انتخابی اصلاحات
تحریک انصاف کا نیا پاکستان ہو یا مولانا طاہر القادری کا نیا نظام ہو یہ سب اس نظام میں اصلاحات تک محدود ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
انتخابی اصلاحات کا مطالبہ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس قدر زور و شور سے اٹھ رہا ہے کہ حکومت کو اس مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑ رہے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ مطالبہ ایسی اصلاحات کے حوالے سے کیا جا رہا ہے جن کو ہم فروعی کہہ سکتے ہیں۔ یہ مطالبہ اس ''انقلابی جماعت'' کی طرف سے کیا گیا ہے جو پاکستان کو نیا پاکستان بنانا چاہتی ہے اس جماعت کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پنجاب میں 2013 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اگر یہ دھاندلی نہ ہوتی تو تحریک انصاف پنجاب میں الیکشن جیت جاتی، اس حوالے سے تحریک انصاف 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشان کی ری چیکنگ کا مطالبہ کر رہی تھی۔
یہ مطالبہ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے بھی کیا جا رہا ہے۔ علامہ موجودہ جمہوری نظام کو ایک فراڈ نظام کہتے ہیں اور اس نظام کی پوری طرح اوور ہالنگ ضروری سمجھتے ہیں لیکن وہ جس قسم کی تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ اصلاحات کے زمرے میں تو آتی ہیں انقلاب نہیں کہلا سکتیں ۔جب کہ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر ان کی دس نکاتی اصلاحات کو مان لیا جائے تو ملک میں انقلاب آجائے گا۔ تحریک انصاف جس قسم کی اصلاحات یا تبدیلیاں چاہتی ہے اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
تحریک انصاف کا نیا پاکستان ہو یا مولانا طاہر القادری کا نیا نظام ہو یہ سب اس نظام میں اصلاحات تک محدود ہے اس پورے فراڈ نظام کی مکمل تبدیلی نہ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے نہ طاہر القادری کوئی ایسی بامعنی تبدیلیوں کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان میں انقلاب کا متبادل بن سکیں اس حوالے سے صرف انتخابی اصلاحات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا مطلب الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں کو روکنا ہے ہم جس جمہوریت کو 66 سال سے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اس جمہوریت میں انتخابی دھاندلیاں ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جسے نہ الیکٹرانک ووٹنگ سے روکا جاسکتا ہے نہ انگوٹھوں کے نشانوں کی جانچ پڑتال سے روکا جاسکتا ہے۔
موجودہ انتخابی نظام میں ووٹروں کو گھروں سے ہانک کر پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں وڈیرہ شاہی تسلط اور دولت کے انبار بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں میں بھی جو ''لاکھوں'' عوام شریک ہو رہے ہیں وہ ان ہی مذکورہ بالا دو وجوہات کے مرہون منت ہیں یعنی وڈیرہ شاہی اثر و رسوخ اور دولت کا بے مہابا استعمال۔ پاکستان کی 18 کروڑ کی آبادی میں اگر کوئی جماعت سیاسی بالادستی اور دولت کے استعمال سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا ہجوم بھی اپنے جلسوں جلوسوں میں اکٹھا کرلیتی ہے تو 18 کروڑ کی اس آبادی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ ایک بھاری خاموش اکثریت اس سیاسی شعبدہ بازی سے الگ رہتی ہے۔
اگر کسی الیکشن میں 50 فیصد کی شرح سے ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو اسے گریٹ جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے جب کہ یہ ووٹر سیاسی اثر و رسوخ دولت کی ریل پیل ذات برادری اور سیاسی وفاداریوں کی وجہ پولنگ اسٹیشنوں تک آتے ہیں اور اپنا ووٹ بتائے ہوئے نشان پر ٹھپہ لگا کر چلے جاتے ہیں۔ کوئی بندہ بشر پارٹیوں کے منشور، پارٹیوں کی قیادت کی اہلیت اور ایمانداری کے پس منظر میں ووٹ نہیں دیتا یہ ہماری نام نہاد جمہوریت کا ایسا المیہ ہے جس سے چھوٹی موٹی انتخابی اصلاحات کے ذریعے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی۔
