ہم ’’بجٹ فہم‘‘ ہیں غالب کے طرف ’’ڈار‘‘ نہیں
اگر اب ہم یہ کہیں کہ ہم بھی وہاں موجود تھے تو یہ سراسر جھوٹ ہو گا۔۔۔
barq@email.com
VALENCIA:
دنیا میں صرف یہی ایک زبان نہیں ہے جس سے انسان آپس میں باتیں کرتے ہیں بلکہ اور بھی بہت ساری زبانیں ہوتی ہیں جیسے اشاروں کی زبان جو ''بہرے'' لوگ استعمال کرتے ہیں، کنایوں کی زباں جس سے عاشق اور شاعر لوگ مکالمہ کرتے ہیں، ''قطاروں'' کی زبان جس سے کسی حکومت کی ''اہلیت اور قابلیت'' ناپی جاتی ہے ایک باڈی لینگوئج لیٹسٹ ترین دریافت ہونے والی زبان ہے جس سے فنکاروں اداکاروں اور سیاست کاروں کو سمجھا جاتا ہے یا ''سیاہ کاروں'' کو بھی جیسے
اس زبان کے الفاظ ''پسینے کے قطروں'' پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن ائرکنڈیشنر کی ایجاد نے اس زبان کو بہت گنجلک بنا دیا ہے لیکن یہاں ہم جس زبان کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اسے ''ہندسوں'' کی زبان کہا جاتا ہے، خاص خاص قسم کے ماہرین کی زبان ہے اور اس کی خصوصیت دوسری زبانوں کے قطعی برعکس یہ ہے کہ بولنے والے تو اسے بولتے ہیں لیکن سننے والے سمجھتے بالکل نہیں ہیں یا یوں کہئے کہ یہ کہلاتی تو ہندسوں کی زبان ہے لیکن ''ہندسے'' اسے بالکل نہیں سمجھتے، مثلاً ہم خود اعداد و شمار کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور
جِھتے وگدی اے راوی تے چناں بیلیا ۔۔۔۔
اوسی ویہڑے وچ ساڈا بھی گراں بیلیا ۔۔۔
یعنی ایک سے لے کر اٹھارہ کروڑ تک کے کسی مقام سے ہم بھی ''بیلانگ'' کرتے ہیں لیکن مجال ہے جو ہندسوں کی زبان کا ایک ''لفظ'' بھی کبھی ہمارے پلے پڑا ہو حالانکہ جناب وزیر خزانہ نے اس پر بڑی محنت کی تھی اور اگر ائرکنڈیشنر نہ ہوتا تو ان کے ماتھے پر اس خاموش زبان کے الفاظ بھی ابھر آتے، لیکن ہم تصویر بنے رہے سنتے رہے سر بھی دھنتے رہے لیکن ناسمجھ بھی رہے، گویا وہ کہے اور سنا کرے کوئی... لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھا نہیں بولے یقیناً اچھا بولے ہوں گے ہماری سمجھ میں نہیں آیا تو کیا ہوا ہم تو ہندسے ہیں اور ہندسوں کی زبان باقی سب کے لیے ہوتی ہے مگر ہندسوں کے لیے نہیں، ہندسوں کا کیا ہے انھیں تو کہیں سے اٹھاؤ اور کہیں رکھ دو جمع کرو منفی کرو تفریق کرو تقسیم کرو لکھو یا مٹاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا، آج یہاں کل وہاں ... صبح کہیں شام کہیں... صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر یونہی تمام ہوتی ہے
نام حافظ رقم نیک پذیرفت ولے
پیش رنداں رقم سود و زیاں ایں ھمہ نیست
یعنی حافظ کا نام ویسے تو نیکوں میں لکھا جاتا ہے لیکن ''رندوں'' کے نزدیک سود و زیاں کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے، خیر کوئی بات نہیں ہم نہیں سمجھے تو کیا ہوا اور بھی تو بہت سارے لوگ ہیں جو ہندسوں کی یہ زبان جو وزیر خزانہ بولے ہیں اور خوب بولے ہیں سمجھتے ہیں خاص طور پر سیاسی لوگ کہنے سے بھی پہلے سمجھ گئے تھے اور اسی وقت ان کے پہلے سے لکھے ہوئے تبصرے بھی چلنے لگے، باقاعدہ قوالی کا مقابلہ بھی چلا ... ایک بولا ... بجٹ متوازن ہے... دوسرا بولا بجٹ غیر متوازن ہے ... ایک بولا ... بجٹ عوام دوست ہے، دوسرا بولا بجٹ عوام دشمن ہے ...ایک بولا بجٹ سے مہنگائی کم ہو گی ...دوسرا بولا ... بجٹ سے مہنگائی ختم ہو جائے گی ۔
دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار ۔۔۔
اب اتنے بڑے نقاروں کی ڈھما ڈھم سے یہ بے چارا سنے کیا اور سمجھے کیا ۔۔۔ ویسے بھی بقول پریم چوپڑہ بیچاری نہائے گی کیا؟ اور نچوڑے گی کیا؟ بجٹ نہیں ہوا وہ ہو گیا
کل چودہویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
اگر اب ہم یہ کہیں کہ ہم بھی وہاں موجود تھے تو یہ سراسر جھوٹ ہو گا کیوں کہ ہم وہاں تو کیا کہیں بھی موجود نہیں تھے کیوں کہ ہم ''ہندسے'' ہیں اور ہندسے تب تک بے معنی ہوتے ہیں جب تک انھیں لکھا نہ جائے، یا حساب کتاب کے ڈنڈے سے قطاروں میں نہ لکھے جائیں، لیکن اس سے یہ نہ سمجھئے گا کہ ہم نے کوشش نہیں کی اپنی طرف سے ہم نے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی کوشش کی ہندسوں کی اس زبان بلکہ چیستان سمجھنے کی ویسے تو ہندسوں کی زبان یا بجٹ کو سمجھنے کا یہ طریقہ ہمارا اپنا ایجاد کردہ ہے لیکن دوسرے ہندسوں کے ساتھ اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے افادۂ عام کے لیے اسے مشتہر بھی کیے دیتے ہیں، بلکہ بولے تو یہ ایک نہیں دو طریقے یا کلیے ہیں اور اس دعوے کے ساتھ انھیں مشتہر کر رہے ہیں کہ اس سے آسان (کلید) اگر بجٹ یعنی ہندسوں کی زبان نے پیش کیا تو ہمیں ہندسہ مت کہئے گا ''لفظ'' کی تہمت لگا کر ٹکٹکی پر چڑھا دیجیے گا
آ کے کہہ دے کوئی اس سہرے سے بڑھ کر سہرا
سب سے پہلا طریقہ یا قاعدہ کلیہ یہ کلید تو یہ ہے کہ ہندسوں کی زبان شروع ہوتے ہی ٹی وی ریموٹ کا سرخ بٹن دبا دیجیے، سیدھے محلے کے دکاندار کے پاس جائیے اور اس سے کوئی بھی چیز خریدیے یا صرف نرخ ہی پوچھ لیجیے، سارا بجٹ آپ کی سمجھ میں آ جائے گا کہ عوام دوست ہے یا عوام دشمن، متوازن ہے یا غیر متوازن ۔۔۔ مہنگائی بردار ہے یا مہنگائی کش ہے، ہو سکتا ہے کہ اس دکان دار کا رابطہ پری بجٹ معلومات سے نہ ہوا ہو تو کوئی بات نہیں کسی رکشہ کو پکڑیئے فوراً ہندسوں کی زبان یعنی بجٹ سمجھ میں آ جائے گا، ورنہ کسی پٹرول پمپ پر تو بجٹ فہمی کے باقاعدہ کلاسیں لگی ہوتی ہیں جس سے ہر کوئی افادہ کر سکتا ہے لیکن اگر آپ کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے یا کسی گاڑی کے ساتھ آپ کے جائز یا ناجائز سبمندھ بھی نہیں ہیں تو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں شہر میں نکل جایئے کسی بھی دکان دار سے کسی بھی نرخ کا پوچھئے۔
نرخوں کی ایک نگاہ اگر آپ دل سے جگر تک اور پھر وہاں سے جیب تک اتریں اور تینوں کو ایک ادا میں رضامند نہیں کر گئی تو ہمیں ہندسہ نہیں لفظ کہہ دیجیے، چلیے دوسرا طریقہ آزما دیکھتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیوں کہ اس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت نہیں بیٹھے بیٹھے ہی سب کچھ روشن ہو جاتا ہے جس طرح رحمن بابا نے کہا کہ میں نہ کہیں جاتا ہوں نہ آتا ہوں نہ سفر کرتا ہوں لیکن پھر بھی میری ''رہِ عمر'' کٹتی چلی جاتی ہے۔
