بالآخر وہی ہوا

چھوٹے بڑے تمام بجٹ عوام کے سامنے پیش ہو چکے، حکمرانوں نے تمام استادیاں اور ہمدردیاں بھی دکھا دیں

Abdulqhasan@hotmail.com

FAISALABAD:
چھوٹے بڑے تمام بجٹ عوام کے سامنے پیش ہو چکے، حکمرانوں نے تمام استادیاں اور ہمدردیاں بھی دکھا دیں۔ بجٹ پر ایک حتمی تبصرہ جناب مشتاق یوسفی نے کر دیا ہے کہ ایک جھوٹ ہوتا ہے ایک سفید جھوٹ ہوتا ہے اور ایک بجٹ ہوتا ہے۔ جناب یوسفی نے جن کی عمر بینکوں کے حساب کتاب میں گزری اپنی عمر بھر کی کمائی اور مشاہدہ بیان کر دیا ہے جس پر اضافہ اب تک تو ممکن نہیں ہو سکا اور شاید کبھی ہو گا بھی نہیں۔ پورا سال بھگتنے کے لیے بجٹ کی سختیاں یہیں چھوڑتے ہیں اور سیاست کی بات نقل کرتے ہیں۔ جناب اکرم ذکی پاکستان اور بھارت کے درمیان تازہ ترین تعجب انگیز اور حیرت افزاء معاملات پر تبصرہ کر رہے تھے، انھوں نے بھارت پاکستان کے درمیان قدیم ترین واہگہ سرحد کا ذکر کیا جسے ہمارے میاں صاحب نے بے معنی قرار دے کر مسمار کردیا ہے، اس پر ذکی صاحب کو ایک مشہور شعر یاد آیا

دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی

لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

فی الحال یہ بھارت کے سبزی فروشوں کا راستہ بن چکا ہے لیکن سبزی بھی باسی اور ناکارہ بہر کیف بھارت سے جو بھی ملے گا وہ ناکارہ ہی ہو گا۔ کارآمد تو وہ اسلحہ ہو گا جسے بھارتی اور دوسرے دہشت گرد استعمال کرتے ہیں۔ اب حالت اس قدر خوف و ہراس سے دوچار ہو چکی ہے کہ میں بھی خوفزدہ اور ہراساں ہو چکا ہوں، میری نسل در نسل چلی آنے والی روایات میں اگر کوئی چیز نہیں تھی تو وہ ڈر اور خوف تھا۔ مشہور ہے کہ ہم لوگ ڈرتے نہیں ہیں۔

یہ شاید اس وجہ سے مشہور ہے کہ ہم کبھی کسی سے ڈرے نہیں کتنے ہی بظاہر زبردست لوگوں کو ٹھکانے لگا دیا یہ کوئی اچھی بات نہ سہی مگر جان بچانی بھی ضروری ہوتی ہے بہر کیف میں یہ ذاتی بات عرض کرنا چاہتا تھا کہ میں کبھی ڈرا تو نہیں لیکن ڈر کا مقابلہ کرنے کی ہمیشہ کوشش کی صحافت کی زندگی میں چار جیتے جاگتے مارشل لاء دیکھے اور بھگتے۔ جناب بھٹو کے غیر فوجی مارشل لاء میں جناب اعتزاز احسن وزیر اطلاعات میرے خلاف سخت اور فوری اقدام کے احکام والی فائلیں دفتر کی بڑی الماری کے پیچھے پھینک دیتے تھے۔


اقتدار کے بعد ایک دن باتوں باتوں میں گجرات کے اس چوہدری نے یوں ہی سرسری سا ذکر کر لیا جس سے مجھے اس خطرے کا پتہ چلا جو وزیر اطلاعات کے دفتر میں رکھی الماری کے پیچھے سسک سسک کر مر چکا تھا، غنیمت ہے کہ یہ خطرہ میرا امتحان نہ بن سکا۔ ذکر اس خوف کا ہو رہا تھا جو اس وقت قوم میں پھیل چکا ہے اور جس کا میں بھی بری طرح شکار ہوں، میری وہ نسل در نسل چلی جانے والی بے خوفی پتہ نہیں کہاں گئی ہے اور میں اس کے بغیر ایک خوفزدہ اور ہراساں پاکستانی ہوں اور مجھ پر بھارت کا خوف حاوی ہو چکا ہے۔ جس خوف کو زندگی بھر جھڑکتا اور پرے جھٹکتا رہا آج میں اس کی گرفت میں آ چکا ہوں۔ میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں۔