تحریک انصاف اور طاہر القادری کی جماعت کے علاوہ پیپلز پارٹی اور خود مسلم لیگ (ن) بھی انتخابی اصلاحات کے راگ الاپ رہی ہے لیکن یہ ساری پارٹیاں کاسمیٹک اصلاحات چاہتی ہیں ایسی اصلاحات نہیں چاہتیں جو اس کرپٹ جمہوری نظام میں ایسی تبدیلیاں لاسکیں جو ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت کے قیام کا باعث بن سکیں۔ہمارا پورا انتخابی نظام دھاندلیوں، جبر اور سیاسی اثر و رسوخ دولت کے استعمال پر کھڑا ہوا ہے اس نظام میں جھوٹے اور پرفریب وعدے عوام کے لیے چارے کی حیثیت رکھتے ہیں انتخابی مہم کے دوران عوام کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لانے والے سیاسی مجاہدین انتخابات کے بعد عوام کے درمیان سے گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔
ان کے وعدے ان کے منشور سب کے سب دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کا جمہوری المیہ یہ ہے کہ یہاں عملاً خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام بلا سوچے سمجھے خاندانی شہزادوں شہزادیوں اور ولی عہدوں کو سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں۔ کیا جمہوریت کی مالا جپنے والا کوئی سیاسی رہنما سیاسی کارکن ادیب شاعر دانشور اہل قلم اس ولی عہدی نظام کے سنگین مضمرات پر غور کر رہا ہے یا صرف ''ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے'' کا وظیفہ پڑھ رہا ہے۔ ہم جس خلوص سے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا چاہتے، دراصل ہم دوسرے معنوں میں خاندانی نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا چاہتے۔
سرمایہ دارانہ نظام چونکہ کرپشن کی بنیادوں پر کھڑا ہے اس لیے اس نظام میں کرپشن دھاندلیوں وغیرہ کو روکنا تو ممکن نہیں۔ لیکن کچھ ایسی انتخابی اصلاحات بہرحال کی جاسکتی ہیں جو رائج الوقت جمہوریت کے گلے میں رسی کا کام دے سکتی ہیں۔مثلاً اس قسم کا نظام رائج کیا جائے یا اس قسم کی انتخابی اصلاحات رائج کی جائیں کہ کم از کم عوام کو جھوٹے انتخابی وعدوں سے نجات حاصل ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے منشور اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے مجبور ہوسکیں۔
اس حوالے سے ایک اصلاح یہ ہوسکتی ہے کہ ایک ایسا آزاد اور بااختیار کمیشن قائم کیا جاسکے جس کے پاس انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت اپنا منشور اور منشور پر مرحلے وار عملدرآمد کا شیڈول دے اور یہ کمیشن انتخابات جیت کر اقتدار میں آنے والی جماعت کی اس حوالے سے سختی کے ساتھ مانیٹرنگ کرے کہ برسر اقتدار آنے والی جماعت اپنے منشور اپنے انتخابی وعدوں پر مرحلے وار عمل کر رہی ہے یا نہیں؟ جو جماعت اپنے دیے ہوئے شیڈول کے مطابق ایک مقررہ مدت کے اندر جو دو سال ہوسکتی ہے عمل درآمد نہ کرسکے تو ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اگر اس اصول پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تو انتخابات بڑی حد تک بامعنی ہوسکتے ہیں اور جمہوریت بھی کسی حد تک بامعنی ہوسکتی ہے۔
جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے بتایا گیا ہے کیا ہماری جمہوریت اس معیار پر پوری اترتی ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی ہی میں ہوگا۔ کیونکہ نہ یہ جمہوریت ''عوام کی جمہوریت'' ہوتی ہے نہ ''عوام کے لیے'' ہوتی ہے بس عوام کے ذریعے ہونے کا اعزاز اس جمہوریت کو حاصل ہے۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے والے اس جمہوریت میں ٹارزن کی طرح عوام کے سروں پر چھلانگ لگاتے ہیں اور مقررہ مدت یعنی پانچ سال تک عوام کا ایسا باجا بجاتے ہیں کہ عوام اس جمہوریت کے نام سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں نہ شہزادے ہوتے ہیں نا شہزادیاں نہ ولی عہد۔
وہاں بلدیاتی نظام کی سیڑھی سے اہل سیاست قیادت کی طرف آتے ہیں اور بلدیاتی نظام میں ہر شخص کو کارکردگی کی بنیاد پر آگے آنے کا موقع ملتا ہے کوئی اشرافیہ کا لاڈلا خاندانی سیاست کے ذریعے عوام کے سروں پر ٹارزن بن کر مسلط نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی ایجنٹ ہوتی ہے لیکن صدیوں کی پریکٹس کے بعد یہاں اوپر آنے کے مثبت راستے معین کردیے گئے ہیں۔ اگر ہماری جمہوریت کو بامعنی اور عوامی جمہوریت بنانا ہے تو بلدیاتی نظام کی چھلنی سے گزر کر اوپر آنا لازمی بنایا جائے۔ کیونکہ بلدیاتی نظام سیاسی قیادت پیدا کرنے کا ایک بہتر وسیلہ ہے۔
مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے باصلاحیت اور ایماندار لوگ انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے بڑے بڑے جلسوں جلوسوں کی جگہ چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں کو رواج دیا جائے اور میڈیا ان کارنر میٹنگوں کی بھرپور کوریج کرے۔ اس طرح مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے امیدواروں کو عوام میں متعارف ہونے کے مواقعے حاصل ہوں گے اور ملک ایک بامقصد بامعنی جمہوریت کی طرف پیش قدمی کرسکے گا۔
یہ مطالبہ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے بھی کیا جا رہا ہے۔ علامہ موجودہ جمہوری نظام کو ایک فراڈ نظام کہتے ہیں اور اس نظام کی پوری طرح اوور ہالنگ ضروری سمجھتے ہیں لیکن وہ جس قسم کی تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ اصلاحات کے زمرے میں تو آتی ہیں انقلاب نہیں کہلا سکتیں ۔جب کہ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر ان کی دس نکاتی اصلاحات کو مان لیا جائے تو ملک میں انقلاب آجائے گا۔ تحریک انصاف جس قسم کی اصلاحات یا تبدیلیاں چاہتی ہے اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
تحریک انصاف کا نیا پاکستان ہو یا مولانا طاہر القادری کا نیا نظام ہو یہ سب اس نظام میں اصلاحات تک محدود ہے اس پورے فراڈ نظام کی مکمل تبدیلی نہ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے نہ طاہر القادری کوئی ایسی بامعنی تبدیلیوں کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان میں انقلاب کا متبادل بن سکیں اس حوالے سے صرف انتخابی اصلاحات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا مطلب الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں کو روکنا ہے ہم جس جمہوریت کو 66 سال سے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اس جمہوریت میں انتخابی دھاندلیاں ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جسے نہ الیکٹرانک ووٹنگ سے روکا جاسکتا ہے نہ انگوٹھوں کے نشانوں کی جانچ پڑتال سے روکا جاسکتا ہے۔
موجودہ انتخابی نظام میں ووٹروں کو گھروں سے ہانک کر پولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں وڈیرہ شاہی تسلط اور دولت کے انبار بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں میں بھی جو ''لاکھوں'' عوام شریک ہو رہے ہیں وہ ان ہی مذکورہ بالا دو وجوہات کے مرہون منت ہیں یعنی وڈیرہ شاہی اثر و رسوخ اور دولت کا بے مہابا استعمال۔ پاکستان کی 18 کروڑ کی آبادی میں اگر کوئی جماعت سیاسی بالادستی اور دولت کے استعمال سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا ہجوم بھی اپنے جلسوں جلوسوں میں اکٹھا کرلیتی ہے تو 18 کروڑ کی اس آبادی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ ایک بھاری خاموش اکثریت اس سیاسی شعبدہ بازی سے الگ رہتی ہے۔
اگر کسی الیکشن میں 50 فیصد کی شرح سے ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو اسے گریٹ جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے جب کہ یہ ووٹر سیاسی اثر و رسوخ دولت کی ریل پیل ذات برادری اور سیاسی وفاداریوں کی وجہ پولنگ اسٹیشنوں تک آتے ہیں اور اپنا ووٹ بتائے ہوئے نشان پر ٹھپہ لگا کر چلے جاتے ہیں۔ کوئی بندہ بشر پارٹیوں کے منشور، پارٹیوں کی قیادت کی اہلیت اور ایمانداری کے پس منظر میں ووٹ نہیں دیتا یہ ہماری نام نہاد جمہوریت کا ایسا المیہ ہے جس سے چھوٹی موٹی انتخابی اصلاحات کے ذریعے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی۔
تحریک انصاف اور طاہر القادری کی جماعت کے علاوہ پیپلز پارٹی اور خود مسلم لیگ (ن) بھی انتخابی اصلاحات کے راگ الاپ رہی ہے لیکن یہ ساری پارٹیاں کاسمیٹک اصلاحات چاہتی ہیں ایسی اصلاحات نہیں چاہتیں جو اس کرپٹ جمہوری نظام میں ایسی تبدیلیاں لاسکیں جو ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت کے قیام کا باعث بن سکیں۔ہمارا پورا انتخابی نظام دھاندلیوں، جبر اور سیاسی اثر و رسوخ دولت کے استعمال پر کھڑا ہوا ہے اس نظام میں جھوٹے اور پرفریب وعدے عوام کے لیے چارے کی حیثیت رکھتے ہیں انتخابی مہم کے دوران عوام کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لانے والے سیاسی مجاہدین انتخابات کے بعد عوام کے درمیان سے گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔
