حکومت کا ایف بی آر کو پرچون قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کا فیصلہ
فنانس بل 15-2014 میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق 2 کی کلاز 27 میں ترمیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے
ایف بی آر جنرل آرڈر کے ذریعے کسی بھی مخصوص زون اور علاقے کے لئے اشیا کی پرچون قیمت مقرر کرسکتا ہے۔ فوٹو : فائل
وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو کسی بھی برانڈ اور ورائٹی کی اشیا کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت مقرر کرنیکا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ایکسپریس،،کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ فنانس بل 2014 کے ذریعے ایف بی آر کو اشیا کی پرچون قیمتیں مقرر کرنیکا اختیار دینے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجوزہ فنانس بل 2014 میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق دو کی کلاز 27 میں ترمیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو جنرل آرڈر کے ذریعے کسی بھی مخصوص زون اور علاقے کے لئے کسی بھی برانڈ اور ورائٹی کی اشیا کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت مقرر کرسکتا ہے۔
اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد انڈر رپورٹنگ کو روکنا ہے کیونکہ ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف علاقوں کی مارکیٹوں میں اشیا کی قیمت فروخت زیادہ ہوتی ہے اور دکاندار عوام کو فروخت بھی مہنگے داموں کرتے ہیں لیکن جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں تو ٹیکس بچانے کے لئے انڈرپورٹنگ کرتے ہیں وہی چیزیں جو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ ٹیکس گوشواروں میں سیل کم ظاہر کرنے کے لئے انہی اشیا کی قیمتیں بہت کم ظاہر کی گئی ہوتی ہیں تاکہ ٹیکس بچایا جاسکے۔
مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر کو یہ اختیارات مل جاتے ہیں تو ٹیکس دہندگان کے گوشواروں میں اگر انڈر رپورٹنگ پائی جاتی ہے تو ان ٹیکس دہندگان کی طرف سے ظاہر کردہ اشیا کی قیمتوں کے بارے میں ایف بی آر فیصلہ کرسکے گا اور ایف بی آر کسی بھی مخصوص علاقے اور زون کے لئے کسی بھی برانڈ و ورائٹی کی اشیا کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت مقرر کرکے اس قیمت پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس کے حساب سے ٹیکس واجبات کا تعین کرسکے گا۔ اس اقدام سے ملک میں اشیا کی قیمتیں بھی مستحکم ہونگی اورناجائز منافع خوری کی بھی روک تھام ہوسکے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے ایکسپریس،،کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ فنانس بل 2014 کے ذریعے ایف بی آر کو اشیا کی پرچون قیمتیں مقرر کرنیکا اختیار دینے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجوزہ فنانس بل 2014 میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق دو کی کلاز 27 میں ترمیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو جنرل آرڈر کے ذریعے کسی بھی مخصوص زون اور علاقے کے لئے کسی بھی برانڈ اور ورائٹی کی اشیا کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت مقرر کرسکتا ہے۔
اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد انڈر رپورٹنگ کو روکنا ہے کیونکہ ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف علاقوں کی مارکیٹوں میں اشیا کی قیمت فروخت زیادہ ہوتی ہے اور دکاندار عوام کو فروخت بھی مہنگے داموں کرتے ہیں لیکن جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں تو ٹیکس بچانے کے لئے انڈرپورٹنگ کرتے ہیں وہی چیزیں جو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ ٹیکس گوشواروں میں سیل کم ظاہر کرنے کے لئے انہی اشیا کی قیمتیں بہت کم ظاہر کی گئی ہوتی ہیں تاکہ ٹیکس بچایا جاسکے۔
مذکورہ افسر کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر کو یہ اختیارات مل جاتے ہیں تو ٹیکس دہندگان کے گوشواروں میں اگر انڈر رپورٹنگ پائی جاتی ہے تو ان ٹیکس دہندگان کی طرف سے ظاہر کردہ اشیا کی قیمتوں کے بارے میں ایف بی آر فیصلہ کرسکے گا اور ایف بی آر کسی بھی مخصوص علاقے اور زون کے لئے کسی بھی برانڈ و ورائٹی کی اشیا کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت مقرر کرکے اس قیمت پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس کے حساب سے ٹیکس واجبات کا تعین کرسکے گا۔ اس اقدام سے ملک میں اشیا کی قیمتیں بھی مستحکم ہونگی اورناجائز منافع خوری کی بھی روک تھام ہوسکے گی۔