دنیا میں صرف یہی ایک زبان نہیں ہے جس سے انسان آپس میں باتیں کرتے ہیں بلکہ اور بھی بہت ساری زبانیں ہوتی ہیں جیسے اشاروں کی زبان جو ''بہرے'' لوگ استعمال کرتے ہیں، کنایوں کی زباں جس سے عاشق اور شاعر لوگ مکالمہ کرتے ہیں، ''قطاروں'' کی زبان جس سے کسی حکومت کی ''اہلیت اور قابلیت'' ناپی جاتی ہے ایک باڈی لینگوئج لیٹسٹ ترین دریافت ہونے والی زبان ہے جس سے فنکاروں اداکاروں اور سیاست کاروں کو سمجھا جاتا ہے یا ''سیاہ کاروں'' کو بھی جیسے
اس زبان کے الفاظ ''پسینے کے قطروں'' پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن ائرکنڈیشنر کی ایجاد نے اس زبان کو بہت گنجلک بنا دیا ہے لیکن یہاں ہم جس زبان کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اسے ''ہندسوں'' کی زبان کہا جاتا ہے، خاص خاص قسم کے ماہرین کی زبان ہے اور اس کی خصوصیت دوسری زبانوں کے قطعی برعکس یہ ہے کہ بولنے والے تو اسے بولتے ہیں لیکن سننے والے سمجھتے بالکل نہیں ہیں یا یوں کہئے کہ یہ کہلاتی تو ہندسوں کی زبان ہے لیکن ''ہندسے'' اسے بالکل نہیں سمجھتے، مثلاً ہم خود اعداد و شمار کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور
جِھتے وگدی اے راوی تے چناں بیلیا ۔۔۔۔
اوسی ویہڑے وچ ساڈا بھی گراں بیلیا ۔۔۔
یعنی ایک سے لے کر اٹھارہ کروڑ تک کے کسی مقام سے ہم بھی ''بیلانگ'' کرتے ہیں لیکن مجال ہے جو ہندسوں کی زبان کا ایک ''لفظ'' بھی کبھی ہمارے پلے پڑا ہو حالانکہ جناب وزیر خزانہ نے اس پر بڑی محنت کی تھی اور اگر ائرکنڈیشنر نہ ہوتا تو ان کے ماتھے پر اس خاموش زبان کے الفاظ بھی ابھر آتے، لیکن ہم تصویر بنے رہے سنتے رہے سر بھی دھنتے رہے لیکن ناسمجھ بھی رہے، گویا وہ کہے اور سنا کرے کوئی... لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھا نہیں بولے یقیناً اچھا بولے ہوں گے ہماری سمجھ میں نہیں آیا تو کیا ہوا ہم تو ہندسے ہیں اور ہندسوں کی زبان باقی سب کے لیے ہوتی ہے مگر ہندسوں کے لیے نہیں، ہندسوں کا کیا ہے انھیں تو کہیں سے اٹھاؤ اور کہیں رکھ دو جمع کرو منفی کرو تفریق کرو تقسیم کرو لکھو یا مٹاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا، آج یہاں کل وہاں ... صبح کہیں شام کہیں... صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر یونہی تمام ہوتی ہے
نام حافظ رقم نیک پذیرفت ولے
پیش رنداں رقم سود و زیاں ایں ھمہ نیست
یعنی حافظ کا نام ویسے تو نیکوں میں لکھا جاتا ہے لیکن ''رندوں'' کے نزدیک سود و زیاں کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے، خیر کوئی بات نہیں ہم نہیں سمجھے تو کیا ہوا اور بھی تو بہت سارے لوگ ہیں جو ہندسوں کی یہ زبان جو وزیر خزانہ بولے ہیں اور خوب بولے ہیں سمجھتے ہیں خاص طور پر سیاسی لوگ کہنے سے بھی پہلے سمجھ گئے تھے اور اسی وقت ان کے پہلے سے لکھے ہوئے تبصرے بھی چلنے لگے، باقاعدہ قوالی کا مقابلہ بھی چلا ... ایک بولا ... بجٹ متوازن ہے... دوسرا بولا بجٹ غیر متوازن ہے ... ایک بولا ... بجٹ عوام دوست ہے، دوسرا بولا بجٹ عوام دشمن ہے ...ایک بولا بجٹ سے مہنگائی کم ہو گی ...دوسرا بولا ... بجٹ سے مہنگائی ختم ہو جائے گی ۔
دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار ۔۔۔
اب اتنے بڑے نقاروں کی ڈھما ڈھم سے یہ بے چارا سنے کیا اور سمجھے کیا ۔۔۔ ویسے بھی بقول پریم چوپڑہ بیچاری نہائے گی کیا؟ اور نچوڑے گی کیا؟ بجٹ نہیں ہوا وہ ہو گیا
کل چودہویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
اگر اب ہم یہ کہیں کہ ہم بھی وہاں موجود تھے تو یہ سراسر جھوٹ ہو گا کیوں کہ ہم وہاں تو کیا کہیں بھی موجود نہیں تھے کیوں کہ ہم ''ہندسے'' ہیں اور ہندسے تب تک بے معنی ہوتے ہیں جب تک انھیں لکھا نہ جائے، یا حساب کتاب کے ڈنڈے سے قطاروں میں نہ لکھے جائیں، لیکن اس سے یہ نہ سمجھئے گا کہ ہم نے کوشش نہیں کی اپنی طرف سے ہم نے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی کوشش کی ہندسوں کی اس زبان بلکہ چیستان سمجھنے کی ویسے تو ہندسوں کی زبان یا بجٹ کو سمجھنے کا یہ طریقہ ہمارا اپنا ایجاد کردہ ہے لیکن دوسرے ہندسوں کے ساتھ اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے افادۂ عام کے لیے اسے مشتہر بھی کیے دیتے ہیں، بلکہ بولے تو یہ ایک نہیں دو طریقے یا کلیے ہیں اور اس دعوے کے ساتھ انھیں مشتہر کر رہے ہیں کہ اس سے آسان (کلید) اگر بجٹ یعنی ہندسوں کی زبان نے پیش کیا تو ہمیں ہندسہ مت کہئے گا ''لفظ'' کی تہمت لگا کر ٹکٹکی پر چڑھا دیجیے گا
آ کے کہہ دے کوئی اس سہرے سے بڑھ کر سہرا
سب سے پہلا طریقہ یا قاعدہ کلیہ یہ کلید تو یہ ہے کہ ہندسوں کی زبان شروع ہوتے ہی ٹی وی ریموٹ کا سرخ بٹن دبا دیجیے، سیدھے محلے کے دکاندار کے پاس جائیے اور اس سے کوئی بھی چیز خریدیے یا صرف نرخ ہی پوچھ لیجیے، سارا بجٹ آپ کی سمجھ میں آ جائے گا کہ عوام دوست ہے یا عوام دشمن، متوازن ہے یا غیر متوازن ۔۔۔ مہنگائی بردار ہے یا مہنگائی کش ہے، ہو سکتا ہے کہ اس دکان دار کا رابطہ پری بجٹ معلومات سے نہ ہوا ہو تو کوئی بات نہیں کسی رکشہ کو پکڑیئے فوراً ہندسوں کی زبان یعنی بجٹ سمجھ میں آ جائے گا، ورنہ کسی پٹرول پمپ پر تو بجٹ فہمی کے باقاعدہ کلاسیں لگی ہوتی ہیں جس سے ہر کوئی افادہ کر سکتا ہے لیکن اگر آپ کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے یا کسی گاڑی کے ساتھ آپ کے جائز یا ناجائز سبمندھ بھی نہیں ہیں تو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں شہر میں نکل جایئے کسی بھی دکان دار سے کسی بھی نرخ کا پوچھئے۔
نرخوں کی ایک نگاہ اگر آپ دل سے جگر تک اور پھر وہاں سے جیب تک اتریں اور تینوں کو ایک ادا میں رضامند نہیں کر گئی تو ہمیں ہندسہ نہیں لفظ کہہ دیجیے، چلیے دوسرا طریقہ آزما دیکھتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیوں کہ اس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت نہیں بیٹھے بیٹھے ہی سب کچھ روشن ہو جاتا ہے جس طرح رحمن بابا نے کہا کہ میں نہ کہیں جاتا ہوں نہ آتا ہوں نہ سفر کرتا ہوں لیکن پھر بھی میری ''رہِ عمر'' کٹتی چلی جاتی ہے۔