ان کے وعدے ان کے منشور سب کے سب دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کا جمہوری المیہ یہ ہے کہ یہاں عملاً خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام بلا سوچے سمجھے خاندانی شہزادوں شہزادیوں اور ولی عہدوں کو سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں۔ کیا جمہوریت کی مالا جپنے والا کوئی سیاسی رہنما سیاسی کارکن ادیب شاعر دانشور اہل قلم اس ولی عہدی نظام کے سنگین مضمرات پر غور کر رہا ہے یا صرف ''ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے'' کا وظیفہ پڑھ رہا ہے۔ ہم جس خلوص سے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا چاہتے، دراصل ہم دوسرے معنوں میں خاندانی نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا چاہتے۔
سرمایہ دارانہ نظام چونکہ کرپشن کی بنیادوں پر کھڑا ہے اس لیے اس نظام میں کرپشن دھاندلیوں وغیرہ کو روکنا تو ممکن نہیں۔ لیکن کچھ ایسی انتخابی اصلاحات بہرحال کی جاسکتی ہیں جو رائج الوقت جمہوریت کے گلے میں رسی کا کام دے سکتی ہیں۔مثلاً اس قسم کا نظام رائج کیا جائے یا اس قسم کی انتخابی اصلاحات رائج کی جائیں کہ کم از کم عوام کو جھوٹے انتخابی وعدوں سے نجات حاصل ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے منشور اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے مجبور ہوسکیں۔
اس حوالے سے ایک اصلاح یہ ہوسکتی ہے کہ ایک ایسا آزاد اور بااختیار کمیشن قائم کیا جاسکے جس کے پاس انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت اپنا منشور اور منشور پر مرحلے وار عملدرآمد کا شیڈول دے اور یہ کمیشن انتخابات جیت کر اقتدار میں آنے والی جماعت کی اس حوالے سے سختی کے ساتھ مانیٹرنگ کرے کہ برسر اقتدار آنے والی جماعت اپنے منشور اپنے انتخابی وعدوں پر مرحلے وار عمل کر رہی ہے یا نہیں؟ جو جماعت اپنے دیے ہوئے شیڈول کے مطابق ایک مقررہ مدت کے اندر جو دو سال ہوسکتی ہے عمل درآمد نہ کرسکے تو ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اگر اس اصول پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تو انتخابات بڑی حد تک بامعنی ہوسکتے ہیں اور جمہوریت بھی کسی حد تک بامعنی ہوسکتی ہے۔
جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے بتایا گیا ہے کیا ہماری جمہوریت اس معیار پر پوری اترتی ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی ہی میں ہوگا۔ کیونکہ نہ یہ جمہوریت ''عوام کی جمہوریت'' ہوتی ہے نہ ''عوام کے لیے'' ہوتی ہے بس عوام کے ذریعے ہونے کا اعزاز اس جمہوریت کو حاصل ہے۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے والے اس جمہوریت میں ٹارزن کی طرح عوام کے سروں پر چھلانگ لگاتے ہیں اور مقررہ مدت یعنی پانچ سال تک عوام کا ایسا باجا بجاتے ہیں کہ عوام اس جمہوریت کے نام سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں نہ شہزادے ہوتے ہیں نا شہزادیاں نہ ولی عہد۔
وہاں بلدیاتی نظام کی سیڑھی سے اہل سیاست قیادت کی طرف آتے ہیں اور بلدیاتی نظام میں ہر شخص کو کارکردگی کی بنیاد پر آگے آنے کا موقع ملتا ہے کوئی اشرافیہ کا لاڈلا خاندانی سیاست کے ذریعے عوام کے سروں پر ٹارزن بن کر مسلط نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی ایجنٹ ہوتی ہے لیکن صدیوں کی پریکٹس کے بعد یہاں اوپر آنے کے مثبت راستے معین کردیے گئے ہیں۔ اگر ہماری جمہوریت کو بامعنی اور عوامی جمہوریت بنانا ہے تو بلدیاتی نظام کی چھلنی سے گزر کر اوپر آنا لازمی بنایا جائے۔ کیونکہ بلدیاتی نظام سیاسی قیادت پیدا کرنے کا ایک بہتر وسیلہ ہے۔
مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے باصلاحیت اور ایماندار لوگ انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے بڑے بڑے جلسوں جلوسوں کی جگہ چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں کو رواج دیا جائے اور میڈیا ان کارنر میٹنگوں کی بھرپور کوریج کرے۔ اس طرح مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے امیدواروں کو عوام میں متعارف ہونے کے مواقعے حاصل ہوں گے اور ملک ایک بامقصد بامعنی جمہوریت کی طرف پیش قدمی کرسکے گا۔