ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کی عمر کے حوالے سے عدالت میں درخواست دائر

4جولائی کیلیے نوٹس جاری، فریقین میں بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹررؤف اختر فاروقی کی تاریخ پیدائش کے بارے میں تنازع ہے

رؤف فاروقی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تنخواہ لے رہے ہیں،اسامی بھی ادارے میں شمار نہیں ہوتی، ایس بی سی اے کا عدالت میں موقف فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی کی عمر کے حوالے سے سگنل بینچ کے فیصلے کے خلاف ایس بی سی اے کی طرف سے ڈویژن بینچ میں فوری سماعت کیلیے درخواست دائر کردی ہے۔

شاہد جمیل ایڈووکیٹ کے توسط سے فوری سماعت کیلیے دائر درخواست پر جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکومت سندھ اور مدعا علیہ روف اختر صدیقی کو 4جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیے ، فریقین میں بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر رؤف اختر فاروقی کی تاریخ پیدائش کے بارے میں تنازع ہے،اس سلسلے میں ایس بی سی اے کے سینئر آفیسر ممتاز حیدر نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں موقف اختیارکیاہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی رؤف اختر صدیقی کی اصل تاریخ پیدائش 26اکتوبر 1952ہے،انھوں نے قواعد سے ہٹ کر 1992میں اس وقت کے میئر کراچی فاروق ستار سے تاریخ پیدائش میں تبدیلی کرالی تھی۔

حکومت سندھ نے بھی 18مارچ 1992کو ان کی تاریخ پیدائش 26اکتوبر1955 کو درست قرار دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا، اس فیصلے کے تحت ان کی تاریخ ریٹائرمنٹ جو پہلے 2012تھی اس میں مزید 3سال توسیع ہوگئی،گریڈ 19کے سینئر افسرممتاز حیدر نے اس صورتحال کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی کہ فاروق ستار کو تاریخ پیدائش میں تبدیلی کے متعلق فیصلے کا اختیارنہیں تھا،اس معاملے میں ضروری قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،اس لیے رؤف اختر فاروقی کو ریٹائرڈ قرار دے کر گریڈ 20کی خالی ہونے والی اسامی پر انہیں تعینات کیا جائے ۔


اس درخواست پرنوٹس جاری ہوتے ہی ایس بی سی اے کے قائم مقام ڈائریکٹر ایڈمن نے 30اپریل کو رؤف اختر فاروقی کو تنخواہ کی ادائیگی روکنے کا حکم نامہ جاری کردیا، رؤف اختر فاروقی نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں دیوانی دعوی دائر کردیا، 11جون کو اس دعوے پر سندھ ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے قرار دیا کہ تاریخ پیدائش میں تبدیلی کا فیصلہ تقریبا 22سال پہلے ہوا،کسی نے اس پرتوجہ نہیں دی،سنگل بینچ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ وہ ڈائریکٹر ایڈمن کے فیصلے پرکوئی رائے نہیں دینا چاہتے تاہم اس حکم نامے کی تحریر خاصی قابل اعتراض ہے ، فاضل سنگل بینچ نے مزید آبزرو کیا کہ ڈائریکٹر ایڈمن نے اپنے اختیارسے تجاوز کیا،ہائیکورٹ کے فیصلے سے قبل وہ فیصلہ جاری کردیا ۔

جس کے لیے ممتاز حیدر نامی افسر نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،سنگل بینچ نے نہ صرف رؤف اختر فاروقی کی تنخواہ جاری کرنے کا حکم دیابلکہ ہدایت کی کہ انہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی کے عہدے سے بھی نہ ہٹایاجائے، اس فیصلے کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے دورکنی بینچ کے روبرو آئینی درخواست دائر کی جس میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے اختیارسے تجاوز کرتے ہوئے رؤف اختر فاروقی کے حق میں وہ ہدایات جاری کیں جن کی انھوں نے استدعا بھی نہیں کی تھی۔

ایس بی سی اے نے الزام عائد کیا کہ رؤف اختر نے اپنی پرسنل فائل حاصل کی ،اس میں تاریخ پیدائش میں تبدیلی کرکے اپنے پاس چھپالیا، درخواست میں عدالت کو بتایاگیاہے کہ رؤف اختر فاروقی نے ملازمت کے آغاز پر جو ڈومیسائل جمع کرایا تھا وہ کراچی کا تھا لیکن 1992میں انھوں نے ڈیرہ غازی خان کا ایک اور ڈومیسائل تیار کرایا جوکہ ایس بی سی اے کے قواعد کی خلاف ورزی ہے کیونکہ ان قواعد کے تحت صرف صوبہ سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والے افسران ہی آفیسر مقرر کیے جاسکتے ہیں ، آئینی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رؤف اختر فاروقی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تنخواہ لے رہے ہیں جب کہ وہ جس اسامی پر فرائض انجام دے رہے ہیں وہ اس ادارے میں شمار نہیں ہوتی اورڈیپوٹیشن پر ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے تعینات ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
Load Next Story