شمالی وزیرستان آپریشن نقل مکانی کرنیوالوں کو بغیر کوائف سندھ میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ

سندھ میں آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے سندھ پولیس ، رینجرز اور پاک فوج نے مشترکہ حکمت عملی طے کرلی ہے

کراچی میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن تیز کیا جائیگا، قائم علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس، گورنر،کورکمانڈر،ڈی جی رینجرز اور آئی جی کی شرکت۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

سندھ حکومت نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے نتیجے میں نقل و مکانی کرنے والوں کوکوائف جمع کیے بغیرداخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت امن وامان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے نتیجے میں نقل و مکانی کرکے ندھ آنے والوں کوکوائف جمع کیے بغیرداخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس ضمن میں پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سے بھی رابطہ کرکے سرحدوں کی سخت نگرانی کی جائے گی جب کہ خصوصی چوکیاں تشکیل دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات ، داخلی و خارجی راستوں پر رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا سرکوں اور ٹرینوں کے ذریعے آنے والے تمام افراد کوکراچی سمیت صوبے بھر کے کسی بھی علاقے میں آنے کیلیے مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی۔


سندھ میں آپریشن '' ضرب عضب '' کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے سندھ پولیس ، رینجرز اور پاک فوج نے مشترکہ حکمت عملی طے کرلی ہے ، یہ حکمت عملی پیرکو اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری محکمہ داخلہ ، سیکریٹری محکمہ صحت ، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ پولیس ، ڈی جی پراونشل ڈزآسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے )، انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں آپریشن'' ضرب عضب'' کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، جو کراچی سمیت پورے سندھ پر مرتب ہو سکتے ہیں، اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیاکہ انتشار پیدا کرنے اور دہشت گردی کی ہر کوشش کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کیخلاف ایکشن کو تیز کیا جائے گا اور ان کے ٹھکانوں تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔

عوامی مقامات پر پولیس اور رینجرز کی تعیناتی میں اضافہ کیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گشت کو بڑھایا جائے گا ۔ حساس تنصیبات اور مقامات کی سیکیورٹی سخت کی جائے گی،وفاقی اور نجی اداروں کو بھی اپنی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے کہا جائے گا، اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ، محکمہ صحت اور پراونشل ڈزآسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ صوبے میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کے مشورے سے دفعہ 144 نافذ کردیا جائے تاکہ کسی نا خوشگوار صورت حل سے بچنے کیلیے جلسے ، جلوس اور مظاہروں کے انعقاد پر پابندی عائد کردی جائے، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کی تصدیق کے بغیر مکانات کرایے پر دینے والے مالک مکان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے ۔کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردوں اور ملک دشمنوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، آئی جی سندھ اقبال محمود نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ میں غیر قانونی تارکین وطن امن وامان کو خراب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں ۔کراچی میں مشکوک لوگوں کی '' ریکی '' شروع کردی گئی ہے اور ریپڈ رسپانس فورس کو مختلف زونز میں تقسیم کردیا گیا ہے تاکہ وہ فوری کارروائی کر سکیں ۔
Load Next Story