کراچی چیمبر کا پورے شہر کو حساس قرار دے کر فوج تعینات کرنے کا مطالبہ
مخصوص علاقوں میں آرمی آپریشن کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، عبداللہ ذکی
شہرکے ہر حصے میں فوج کی تعیناتی سے ہی مستقل امن قائم ہوگا، صدر کراچی چیمبر فوٹو: فائل
کراچی چیمبر آف کامرس نے پورے شہر کو حساس قرار دے کر فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے اسلام آباد اور کراچی کے کچھ حساس علاقوں میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا ہے کہ مجموعی طور پرپورے کراچی میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہے اور زمینی حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے حکومت پورے کراچی میں فوج تعینات کرنے کے احکام جاری کرے کیونکہ مخصوص علاقوں میں آرمی آپریشن کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، شہر کے ہر حصے میں فوج کی تعیناتی سے ہی کراچی میں مستقل بنیادوں پر امن کی بحالی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے ہرمشکل وقت میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام اور تاجر برادری پاک فوج پر مکمل اعتماد اور فخر کرتی ہے، کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن مثبت نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا بلکہ شہرکی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تاجر برادری کے پاس سوائے پاک فوج سے مدد طلب کرنے کے کوئی دوسراراستہ نہیں بچا، کراچی میں پاک فوج کی تعیناتی سے شہر کے پریشان حال عوام کوریلیف مل سکے گا جوطویل عرصے سے انتہائی نامصائب حالات سے دوچار ہیں اوربدامنی کی وجہ سے ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
عبداللہ ذکی نے کہا کہ حکومت نے کراچی چیمبر کے مطالبے کوتسلیم کرتے ہوئے بالآخر پاک فوج کو کراچی کے بعض حساس علاقوں میں کارروائی کی ہدایت توکردی ہے لیکن کراچی چیمبر کا دوٹوک موقف ہے کہ کراچی شہر میں مکمل امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ جب آرمی آپریشن کا دائرہ کار پورے شہر تک وسیع کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرزکے محدود اختیارات اور پولیس میں سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے یہ ادارے اس پوزیشن میں ہی نہیں ہیںکہ وہ شہر قائد میں امن قائم کرسکیں، شہر کراچی میں امن صرف سخت اقدامات کے ذریعے ہی لایا جاسکتا ہے جوصرف پاک فوج ہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی غیر محفوظ رہا تو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے حکومت کی تمام کاروبار دوست پالیسیاں اور اقدامات ضائع ہو جائیں گے، شہر بھر میں اسٹریٹ کرائمز، اغوا برائے تاوان، بھتہ مافیا کی کارروائیاں، ڈکیتیاں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دوبارہ تیزی آگئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے معاملے میں بے بس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر جوملکی معیشت میں 60 فیصد سے زائد ریونیوکا حصہ دار ہے لہٰذا شہر قائد کو اسی لحاظ سے اہمیت دی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اور کراچی کے عوام کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی چیمبر کے مطالبے پر ضرور غور کرے گی اور آرمی آپریشن کو شہر کے کونے کونے میں پھیلا دیا جائے گا تاکہ اس شہر میں دیرپا امن قائم کیا جاسکے۔
چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے اسلام آباد اور کراچی کے کچھ حساس علاقوں میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا ہے کہ مجموعی طور پرپورے کراچی میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہے اور زمینی حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے حکومت پورے کراچی میں فوج تعینات کرنے کے احکام جاری کرے کیونکہ مخصوص علاقوں میں آرمی آپریشن کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، شہر کے ہر حصے میں فوج کی تعیناتی سے ہی کراچی میں مستقل بنیادوں پر امن کی بحالی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے ہرمشکل وقت میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام اور تاجر برادری پاک فوج پر مکمل اعتماد اور فخر کرتی ہے، کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن مثبت نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا بلکہ شہرکی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تاجر برادری کے پاس سوائے پاک فوج سے مدد طلب کرنے کے کوئی دوسراراستہ نہیں بچا، کراچی میں پاک فوج کی تعیناتی سے شہر کے پریشان حال عوام کوریلیف مل سکے گا جوطویل عرصے سے انتہائی نامصائب حالات سے دوچار ہیں اوربدامنی کی وجہ سے ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
عبداللہ ذکی نے کہا کہ حکومت نے کراچی چیمبر کے مطالبے کوتسلیم کرتے ہوئے بالآخر پاک فوج کو کراچی کے بعض حساس علاقوں میں کارروائی کی ہدایت توکردی ہے لیکن کراچی چیمبر کا دوٹوک موقف ہے کہ کراچی شہر میں مکمل امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ جب آرمی آپریشن کا دائرہ کار پورے شہر تک وسیع کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرزکے محدود اختیارات اور پولیس میں سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے یہ ادارے اس پوزیشن میں ہی نہیں ہیںکہ وہ شہر قائد میں امن قائم کرسکیں، شہر کراچی میں امن صرف سخت اقدامات کے ذریعے ہی لایا جاسکتا ہے جوصرف پاک فوج ہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی غیر محفوظ رہا تو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے حکومت کی تمام کاروبار دوست پالیسیاں اور اقدامات ضائع ہو جائیں گے، شہر بھر میں اسٹریٹ کرائمز، اغوا برائے تاوان، بھتہ مافیا کی کارروائیاں، ڈکیتیاں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دوبارہ تیزی آگئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے معاملے میں بے بس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر جوملکی معیشت میں 60 فیصد سے زائد ریونیوکا حصہ دار ہے لہٰذا شہر قائد کو اسی لحاظ سے اہمیت دی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اور کراچی کے عوام کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی چیمبر کے مطالبے پر ضرور غور کرے گی اور آرمی آپریشن کو شہر کے کونے کونے میں پھیلا دیا جائے گا تاکہ اس شہر میں دیرپا امن قائم کیا جاسکے۔