ابھی میں اپنی بزدلی کے ذکر سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ میری زندگی اس قدر خطرے میں گھر گئی ہے کہ ہماری فوج کو ہمارے تحفظ کے لیے بیرکوں سے نکلنا پڑا ہے اور وہ بھی باقاعدگی کے ساتھ کہ اس فوجی کارروائی کو جنگ بنا دیا ہے اور حضور پاکﷺ کی ایک تلوار مبارک کے نام پر یہ جنگ شروع کی ہے۔ فوج کے لیے اس سے زیادہ تقدس اور کیا ہو سکتا ہے چنانچہ فوج نے جنگ عضب جاری کر دی ہے۔ ہمارے ہر فوجی کے ہاتھ میں حضور پاکﷺ کا یہ عطیہ ہے اور عضب کے معنی ہیں تیز دھار اور تیز کٹائو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فوج ہو یا کسی اور ملک کا کوئی دہشت گرد وہ سب کافر ہیں اور ایک اسلامی ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ کسی بھی صورت میں معاف نہیں کی جا سکتی۔

قارئین کرام کچھ ہی پہلے پاکستان آرمی کے خلاف اچانک اخباری مہم شروع کر دی گئی اور حیران کن حد تک ایک فوجی کی تصویر گھنٹوں ایک ٹی وی کی اسکرین پر دیکھی تو میں نے اس چینل کو فون کیا کہ کسی سے غلطی ہو گئی ہے، اس حسینہ کی تصویر لائو جس سے دل بہلتا ہے لیکن جواب میں صرف اتنا کہا کہ اس کی وجہ تو آپ صحافی حضرات جانتے ہیں۔ ہم تو صرف ٹیکنیشن ہیں۔ بہر حال اس فوجی تصویر کو مسلسل دیکھ کر طے کر لیا کہ معاملہ صرف ٹی وی کا نہیں کچھ زیادہ کا ہے اور پھر ایک دوست نے توجہ دلائی کہ یہ پاکستان آرمی کے خلاف مہم کا آغاز ہے کیونکہ صرف یہ فوج ہی ہے جو پاکستان کو بھارت سے بچا سکتی ہے۔

میں جیو خاندان کے بعض بزرگوں کے بے حد احترام کے باوجود ان کے احترام کو ملک کے احترام سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا اور فوج ہمارے قومی احترام کی ہی محافظ ہے۔ فوج کی یہ ضرب عضب ہمارے سیاسی حکمرانوں کی مرضی کے مطابق ہے یا نہیں کیونکہ مجھے شک ہے لیکن جو ہو رہا ہے وہ ہونا ہی چاہیے۔ عام جنگ آمنے سامنے کی دو فوجوں کے درمیان ہوتی ہے، یہ جنگ اس اعتبار سے سخت خطرناک ہے، دوسرا فریق نہ جانے کہاں ہے، کس غار میں ہے ،کس پتھر کی اوٹ میں ہے لیکن ہماری فوج کو اس آزمائش سے گزرنا تھا کیونکہ یہ ہمارے مستقل دشمن ہیں اور جن کی دشمنی ان کا ایمان ہے۔

میں نے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے پر فوراً ہی عرض کر دیا تھا کہ میں طالبان کو جانتا ہوں ان کے ساتھ سوائے مذاکرات کے اور سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ملوث علماء نے اس واقعے کو زندہ رکھا اور اس میں وہ اب تک کامیاب رہے لیکن اب ان کی وہ منزل آ گئی تھی جس کی طرف سے میں نے اشارہ کیا تھا یعنی کسی آزاد ملک کی احمقانہ کوشش جو کوئی مولوی ہی کر سکتا ہے۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے اور فوج ہم سے کس خدمت کی سعادت لیتی ہے۔ بہر حال جو ہونا تھا وہ شروع ہو گیا۔
Load Next Story