانہ فیس 5 ہزار روپے ہے ان اداروں کو سالانہ ایک لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ ایسے ٹریول ایجنٹ جن کی ''آیاٹا'' (آئی اے ٹی اے) نے منظوری دے رکھی ہے انھیں پندرہ ہزار روپے سالانہ فیس ادا کرنا پڑے گی۔

کے پی کے حکومت نے ریسٹورنٹوں اور گیسٹ ہائوسوں پر بھی ٹیکس عاید کر دیا ہے۔ حکومت نے ایک طرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے دوسری طرف ان پر ٹیکس بھی عاید کر دیے ہیں جس کے باعث تنخواہوں میں اضافہ بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کے پی کے نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 139 ارب روپے کی گرانقدر رقم مختص کر دی۔ وزیر خزانہ سراج الحق نے اپنی بجٹ تقریر میں وضاحت کی کہ حکومت اس میں سے ایک سو ارب کی رقم اپنے ذرایع سے خرچ کرے گی جب کہ 39 ارب روپے بیرونی امداد سے حاصل کیے جائیں گے۔

معلوم ہوا ہے کہ 2014-15ء کا سالانہ ترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کی نسبت 18.5 فیصد زیادہ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 1251بتائی گئی ہے جن میں 711 پر پہلے ہی کام جاری ہے جب کہ 540 نئے منصوبے ہوں گے۔بہر حال خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اچھا بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے'اگر صوبائی حکومت اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
Load Next Story