قوم پاک فوج کے ساتھ ہے
اگرکنفیوژن نہ ہوتی تو دہشت گردوں کے خلاف کبھی کا آپریشن شروع ہو چکا ہوتا اور وطن عزیز میں امن قائم ہو چکا ہوتا۔۔۔
اگرکنفیوژن نہ ہوتی تو دہشت گردوں کے خلاف کبھی کا آپریشن شروع ہو چکا ہوتا اور وطن عزیز میں امن قائم ہو چکا ہوتا. فوٹو: فائل
پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف باضابطہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس آپریشن کا نام ضربِ عضب رکھا گیا ہے۔ یہ آپریشن وفاقی حکومت کی منظوری سے ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پیر کی شام قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے پالیسی بیان میں اعلان کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکرات شروع کیے لیکن مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے' انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آپریشن ضرب عضب حتمی مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا' آپریشن کا فیصلہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کل تک آپریشن اور مذاکرات کے بارے میں دو رائے ہو سکتی تھیں' اب اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے' پوری قوم پاک فوج کا ساتھ دے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پیر کو ہی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس آپریشن کی حمایت کی ہے۔ جن میں پیپلز پارٹی' تحریک انصاف' ایم کیو ایم' اے این پی' مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کو آپریشن کیوں شروع کرنا پڑا' اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے' ملک کے باشعور اور فہمیدہ حلقے حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستان میں جب سے دہشت گردی کا آغاز ہوا ہے' ایک مخصوص حلقے نے قوم اور اداروں میں کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حلقے میں سیاستدان بھی شامل ہیں اور دینی شخصیات بھی۔ اس کنفیوژن کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے اور انھیں قبائلی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملا اور انھوں نے ہلاکت خیز کارروائیاں کیں۔
اگر یہ کنفیوژن نہ ہوتی تو دہشت گردوں کے خلاف کبھی کا آپریشن شروع ہو چکا ہوتا اور وطن عزیز میں امن قائم ہو چکا ہوتا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ ابہام ختم ہونا شروع ہوا تو پھر ایک طبقے نے مذاکرات کی بات شروع کر دی۔ یوں دہشت گرد گروہ مسلسل اپنا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں پر حملہ آور بھی ہوتے رہے۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا' کامرہ کو نشانہ بنایا' حساس اداروں کے دفاتر پر حملے کیے اور چند روز پہلے کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی ذمے داری اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے قبول کی' اس حملے میں جو دہشت گرد مارے گئے' وہ سارے ازبک ہی تھے۔
یہ دہشت گردی کے وہ واقعات ہیں' جو اپنی اسٹرٹیجک اہمیت کی بنا پر لائم لائٹ میں آئے' اس کے علاوہ دہشت گردی کے سیکڑوں واقعات ہیں جن میں اس ملک کے ہزاروں شہری اور فوجی جوان شہید ہوئے۔اربوں روپے کا نقصان ہوا۔اس صورت حال نے جہاں ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا' وہاں عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہوا حالانکہ افریقہ میں صومالیہ' مالی اور نائیجیریا میں بھی دہشت گرد گروپ خون ریزی کرتے رہتے ہیں۔ عراق اور یمن کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے لیکن پاکستان کے بارے میں ہمیشہ یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ملک القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کا بیس کیمپ ہے۔
چین کے پاکستان سے متصل صوبے سنکیانگ میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے بھی پاکستان سے ملائے گئے۔ یوں پاکستان عالمی طور پر مسلسل تنہائی کا شکار ہو رہا تھا' پاکستانی ریاست کے وجود پر بھی سوال اٹھ رہے تھے۔ ان سنگین حالات کے باوجود پاکستان میں ایسے گروہ موجود تھے جو نظریاتی حوالے سے ابہام پیدا کر کے قوم کو تقسیم کر رہے تھے۔ ملک میں قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کیے گئے' آل پارٹیز کانفرنسیں ہوئیں لیکن کسی کے پاس کوئی فارمولا یا حل موجود نہیں تھا' بالآخر وہ مقام آ پہنچا جب قوم اس صورت حال سے تنگ آ گئی تھی کیونکہ دہشت گردی کے باعث ملک میں کاروبار ختم ہو رہے تھے' بے روز گاری بڑھ رہی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آنے کے لیے تیار نہیں' ملک کے سیکیورٹی اداروں پر حملے ہو رہے ہیں' کیا ایسے حالات میں کوئی فوج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ سکتی ہے۔ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ریاست اپنی قوت کا مظاہرہ کرے کیونکہ ریاست کے اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری تھا۔ بلاشبہ شمالی وزیرستان خاصا مشکل ایریا ہے لیکن یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ یہ دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ ہے۔ پاک فوج کی اعلیٰ تربیت و صلاحیت کے سامنے یہ گروہ ٹھہر نہیں سکتے۔ اب خطرہ یہ ہے کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے بھاگ کر ملک کے دیگر علاقوں میں پھیل سکتے ہیں۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر یہ ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنا انٹیلی جنس نظام بہتر بنائیں۔ پولیس کی کارکردگی کو بڑھایا جائے تاکہ دہشت گردوں کو کسی مذموم کارروائی سے پہلے پکڑ لیا جائے۔ ملک کی سیاسی' مذہبی جماعتوں کی قیادت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ذاتی' گروہی مفادات سے بلند ہو کر سوچیں اور پاک فوج کی ببانگ دہل حمایت کا اعلان کریں' قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کے عفریت کا صفایا ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے امن کو ایک موقع دینے کے لیے مذاکرات شروع کیے لیکن مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے' انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آپریشن ضرب عضب حتمی مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا' آپریشن کا فیصلہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کل تک آپریشن اور مذاکرات کے بارے میں دو رائے ہو سکتی تھیں' اب اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے' پوری قوم پاک فوج کا ساتھ دے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پیر کو ہی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس آپریشن کی حمایت کی ہے۔ جن میں پیپلز پارٹی' تحریک انصاف' ایم کیو ایم' اے این پی' مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کو آپریشن کیوں شروع کرنا پڑا' اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے' ملک کے باشعور اور فہمیدہ حلقے حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستان میں جب سے دہشت گردی کا آغاز ہوا ہے' ایک مخصوص حلقے نے قوم اور اداروں میں کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حلقے میں سیاستدان بھی شامل ہیں اور دینی شخصیات بھی۔ اس کنفیوژن کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے اور انھیں قبائلی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملا اور انھوں نے ہلاکت خیز کارروائیاں کیں۔
اگر یہ کنفیوژن نہ ہوتی تو دہشت گردوں کے خلاف کبھی کا آپریشن شروع ہو چکا ہوتا اور وطن عزیز میں امن قائم ہو چکا ہوتا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ ابہام ختم ہونا شروع ہوا تو پھر ایک طبقے نے مذاکرات کی بات شروع کر دی۔ یوں دہشت گرد گروہ مسلسل اپنا تحفظ کرنے میں کامیاب ہوتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں پر حملہ آور بھی ہوتے رہے۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا' کامرہ کو نشانہ بنایا' حساس اداروں کے دفاتر پر حملے کیے اور چند روز پہلے کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی ذمے داری اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے قبول کی' اس حملے میں جو دہشت گرد مارے گئے' وہ سارے ازبک ہی تھے۔
یہ دہشت گردی کے وہ واقعات ہیں' جو اپنی اسٹرٹیجک اہمیت کی بنا پر لائم لائٹ میں آئے' اس کے علاوہ دہشت گردی کے سیکڑوں واقعات ہیں جن میں اس ملک کے ہزاروں شہری اور فوجی جوان شہید ہوئے۔اربوں روپے کا نقصان ہوا۔اس صورت حال نے جہاں ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا' وہاں عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہوا حالانکہ افریقہ میں صومالیہ' مالی اور نائیجیریا میں بھی دہشت گرد گروپ خون ریزی کرتے رہتے ہیں۔ عراق اور یمن کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے لیکن پاکستان کے بارے میں ہمیشہ یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ملک القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کا بیس کیمپ ہے۔
چین کے پاکستان سے متصل صوبے سنکیانگ میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے بھی پاکستان سے ملائے گئے۔ یوں پاکستان عالمی طور پر مسلسل تنہائی کا شکار ہو رہا تھا' پاکستانی ریاست کے وجود پر بھی سوال اٹھ رہے تھے۔ ان سنگین حالات کے باوجود پاکستان میں ایسے گروہ موجود تھے جو نظریاتی حوالے سے ابہام پیدا کر کے قوم کو تقسیم کر رہے تھے۔ ملک میں قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کیے گئے' آل پارٹیز کانفرنسیں ہوئیں لیکن کسی کے پاس کوئی فارمولا یا حل موجود نہیں تھا' بالآخر وہ مقام آ پہنچا جب قوم اس صورت حال سے تنگ آ گئی تھی کیونکہ دہشت گردی کے باعث ملک میں کاروبار ختم ہو رہے تھے' بے روز گاری بڑھ رہی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آنے کے لیے تیار نہیں' ملک کے سیکیورٹی اداروں پر حملے ہو رہے ہیں' کیا ایسے حالات میں کوئی فوج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ سکتی ہے۔ کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ ریاست اپنی قوت کا مظاہرہ کرے کیونکہ ریاست کے اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری تھا۔ بلاشبہ شمالی وزیرستان خاصا مشکل ایریا ہے لیکن یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ یہ دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ ہے۔ پاک فوج کی اعلیٰ تربیت و صلاحیت کے سامنے یہ گروہ ٹھہر نہیں سکتے۔ اب خطرہ یہ ہے کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے بھاگ کر ملک کے دیگر علاقوں میں پھیل سکتے ہیں۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر یہ ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنا انٹیلی جنس نظام بہتر بنائیں۔ پولیس کی کارکردگی کو بڑھایا جائے تاکہ دہشت گردوں کو کسی مذموم کارروائی سے پہلے پکڑ لیا جائے۔ ملک کی سیاسی' مذہبی جماعتوں کی قیادت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ذاتی' گروہی مفادات سے بلند ہو کر سوچیں اور پاک فوج کی ببانگ دہل حمایت کا اعلان کریں' قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کے عفریت کا صفایا ہو جائے گا۔