سانحہ لاہور گھیراؤ جلاو نہیں افہمام وتفہیم کی ضرورت
میڈیا کی رپورٹوں سے لگتا ہے پولیس نے حد سے زیادہ تجاویزکیا جس کے باعث رکاوٹیں ہٹانےکا آپریشن خونی تصادم میں تبدیل ہوا
میڈیا کی رپورٹوں سے لگتا ہے پولیس نے حد سے زیادہ تجاویزکیا جس کے باعث رکاوٹیں ہٹانےکا آپریشن خونی تصادم میں تبدیل ہوا فوٹو: این آئی آئی
لاہور کے پوش ایریا ماڈل ٹائون میں ڈاکٹر طاہر القادری کے گھرکے سامنے سے بیرئیرز ہٹانے کے آپریشن کے دوران تحریک منہاج القرآن کے مشتعل کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں 8 کارکن جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو خواتین بھی بتائی جارہی ہیں جب کہ 85کے قریب افراد زخمی ہو گئے ہیں' زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس سانحے کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں پاکستان عوامی تحریک کے مشتعل کارکنوں نے مظاہرے کیے اور ٹائروں کو آگ لگائی۔
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ یا منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر جو کچھ ہوا اور جو جانیں ضایع ہوئیں' اسے افسوسناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔درد دل رکھنے والا ہر شخص اس پر دکھی ہے۔ بے گناہ افراد کی ہلاکت کو کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سانحہ کیوں اور کیسے رونما ہوا' اس بارے میں پولیس اور تحریک منہاج القرآن کے موقف میں تضاد نظر آتا ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ ہجوم میں سے ان پر فائرنگ کی گئی جب کہ تحریک منہاج القرآن کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس کے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائیں گئیں۔
بہر حال میڈیا کی رپورٹوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پولیس نے حد سے زیادہ تجاویز کیا جس کے باعث رکاوٹیں ہٹانے کا آپریشن خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ اگر پولیس افسران اور موقعے پر موجود دیگر ذمے داران یا اس آپریشن کے ماسٹر مائنڈز صبر و تحمل اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس سانحہ کا ذمے دار براہ راست پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور حکومت کی اعلیٰ شخصیات پر مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی ماڈل ٹائون لاہور میں ہونے والے سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اس سانحہ پر حکومت پنجاب پر شدید تنقید کی ہے۔تحریک انصاف نے بھی اس سانحہ پر حکومت پنجاب کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ادھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی لاٹھی اور گولی کی سیاست نہیں کی، اس افسوس ناک واقعہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایف آئی آر سے کسی کو بھی نہیں روکا جائے گا، اگر میرے خلاف بھی کٹوانی ہے تو درج کی جائے۔ انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے پر سب رنجیدہ ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا لواحقین کے غم کو سمجھ سکتا ہوں ، لواحقین کے ساتھ دلی اظہار افسوس کرتا ہوں اور اللہ لواحقین کو صبر دے۔ انھوں نے کہا معصوم جانوں کی ہلاکتوں پر ہائی کورٹ کے کمیشن کے قیام کا حکم دیدیا۔ عدالتی کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تحقیق کرے گا۔ واقعے میں کسی کا بھی اگر قصور ہے تو سامنے آنا چاہیے جب تک کمیشن دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہ کر دے چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ قصور واروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تیس لاکھ روپے فی کس امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں یہ معمول ہے کہ جب بھی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے' اس کی تحقیقات کے لیے کوئی کمیشن بنا دیا جاتا ہے اور پھر یہ معاملہ میڈیا اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ ماڈل ٹائون لاہور کا سانحہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے' اس کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ اگر حکومت نے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے تو معاملات بگڑ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک اس حوالے سے احتجاجی دھرنے' جلسے اور جلوس شروع کرچکی ہے۔
مسلم لیگ ق' ایم کیو ایم اور تحریک انصاف بھی ان میں شامل ہو سکتی ہیں' عوام میں بھی اس سانحہ کے بعد غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ یوں ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی شکل بن سکتی ہے' اس لیے حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پنجاب حکومت کے وزراء بھی بے تکی بیان بازی سے گریز کریں اور سارے معاملے کو غیر جانبدارانہ اور قانونی انداز میں آگے بڑھنے دیا جائے تاکہ اس سانحے کے اصل ذمے دار سامنے آسکیں۔
پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے اور ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں عام ہیں' ایسے حالات میں ملک کی اہم شخصیات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت ملک کی تقریباً ہر اہم اور بااثر شخصیت نے اپنی رہائش گاہوں کے باہر حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ یہ کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری کو حفاظت کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ماڈل ٹائون میں ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ یا تحریک منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر رکاوٹیں ہٹانے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اگر عدالتی راستہ اختیار کیا جاتا اور وہاں سے رکاوٹیں ہٹانے کی منظوری لی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا' بہر حال اب اس سانحہ کی عدالتی اور انتظامی تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہیے' اس سانحہ پر سیاسی جماعتوں کو بھی جمہوری دائرے میں رہنا چاہیے اور گھیرائو جلائو کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت افہام و تفہیم کی اشد ضرورت ہے' قوم گھیرائو جلائو کی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی' دوسری جانب پنجاب حکومت کو بھی اپنے رویے اور طرز حکمرانی پر غور کرنا چاہیے' پولیس کو فری ہینڈ دینے کا ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔ اس معاملے کو سیاسی انداز میں بھی حل کیا جا سکتا تھا' مسلم لیگ ن کا کوئی وفد اگر تحریک منہاج القرآن کی قیادت سے ملاقات کرتا اور اسے رکاوٹوں کو ہٹانے کی ضرورت پر قائل کرتا تو بھی اس مسئلے کو باآسانی حل کیا جا سکتا' افسوس کسی نے ان امور پر توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ ایک سانحے کی صورت میں سامنے آگیا۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔
عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ یا منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر جو کچھ ہوا اور جو جانیں ضایع ہوئیں' اسے افسوسناک ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔درد دل رکھنے والا ہر شخص اس پر دکھی ہے۔ بے گناہ افراد کی ہلاکت کو کسی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سانحہ کیوں اور کیسے رونما ہوا' اس بارے میں پولیس اور تحریک منہاج القرآن کے موقف میں تضاد نظر آتا ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ ہجوم میں سے ان پر فائرنگ کی گئی جب کہ تحریک منہاج القرآن کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس کے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائیں گئیں۔
بہر حال میڈیا کی رپورٹوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ پولیس نے حد سے زیادہ تجاویز کیا جس کے باعث رکاوٹیں ہٹانے کا آپریشن خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ اگر پولیس افسران اور موقعے پر موجود دیگر ذمے داران یا اس آپریشن کے ماسٹر مائنڈز صبر و تحمل اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس سانحہ کا ذمے دار براہ راست پنجاب حکومت کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور حکومت کی اعلیٰ شخصیات پر مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی ماڈل ٹائون لاہور میں ہونے والے سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اس سانحہ پر حکومت پنجاب پر شدید تنقید کی ہے۔تحریک انصاف نے بھی اس سانحہ پر حکومت پنجاب کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ادھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی لاٹھی اور گولی کی سیاست نہیں کی، اس افسوس ناک واقعہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایف آئی آر سے کسی کو بھی نہیں روکا جائے گا، اگر میرے خلاف بھی کٹوانی ہے تو درج کی جائے۔ انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے پر سب رنجیدہ ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا لواحقین کے غم کو سمجھ سکتا ہوں ، لواحقین کے ساتھ دلی اظہار افسوس کرتا ہوں اور اللہ لواحقین کو صبر دے۔ انھوں نے کہا معصوم جانوں کی ہلاکتوں پر ہائی کورٹ کے کمیشن کے قیام کا حکم دیدیا۔ عدالتی کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تحقیق کرے گا۔ واقعے میں کسی کا بھی اگر قصور ہے تو سامنے آنا چاہیے جب تک کمیشن دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہ کر دے چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ قصور واروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تیس لاکھ روپے فی کس امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں یہ معمول ہے کہ جب بھی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے' اس کی تحقیقات کے لیے کوئی کمیشن بنا دیا جاتا ہے اور پھر یہ معاملہ میڈیا اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ ماڈل ٹائون لاہور کا سانحہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے' اس کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ اگر حکومت نے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے تو معاملات بگڑ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک اس حوالے سے احتجاجی دھرنے' جلسے اور جلوس شروع کرچکی ہے۔
مسلم لیگ ق' ایم کیو ایم اور تحریک انصاف بھی ان میں شامل ہو سکتی ہیں' عوام میں بھی اس سانحہ کے بعد غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ یوں ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی شکل بن سکتی ہے' اس لیے حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پنجاب حکومت کے وزراء بھی بے تکی بیان بازی سے گریز کریں اور سارے معاملے کو غیر جانبدارانہ اور قانونی انداز میں آگے بڑھنے دیا جائے تاکہ اس سانحے کے اصل ذمے دار سامنے آسکیں۔
پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے اور ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں عام ہیں' ایسے حالات میں ملک کی اہم شخصیات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت ملک کی تقریباً ہر اہم اور بااثر شخصیت نے اپنی رہائش گاہوں کے باہر حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ یہ کوئی غلط بات بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری کو حفاظت کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ماڈل ٹائون میں ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ یا تحریک منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر رکاوٹیں ہٹانے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اگر عدالتی راستہ اختیار کیا جاتا اور وہاں سے رکاوٹیں ہٹانے کی منظوری لی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا' بہر حال اب اس سانحہ کی عدالتی اور انتظامی تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہیے' اس سانحہ پر سیاسی جماعتوں کو بھی جمہوری دائرے میں رہنا چاہیے اور گھیرائو جلائو کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت افہام و تفہیم کی اشد ضرورت ہے' قوم گھیرائو جلائو کی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی' دوسری جانب پنجاب حکومت کو بھی اپنے رویے اور طرز حکمرانی پر غور کرنا چاہیے' پولیس کو فری ہینڈ دینے کا ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔ اس معاملے کو سیاسی انداز میں بھی حل کیا جا سکتا تھا' مسلم لیگ ن کا کوئی وفد اگر تحریک منہاج القرآن کی قیادت سے ملاقات کرتا اور اسے رکاوٹوں کو ہٹانے کی ضرورت پر قائل کرتا تو بھی اس مسئلے کو باآسانی حل کیا جا سکتا' افسوس کسی نے ان امور پر توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ ایک سانحے کی صورت میں سامنے آگیا۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